13/08/2026
14 اگست یوم احتساب
پاکستان کا مطلب کیا ؟
لا الہ الا اللہ .
گلی میں چھوٹے بچوں کی ٹولی پاکستان کی جھنڈیاں اٹھائے وطن کی محبت سے سرشار ہر فکر سے ازاد اپنے ازاد ملک کی شان میں نعرے لگاتے ہوئے گزر رہی تھی اور میں نمناک انکھوں سے ان کے جذبہ ایمانی کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی آزادی بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اس لفظ میں کئی معنی پنہاں ہیں اس کی گہرائی اور گیرائی کو وہی لوگ جان سکتے ہیں جنہوں نے غلامی کے اندھیروں میں زندگی گزاری ہو۔
یہی وجہ ہے کہ آج ملک کا بچہ بچہ آزادی کی سالگرہ بھرپور طریقے سے منا رہا ہے جوں جوں جشن ازادی کا دن قریب آ رہا ہے ملک کے چپے چپے سے قومی نغموں کی گونج مختلف پروگرامز کے انعقاد کی خبریں ارہی ہیں سبز ہلالی پرچم گھروں، دکانوں ،سرکاری عمارتوں گلیوں محلوں پر لہرا رہے ہیں اس جشن ازادی کے پیچھے جو محرکات تھے کیا ہم نے اپنے بچوں کو بتائے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے کتنی قربانیاں دے کر یہ مملکت خداداد حاصل کی 1906 میں مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے اپنی ایک سیاسی جماعت قائم کی اور ہندوؤں کی تنظیم کانگرس کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد شروع کر دی آہستہ آہستہ آزادی کا یہ مطالبہ شدت اختیار کر گیا انگریزوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کی اس متحد قوت کو توڑنے کی بہت کوششیں کیں، پولیس اور فوج نے ان کے پرامن جلوسوں پر گولیاں برسائیں ان کے سینوں کو سنگینوں سے چیرا اور ان کو جیل کی سنگین چار دیواری میں قید کیا لیکن ازادی کے متوالے بڑے صبر و تحمل کے ساتھ ساری مشکلات برداشت کرتے رہے لیکن مسلمان اپنے مذہب زبان اور تہذیب کو زندہ رکھنے کے لیے ہندوؤں سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ چنانچہ 1930 میں مسلم لیگ کے اجلاس میں علامہ اقبال نے ایک تجویز پیش کی اس تجویز کو پاکستان کے تصور کی بنیاد سمجھا جاتا ہے مسلم لیگ کے اس فیصلے کے بعد انگریز اور ہندو اس کوشش میں مصروف ہو گئے کہ مسلمانوں کا یہ تصور خواب بن کر رہ جائے لیکن قائد اعظم کی قیادت میں مسلمانوں نے عہد کیا کہ وہ پاکستان لے کر رہیں گے ۔
آخر 14 اگست 1947 کا دن بر صغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے اس دن بر صغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے اس دن ان علاقوں کے سات کروڑ مسلمانوں کو جن میں ان کی اکثریت تھی ، ایک ازاد مملکت تسلیم کر لیا گیا غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر سات کروڑ مسلمان اس قابل ہو گئے کہ اس سرزمین میں اپنے دینی شعار کے مطابق زندگی بسر کر سکیں
ہر طرف خوشی کی شادیانے بجنے لگے لیکن جس طرح یہ دن مسلمانوں کے لیے ایک شاندار مستقبل لے کر آیا تھا اسی طرح ان کے لیے آزمائشوں کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہوا جس کی تفصیل بڑی درد انگیز ہے پاکستان میں یوم ازادی کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور ہندوستان میں ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا جا رہا تھا درختوں سے لٹکی لاشیں ،سڑکوں پر سسکتی تڑپتی جانیں حد نگاہ سروں کا ڈھیر زمین کا چپہ چپہ خون سے لت پت، سر بازار عصمت تار تار قید و بند کی صعوبتوں کو خوش آمدید کہتے مجاہدین ایسے طوفانوں سے گزرنے کے بعد ملک کی پیشانی پر آزادی کا ستارہ چمکا تو ظلمتوں ، بےقراریوں اور خوف کے بادل چھٹ چکے تھے انگریز اپنی بساط لپیٹ چکے تھے۔
اب پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے قائم و دائم ہے اور انشاءاللہ رہے گا مگر اس کی بقا و استحکام کے لیے ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا 14 اگست کا دن یوم مسرت بھی ہے اور یوم احتساب بھی اگر ہمیں آزادی عزیز ہے تو اس کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر قوتوں کو وقف کرنا ہوگا آزادی کی حفاظت اور استحکام ہم سب کا مشترکہ نصب العین ہونا چاہیے 14 اگست کو جب ہم جشن ازادی مناتے ہیں تو ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ اس نے اب تک ازادی کے استحکام کے لیے اپنی بساط کے مطابق کتنا کام کیا ہے پاکستان اسلام کا ایک مضبوط قلعہ ہے جس پر تمام عالم اسلام کی نظریں لگی ہوئی ہیں اس کے تحفظ اور بقا کے لیے جدوجہد کرنا ہر پاکستان کا قومی فرض ہے اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو امین ۔
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی ہے پہچان ہم سب کا پاکستان
عالیہ عثمان
نارتھ کراچی