بلاگرز کی ڈائری

بلاگرز کی ڈائری اہلِ دل، اہلِ سخن، اہلِ نظر، اہلِ وفا
ان کے خد و خال کا نقشہ جماتا ہے قلم
(2)

14 اگست یوم احتساب پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ .گلی میں چھوٹے بچوں کی ٹولی پاکستان کی جھنڈیاں اٹھائے وطن کی مح...
13/08/2026

14 اگست یوم احتساب
پاکستان کا مطلب کیا ؟
لا الہ الا اللہ .
گلی میں چھوٹے بچوں کی ٹولی پاکستان کی جھنڈیاں اٹھائے وطن کی محبت سے سرشار ہر فکر سے ازاد اپنے ازاد ملک کی شان میں نعرے لگاتے ہوئے گزر رہی تھی اور میں نمناک انکھوں سے ان کے جذبہ ایمانی کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی آزادی بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اس لفظ میں کئی معنی پنہاں ہیں اس کی گہرائی اور گیرائی کو وہی لوگ جان سکتے ہیں جنہوں نے غلامی کے اندھیروں میں زندگی گزاری ہو۔
یہی وجہ ہے کہ آج ملک کا بچہ بچہ آزادی کی سالگرہ بھرپور طریقے سے منا رہا ہے جوں جوں جشن ازادی کا دن قریب آ رہا ہے ملک کے چپے چپے سے قومی نغموں کی گونج مختلف پروگرامز کے انعقاد کی خبریں ارہی ہیں سبز ہلالی پرچم گھروں، دکانوں ،سرکاری عمارتوں گلیوں محلوں پر لہرا رہے ہیں اس جشن ازادی کے پیچھے جو محرکات تھے کیا ہم نے اپنے بچوں کو بتائے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے کتنی قربانیاں دے کر یہ مملکت خداداد حاصل کی 1906 میں مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے اپنی ایک سیاسی جماعت قائم کی اور ہندوؤں کی تنظیم کانگرس کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد شروع کر دی آہستہ آہستہ آزادی کا یہ مطالبہ شدت اختیار کر گیا انگریزوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کی اس متحد قوت کو توڑنے کی بہت کوششیں کیں، پولیس اور فوج نے ان کے پرامن جلوسوں پر گولیاں برسائیں ان کے سینوں کو سنگینوں سے چیرا اور ان کو جیل کی سنگین چار دیواری میں قید کیا لیکن ازادی کے متوالے بڑے صبر و تحمل کے ساتھ ساری مشکلات برداشت کرتے رہے لیکن مسلمان اپنے مذہب زبان اور تہذیب کو زندہ رکھنے کے لیے ہندوؤں سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ چنانچہ 1930 میں مسلم لیگ کے اجلاس میں علامہ اقبال نے ایک تجویز پیش کی اس تجویز کو پاکستان کے تصور کی بنیاد سمجھا جاتا ہے مسلم لیگ کے اس فیصلے کے بعد انگریز اور ہندو اس کوشش میں مصروف ہو گئے کہ مسلمانوں کا یہ تصور خواب بن کر رہ جائے لیکن قائد اعظم کی قیادت میں مسلمانوں نے عہد کیا کہ وہ پاکستان لے کر رہیں گے ۔
آخر 14 اگست 1947 کا دن بر صغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے اس دن بر صغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے اس دن ان علاقوں کے سات کروڑ مسلمانوں کو جن میں ان کی اکثریت تھی ، ایک ازاد مملکت تسلیم کر لیا گیا غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر سات کروڑ مسلمان اس قابل ہو گئے کہ اس سرزمین میں اپنے دینی شعار کے مطابق زندگی بسر کر سکیں
ہر طرف خوشی کی شادیانے بجنے لگے لیکن جس طرح یہ دن مسلمانوں کے لیے ایک شاندار مستقبل لے کر آیا تھا اسی طرح ان کے لیے آزمائشوں کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہوا جس کی تفصیل بڑی درد انگیز ہے پاکستان میں یوم ازادی کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور ہندوستان میں ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا جا رہا تھا درختوں سے لٹکی لاشیں ،سڑکوں پر سسکتی تڑپتی جانیں حد نگاہ سروں کا ڈھیر زمین کا چپہ چپہ خون سے لت پت، سر بازار عصمت تار تار قید و بند کی صعوبتوں کو خوش آمدید کہتے مجاہدین ایسے طوفانوں سے گزرنے کے بعد ملک کی پیشانی پر آزادی کا ستارہ چمکا تو ظلمتوں ، بےقراریوں اور خوف کے بادل چھٹ چکے تھے انگریز اپنی بساط لپیٹ چکے تھے۔
اب پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے قائم و دائم ہے اور انشاءاللہ رہے گا مگر اس کی بقا و استحکام کے لیے ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا 14 اگست کا دن یوم مسرت بھی ہے اور یوم احتساب بھی اگر ہمیں آزادی عزیز ہے تو اس کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر قوتوں کو وقف کرنا ہوگا آزادی کی حفاظت اور استحکام ہم سب کا مشترکہ نصب العین ہونا چاہیے 14 اگست کو جب ہم جشن ازادی مناتے ہیں تو ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ اس نے اب تک ازادی کے استحکام کے لیے اپنی بساط کے مطابق کتنا کام کیا ہے پاکستان اسلام کا ایک مضبوط قلعہ ہے جس پر تمام عالم اسلام کی نظریں لگی ہوئی ہیں اس کے تحفظ اور بقا کے لیے جدوجہد کرنا ہر پاکستان کا قومی فرض ہے اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو امین ۔
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی ہے پہچان ہم سب کا پاکستان
عالیہ عثمان
نارتھ کراچی

مہنگائی اور ٹیکسز کا بوجھ اب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔۔آج کا عام پاکستانی شدید معاشی بحران کی چکی میں پس رہا ہے۔ مہنگائی...
07/08/2026

مہنگائی اور ٹیکسز کا بوجھ
اب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔۔
آج کا عام پاکستانی شدید معاشی بحران کی چکی میں پس رہا ہے۔ مہنگائی کی لہر نے غریب اور مڈل کلاس طبقے سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ چینی، پتی، آٹا اور چاول جیسی بنیادی اشیاءِ خورونوش اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ کچن کا بجٹ سنبھالنا اب ایک ناممکن چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے میں یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے۔۔کہ ہم کب تک خاموشی سے یہ ظلم سہتے رہیں گے؟عوام پریشان ہے کہ حکومت پیٹرول کی قیمتیں تو مسلسل بڑھا رہی ہے۔ جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ شہریوں کو بنیادی سہولیات، سیکیورٹی، صحت اور تعلیم میسر نہیں ہیں۔ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جو اپنی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔اسی معاشی ناانصافی اور حکومتی بے حسی کے خلاف اب عوام میں بیداری کی لہر دوڑ رہی ہے۔ اپنے حقوق کی حفاظت اور اس نظام کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے آج 7 اگست کو ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ چترال سے لے کر کراچی تک، تمام مظلوم طبقات اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ آج شام 4 بجے سڑکیں بند کر کے اور پہیہ جام کر کے پرامن احتجاج ریکارڈ کروایا جا رہا ہے۔ یہ وقت اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکلنے اور حکمرانوں کو عوامی طاقت کا احساس دلانے کا ہے۔
عشرت زاہد


07/08/2026
*نکلوگے تو مسئلہ حل ہوگا*  مہنگائی کے خلاف عوامی جنگ کا آغاز۔۔۔۔۔پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہ...
07/08/2026

*نکلوگے تو مسئلہ حل ہوگا*

مہنگائی کے خلاف عوامی جنگ کا آغاز۔۔۔۔۔
پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی ایک خواب بن چکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور اس پر مستزاد "ظالمانہ پٹرولیم لیوی" نے غریب اور سفید پوش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے، اور عوام کے پاس گھروں میں بیٹھ کر کڑھنے کے بجائے سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔اسی سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر آج ملک بھر میں ایک منظم اور شدید احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں، بلکہ اس پسماندہ عوام کی آواز ہے جو حکومتی نااہلی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکی ہے۔ پاکستان بھر کی 510 اہم شاہراہوں پر عوام کا جمع ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب لوگ اپنے حقوق کے لیے بیدار ہو چکے ہیں۔روشنیوں کے شہر کراچی میں اس تاریخی مہم کا آغاز شام 4 بجے ہوگا، جہاں مختلف مقامات سے نکلنے والے عوامی قافلے مزارِ قائد پر جمع ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ یاد رکھیے، یہ احتجاج محض روایتی سیاست نہیں بلکہ غریب عوام کے جینے کے حق کی جنگ ہے۔ اگر ہم آج اپنے حقوق کے لیے باہر نہ نکلے، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کا یہ سمندر حکمرانوں کو اپنی ظالمانہ معاشی پالیسیاں بدلنے پر مجبور کر دے۔
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر بھاری سیلز ٹیکس اور ظالمانہ پٹرولیم لیوی عائد کر کے پٹرول کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ اس بے جا ٹیکسیشن کی وجہ سے ہر بنیادی ضرورت کی چیز مہنگی ہو چکی ہے جس نے غریب کا جینا محال کر دیا ہے۔ اب عوام کے پاس اس معاشی استحصال اور حکومتی اقدامات کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
عشرت زاہد

پٹرولیم لیوی ختم کرو—عوام کو ریلیف دو!پٹرولیم لیوی کا بوجھ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا؛ اس سے ٹرانسپورٹ، بجلی، خورا...
06/08/2026

پٹرولیم لیوی ختم کرو—عوام کو ریلیف دو!
پٹرولیم لیوی کا بوجھ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا؛ اس سے ٹرانسپورٹ، بجلی، خوراک اور روزمرہ کی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی اور کم آمدن کے بحران سے دوچار ہیں، لہٰذا حکومت فوری طور پر پٹرولیم لیوی ختم کرے، قیمتوں کا شفاف نظام بنائے اور عوام کو حقیقی ریلیف دے۔


پٹرولیم لیوی نامنظور، بڑھتی مہنگائی ناقابلِ برداشت!گھریلو بجٹ ٹوٹ چکا ہے، راشن، دوائی، تعلیم اور آمدورفت سب مہنگا۔ مہنگا...
02/08/2026

پٹرولیم لیوی نامنظور، بڑھتی مہنگائی ناقابلِ برداشت!
گھریلو بجٹ ٹوٹ چکا ہے، راشن، دوائی، تعلیم اور آمدورفت سب مہنگا۔ مہنگائی کا سب سے بڑا بوجھ خواتین اٹھاتی ہیں، کیونکہ گھر کا حساب، خوراک اور بچوں کی ضروریات اکثر انہی کے حصے میں آتی ہیں۔
3 اگست کو جماعت اسلامی خواتین کا خواتین مارچ محض احتجاج نہیں، اپنی آواز، اپنی عزتِ نفس اور اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے میدان میں اترنا ہے۔
آواز اٹھائیں، شریک ہوں، اور کہیں:
"پٹرولیم لیوی ختم کرو، مہنگائی کا حل نکالو!"

02/08/2026

*مہنگائی میں دفن... ماں کے ارمان*

کہتے ہیں ماں کے ارمان کبھی مرتے نہیں، بس دب جاتے ہیں۔ اور آج کے دور میں مہنگائی نے ان ارمانوں پر مٹی ڈال دی ہے۔
ماں وہ ہستی ہے جو خود پرانا جوڑا پہن لیتی ہے مگر بچوں کے لیے نئے کپڑے ضرور لاتی ہے۔ جو خود بھوکی سو جاتی ہے مگر بچوں کی پلیٹ بھر دیتی ہے۔ لیکن جب مہنگائی کا طوفان آتا ہے تو سب سے پہلے ماں اپنے ارمانوں کا گلا گھونٹتی ہے۔
پہلے ماں سوچتی تھی عید پر بیٹی کے لیے نئے جوتے لوں گی۔ آج وہ سوچتی ہے بجلی کا بل کیسے دوں گی؟
پہلے وہ مہینے میں ایک بار بچوں کو باہر کھانا کھلاتی تھی۔ آج وہ بازار جاتے ہوئے بھی 10 بار حساب لگاتی ہے۔
سب سے بڑا دکھ تب ہوتا ہے جب بچہ ضد کرے "امی مجھے یہ کھلونا چاہیے" اور ماں کی آنکھوں میں پانی آ جائے۔ وہ مسکرا کر کہہ دیتی ہے "بیٹا اگلے مہینے لے دیں گے"۔ مگر وہ اگلا مہینہ کبھی نہیں آتا۔ کیونکہ پیٹرول بڑھ جاتا ہے، گیس بڑھ جاتی ہے، دوا مہنگی ہو جاتی ہے۔
مہنگائی نے ماں سے اس کا سب سے خوبصورت حق چھین لیا ہے - "اپنے بچوں کو خوش دیکھنے کا ارمان"۔ آج ماں بازار میں سبزی کے ریٹ پوچھ کر واپس آ جاتی ہے۔ آج ماں بیٹی کی شادی کے زیور کا خواب دل میں ہی دفن کر دیتی ہے۔
حکمرانوں! آپ کو نظر نہیں آتا؟ یہ مہنگائی صرف قیمتوں کو نہیں بڑھا رہی، یہ ماؤں کے خوابوں کو دفن کر رہی ہے۔ جس گھر کی ماں کے ارمان مر جائیں، اس قوم کا مستقبل کیسے زندہ رہے گا؟
ہمیں روٹی نہیں، عزت چاہیے۔ ہمیں سبسڈی نہیں، انصاف چاہیے۔ تاکہ ہر ماں فخر سے کہہ سکے "میرے بچے خوش ہیں۔
مہنگائی نے بہت کچھ چھینا، لیکن اگر ماں کے ارمان چھین لیے تو سمجھو ہم نے اپنا سب کچھ ہار دیا۔

*(ستارہ سلیم)*


آج پودا لگائیں، کل کی گرمی کم کریں۔کنکریٹ کا جنگل نہیں، سبز کراچی چاہیے! درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ آج ہم پودا لگائیں گے،...
01/08/2026

آج پودا لگائیں، کل کی گرمی کم کریں۔کنکریٹ کا جنگل نہیں، سبز کراچی چاہیے! درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ آج ہم پودا لگائیں گے، کل یہ سایہ، ٹھنڈک اور صاف ہوا دے گا۔

Grow Green Karachi

صدقہ جاریہ"نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ...
31/07/2026

صدقہ جاریہ

"نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اسکو لگانے کی قدرت رکھتا ہو تو اسے لگادے " کراچی جیسے میٹرو پولیٹن شہر میں دیگر بڑے مسائل کے ساتھ ہی ایک سنگین مسئلہ درختوں کا نہ ہونا ہے۔۔ جس کے باعث ماحولیاتی آلودگی، جنگلی حیاتیات کو خطرہ،سیلاب و بارش کے پانی کے نکاسی کا مسئلہ ،صحت کے مسائل جن میں محلق بیماریاں خصوصا سانس کی بیماریوں کا خطرہ اور بھی بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔
درخت انسانی آبادیوں کے لیے نہ صرف سایہ دار ہوتے ہیں بلکہ زمین اور اس میں رہنے والے باشندوں کو بھی تقویت پہنچاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جو ممالک درخت لگانے اور ان کی حفاظت پر توجہ دیتے ہیں، وہ زیادہ صاف، صحت مند، خوشحال اور ماحول دوست ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہر شہری کو شجرکاری میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ دین اسلام میں بھی درخت لگانے کی تاکید کی گئی ہے ،انسان کے مرنے کے بعد بھی اسکا لگایا ہوا درخت اسکے لیے صدقہ جاریہ ہوتا ہے،
شہروں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا نہ صرف ماحول کو بہتر بناتا ہے بلکہ شہریوں کی صحت، آرام اور مستقبل کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ ہماری زمہ داری ہے کہ اپنے شہر کو آلودگی سے پاک کریں اور اس صدقہ جاریہ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں۔
ماریہ حسان

پورا بھروسہ اور یقین رکھتے ہوئے اپنے تمام معاملات رحمٰن کے سپرد کر دو، کیونکہ عرش کے رب کے ہاں لگائی گئی امیدیں کبھی خاک...
12/07/2026

پورا بھروسہ اور یقین رکھتے ہوئے اپنے تمام معاملات رحمٰن کے سپرد کر دو، کیونکہ عرش کے رب کے ہاں لگائی گئی امیدیں کبھی خاک میں نہیں ملتیں!

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بلاگرز کی ڈائری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to بلاگرز کی ڈائری:

Shortcuts

Share