Qissa Go

Qissa Go 🌸 قصہ گو 🌸
> دلچسپ کہانیاں، زندگی کے سبق اور وہ قصے جو آپ کی سوچ بدل دیں۔
> ✨ مزاح بھی، نصیحت بھی! ✨
> ہمارے ساتھ جڑئیے اور اخلاقیات کے سفر کا حصہ بنیں۔

ایک جنگل میں ایک بہت ہی فضول خرچ بندر رہتا تھا۔ وہ بڑا شیخی باز تھا اور ہر وقت دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھ...
17/02/2026

ایک جنگل میں ایک بہت ہی فضول خرچ بندر رہتا تھا۔ وہ بڑا شیخی باز تھا اور ہر وقت دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ ایک دن اسے جنگل میں ایک ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار آئینہ دیکھا تھا، سو وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔
جیسے ہی اس نے آئینے میں جھانکا، اسے اپنا ہی عکس نظر آیا۔ بندر سمجھا کہ یہ "دوسرا بندر" ہے جو اسے گھور رہا ہے۔
فضول خرچ بندر غصے سے بولا: "اوئے! تو کون ہے جو مجھے آنکھیں دکھا رہا ہے؟"
آئینے میں موجود عکس نے بھی ویسے ہی منہ بنایا، کیونکہ وہ خود اس کا عکس تھا۔
بندر کو مزید غصہ آ گیا۔ اس نے دانت نکالے اور چھلانگ مار کر آئینے پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ جب اس کا ہاتھ آئینے سے ٹکرایا، تو اسے درد ہوا اور آئنہ تھوڑا سا ہل کر اس کے ہاتھ سے گر گیا۔
آئینہ زمین پر گرا اور "ٹٹاخ" کی آواز کے ساتھ کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ اب بندر نے دیکھا کہ ہر ٹکڑے میں ایک "دوسرا بندر" اسے گھور رہا ہے۔ وہ بہت پریشان ہوا۔
بندر نے سوچا: "یا اللہ! ایک تو پہلے ہی بہت تنگ کر رہا تھا، اب تو سینکڑوں بندر میرے دشمن بن گئے ہیں!"
جنگل کے ایک عقل مند بوڑھے بندر نے یہ سارا منظر دیکھ لیا تھا۔ وہ مسکرایا اور فضول خرچ بندر کے پاس آیا۔
بوڑھے بندر نے کہا:
"اے نادان! یہ جتنے بندر تجھے آئینے کے ٹکڑوں میں نظر آ رہے ہیں، یہ سب تو 'تو' ہی ہے۔ جب تک تو نے اپنے غصے اور جہالت کی وجہ سے خود کو ایک آئینہ سمجھ کر دیکھا، تب تک تجھے ایک ہی دشمن نظر آیا۔ لیکن جب تو نے خود ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، تو اب تیرے سینکڑوں دشمن بن گئے ہیں۔ اصل مسئلہ 'آئینے' میں نہیں تھا، بلکہ 'تیرے اندر' تھا۔ اگر تو آرام سے دیکھتا، تو جان جاتا کہ یہ تو تیرا ہی عکس تھا۔"
فضول خرچ بندر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
💡 نتیجہ (Lesson)
ہماری سوچ اور رویہ اکثر ہمارے ارد گرد کے ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کو غصے اور نفرت سے دیکھتے ہیں، تو ہمیں ہر طرف دشمن ہی نظر آتے ہیں۔ اگر ہم اپنے اندر کے منفی جذبات کو ختم نہیں کرتے، تو وہ کئی گنا بڑھ کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اپنے اندر کی اصلاح کریں، باہر کی دنیا خود بخود ٹھیک ہو جائے گی! 💖 self-reflection 🧘 peace
#عکاسی #رویہ

ایک گاؤں میں ایک کسان تھا جس کے کھیت میں ہر سال چڑیاں آ کر فصل خراب کرتی تھیں۔ کسان بہت پریشان تھا، اس نے سوچا کہ اس بار...
17/02/2026

ایک گاؤں میں ایک کسان تھا جس کے کھیت میں ہر سال چڑیاں آ کر فصل خراب کرتی تھیں۔ کسان بہت پریشان تھا، اس نے سوچا کہ اس بار وہ چڑیوں کو بھگانے کا پکا انتظام کرے گا۔
​ایک دن کسان نے اپنے بیٹے سے کہا: "بیٹا! چڑیوں کا بہت شور ہو گیا ہے۔ کل ہم جال لگائیں گے تاکہ یہ سب پکڑ سکیں۔"
​کھیت میں موجود چڑیوں نے یہ بات سن لی۔ ان کی سردار چڑیا نے کہا:
"گھبراؤ مت! جب تک کسان دوسروں پر بھروسہ کر رہا ہے، ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔"
​اگلے دن کسان اور بیٹا جال لگانے آئے۔ لیکن وہ بہت سست تھے، سارا دن لگا دیا اور جال مکمل نہیں ہوا۔ چڑیوں نے یہ دیکھا اور اطمینان سے بیٹھی رہیں۔
​دوسرے دن کسان نے اپنے پڑوسی سے مدد مانگی۔ "بھائی! میرے ساتھ چلو اور جال لگانے میں مدد کرو۔" پڑوسی نے حامی بھر لی لیکن عین وقت پر اس نے آنا مناسب نہ سمجھا اور وعدہ خلافی کر دی۔
​سردار چڑیا نے کہا:
"اب بھی پریشان نہ ہو! کسان ابھی بھی دوسروں کی مدد کا انتظار کر رہا ہے، اسے خود کچھ کرنے کی فکر نہیں۔"
​تیسرے دن کسان اکیلا کھیت میں آیا۔ وہ تھکا ہارا تھا، اس نے سوچا کہ اب مجھے خود ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ اس نے جلدی سے جال مکمل کیا اور پکے ارادے سے چڑیوں کو پکڑنے کی تیاری کی۔
​سردار چڑیا نے جیسے ہی یہ دیکھا، اس نے فوراً تمام چڑیوں کو آواز دی:
"بھگو! بھگو! اب اصلی خطرہ ہے! جب تک کسان دوسروں پر انحصار کر رہا تھا، ہمیں کوئی فکر نہیں تھی، کیونکہ دوسروں پر بھروسہ کرنے والوں کا کام کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ لیکن جب اس نے خود کام کرنے کا پکا ارادہ کر لیا ہے، تو اب وہ کچھ بھی کر سکتا ہے! اس سے پہلے کہ وہ مضبوط جال بچھا لے، یہاں سے نکل لو!"
​تمام چڑیاں فوراً اڑ گئیں اور کسان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔
​💡 نتیجہ (Lesson)
​کام مکمل کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے 'خود اعتمادی' اور 'پختہ ارادہ' سب سے ضروری ہے۔ دوسروں پر مکمل انحصار کرنا اکثر ناکامی کی وجہ بنتا ہے۔ جب انسان خود کوئی کام کرنے کا پکا ارادہ کر لے تو وہ مشکل سے مشکل ہدف بھی حاصل کر سکتا ہے۔ اپنے کام خود کریں، کسی اور کا انتظار نہ کریں! 💪 self-reliance 🎯
​ #ارادہ #عمل #کامیابی

ایک دور دراز گاؤں میں ایک سادہ لوح شخص رہتا تھا جس کا نام کالو تھا۔ وہ بہت غریب تھا، لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی: وہ ہم...
17/02/2026

ایک دور دراز گاؤں میں ایک سادہ لوح شخص رہتا تھا جس کا نام کالو تھا۔ وہ بہت غریب تھا، لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی: وہ ہمیشہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ ایک "بادشاہ" ہے! وہ ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بیٹھ کر حکم جاری کرتا، اور اپنی ٹوٹی ہوئی جھونپڑی کو "محل" کہتا تھا۔
گاؤں والے اسے پاگل سمجھتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے۔
"ارے او بادشاہ سلامت! آج کس ملک کو فتح کرنے کا ارادہ ہے؟" کوئی پوچھتا۔
"بادشاہ جی! آپ کے محل میں کون سا نیا ہیرے کا تخت آ رہا ہے؟" کوئی اور چھیڑتا۔
کالو مسکرا کر جواب دیتا: "بہت جلد! بس ذرا رعایا کا انتظام دیکھ لوں۔"
ایک دن، گاؤں میں ایک عقل مند مسافر آیا۔ اس نے کالو کے بارے میں سنا اور اس سے ملنے گیا۔ مسافر نے دیکھا کہ کالو ایک پھٹے پرانے کپڑوں میں، ٹوٹی جھونپڑی میں بیٹھا ہوا ہے، لیکن اس کے چہرے پر اطمینان اور ایک عجیب سی شان تھی۔
مسافر نے پوچھا: "حضور! آپ بادشاہ ہیں، لیکن آپ کے پاس تو کوئی فوج نہیں، کوئی خزانہ نہیں، اور یہ آپ کا محل بھی... کچھ خاص نہیں!"
کالو مسکرایا اور بولا:
"اے مسافر! خزانہ اور فوج بادشاہت کی علامت ضرور ہیں، لیکن وہ بادشاہت کے لیے ضروری نہیں۔ میرا خزانہ سکون ہے اور میری فوج صبر ہے۔ جب مجھے کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے، اور وہ مجھے نہیں ملتی، تو میں یہ نہیں سوچتا کہ میں غریب ہوں۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ 'ایک بادشاہ کو یہ چھوٹی سی چیز بھلا کیا ضرورت ہے!' بس پھر ہر خواہش ختم ہو جاتی ہے، اور میں ہر حال میں مطمئن رہتا ہوں۔ یہی میری بادشاہت ہے!"
مسافر حیران رہ گیا۔ کالو نے مزید کہا:
"جن لوگوں کے پاس سب کچھ ہے لیکن وہ کسی چیز پر قناعت نہیں کرتے، وہ اصل میں فقیر ہیں۔ اور جو شخص غریب ہو کر بھی ہر حال میں خوش اور مطمئن رہے، وہ حقیقت میں بادشاہ ہے! میری جھونپڑی میری سلطنت ہے اور میرا اطمینان میرا تخت ہے۔"
مسافر کو کالو کی بات سمجھ آ گئی اور وہ بہت متاثر ہوا۔ اس نے گاؤں والوں کو بتایا کہ کالو پاگل نہیں، بلکہ ان سب سے زیادہ سمجھدار ہے۔ گاؤں والوں نے بھی کالو کا مذاق اڑانا چھوڑ دیا اور اس کی عزت کرنے لگے۔
💡 نتیجہ (Lesson)
حقیقی بادشاہت دولت یا طاقت میں نہیں، بلکہ قناعت، اطمینان اور اپنے حالات پر خوش رہنے میں ہے۔ جو شخص اپنے پاس موجود چیزوں پر شکر ادا کرتا ہے اور مزید کی لالچ نہیں کرتا، وہ درحقیقت سب سے امیر اور پرسکون ہے۔ باطنی سکون بیرونی شان و شوکت سے زیادہ قیمتی ہے! 👑✨
#قناعت #سکون #اطمینان #خوشی #بادشاہت

ایک گاؤں میں ایک چالاک زمیندار تھا جسے اپنی دولت اور اثر و رسوخ پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے...
17/02/2026

ایک گاؤں میں ایک چالاک زمیندار تھا جسے اپنی دولت اور اثر و رسوخ پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی تاک میں رہتا تھا۔ اس نے ایک غریب کسان کی زمین پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔
​زمیندار نے ایک "جعلی گواہ" تیار کیا جو عدالت میں جھوٹی گواہی دے کہ یہ زمین دراصل زمیندار کی ہے۔ غریب کسان پریشان تھا کیونکہ اس کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا اور اسے ڈر تھا کہ وہ اپنی آبائی زمین کھو دے گا۔
​معاملہ گاؤں کے قاضی کے دربار میں پیش ہوا۔ قاضی صاحب بہت نیک اور عقل مند تھے۔ انہوں نے دونوں فریقین کی بات سنی۔ جب جعلی گواہ گواہی دینے کے لیے کھڑا ہوا تو اس نے بڑے اعتماد سے زمیندار کے حق میں جھوٹی گواہی دی۔
​قاضی صاحب خاموشی سے سنتے رہے۔ جب گواہی ختم ہوئی تو قاضی صاحب نے گواہ سے کہا:
"جاؤ، باہر دھوپ میں اس دیوار کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، میں تمہیں تھوڑی دیر بعد بلاؤں گا۔"
​گواہ مطمئن ہو کر باہر جا کر کھڑا ہو گیا۔ پھر قاضی صاحب نے دوسرے گاؤں والوں اور کسان سے مزید سوالات پوچھے، اور اس دوران وہ ہر 15 منٹ بعد اسی گواہ کو باہر سے بلاتے اور پھر تھوڑی دیر بات کر کے دوبارہ باہر کھڑا کر دیتے۔ یہ سلسلہ دو گھنٹے تک چلتا رہا۔
​جب قاضی صاحب نے فیصلہ سنانے کا وقت آیا، تو انہوں نے جعلی گواہ کو بلایا اور کہا:
"اب تم بتاؤ، تم نے پہلی بار جو گواہی دی تھی، وہ کیا تھی؟ اسے دوبارہ دہراؤ۔"
​گواہ بیچارہ دھوپ میں کھڑے کھڑے تھک چکا تھا اور اتنی دیر بعد اپنی جھوٹی کہانی کے نکات بھولنے لگا تھا۔ اس نے ہکلاتے ہوئے گواہی دوبارہ دی، لیکن اس میں کئی اہم تبدیلیاں اور تضادات تھے۔ اس کی کہانی پہلے سے بالکل مختلف تھی۔
​قاضی صاحب نے مسکرا کر کہا:
"ایک سچی بات ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے، چاہے اسے کتنی ہی بار کیوں نہ دہرایا جائے۔ لیکن ایک جھوٹی کہانی زیادہ دیر تک اپنے اصلی روپ میں نہیں رہ سکتی۔ اسے یاد رکھنا پڑتا ہے، اور جھوٹا شخص ایک وقت آتا ہے جب سب کچھ گڑبڑ کر دیتا ہے!"
​قاضی صاحب نے جعلی گواہ کو جھوٹ بولنے پر سزا سنائی اور زمیندار کا فریب پکڑا گیا۔ غریب کسان کو اس کی زمین واپس مل گئی اور زمیندار کو اپنے گناہوں کا حساب دینا پڑا۔
​💡 نتیجہ (Lesson)
​سچ کی بنیاد ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے، جبکہ جھوٹ کی بنیاد ریت کی دیوار کی طرح ہوتی ہے جو کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ سچائی کو چھپانے کی کوشش انسان کو عارضی طور پر فائدہ دے سکتی ہے، لیکن دیرپا کامیابی اور سکون صرف سچ بولنے اور ایمانداری میں ہے۔ اپنی باتوں اور عمل میں سچے رہیں، یہی حقیقی کامیابی ہے! ✅ honesty ⚖️ truth
​ #سچائی #ایمانداری

ایک گاؤں میں دو دوست تھے، احمد اور محمود۔ ان کی دوستی مثالی تھی، لیکن ایک مسئلہ تھا: محمود کو سننے میں تھوڑی مشکل تھی، ا...
15/02/2026

ایک گاؤں میں دو دوست تھے، احمد اور محمود۔ ان کی دوستی مثالی تھی، لیکن ایک مسئلہ تھا: محمود کو سننے میں تھوڑی مشکل تھی، اور احمد کا لہجہ قدرے تیز تھا۔ اکثر ان کی باتوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی تھیں۔
ایک دن احمد کھیت سے واپس آ رہا تھا کہ اس نے محمود کو دیکھا جو اپنے گھر کی چھت پر کچھ کام کر رہا تھا۔ احمد کو محمود کی فصل کے بارے میں پوچھنا تھا۔
احمد نے نیچے سے آواز دی: "محمود! او محمود! کیسی ہے تیری فصل؟ کیا کیڑے پڑ گئے ہیں اس میں؟" (احمد نے دراصل پوچھنا تھا: "کیسی ہے تیری فصل؟ کیا کیڑے مار دوا ڈالی ہے اس میں؟" لیکن اس کا لہجہ تیز تھا اور محمود کو پورا سنائی نہ دیا۔)
محمود نے اوپر سے سنا، "کیڑے پڑ گئے ہیں اس میں؟" اسے لگا احمد مذاق اڑا رہا ہے یا اس کی فصل کا برا چاہ رہا ہے۔ وہ غصے میں لال پیلا ہو گیا اور چیخ کر بولا:
"او احمد! تو چاہتا کیا ہے؟ تجھے میری خوشی کیوں برداشت نہیں ہوتی؟ تو نے خود ہی میرے کھیت میں کیڑے ڈالے ہوں گے!"
احمد حیران رہ گیا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس نے دوبارہ زور سے کہا: "میں تو پوچھ رہا تھا کہ تو نے کیڑے مار دوا ڈالی ہے یا نہیں؟"
لیکن محمود کو صرف "کیڑے مار" سنائی دیا، اور اس نے سمجھا احمد اسے مارنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ وہ مزید غصے میں آ گیا اور اوپر سے ایک پتھر اٹھا کر احمد کی طرف پھینک دیا۔
احمد کو پتھر لگا اور وہ گر پڑا۔ وہ اٹھا اور سیدھا تھانے چلا گیا اور محمود کے خلاف شکایت درج کروا دی۔ پولیس آئی اور محمود کو پکڑ کر لے گئی، حالانکہ اسے معلوم بھی نہ تھا کہ ہوا کیا ہے۔
جب دونوں کو قاضی کے سامنے پیش کیا گیا تو قاضی نے پوری بات سنی۔ احمد نے اپنی بات بتائی، اور محمود نے اپنی بات۔ قاضی نے سر پیٹ لیا اور کہا:
"تم دونوں کی دوستی اس لیے خراب ہوئی کہ ایک کو سننے میں مشکل تھی اور دوسرے کو اپنی بات صحیح طریقے سے سمجھانے میں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی نے بات پوری سنی ہی نہیں!"
💡 نتیجہ (Lesson)
سننے اور سمجھنے میں فرق ہوتا ہے! اکثر غلط فہمیاں اس لیے پیدا ہوتی ہیں کیونکہ ہم بات کو غور سے نہیں سنتے یا اسے اپنے انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہمیشہ پوری بات سنیں اور اسے اچھی طرح سمجھیں، ورنہ چھوٹی سی بات بھی تعلقات میں زہر گھول سکتی ہے۔ صبر اور توجہ سے سننا ہی بہت سی مشکلات کا حل ہے! 👂🤝
#سماعت #رابطہ #دوستی

ایک گاؤں میں ایک چکنا چپڑا شکاری آیا۔ وہ بڑا چالاک تھا اور شکار کرنے کے بجائے اپنی باتوں سے سادہ لوح لوگوں کو پھنسایا کر...
15/02/2026

ایک گاؤں میں ایک چکنا چپڑا شکاری آیا۔ وہ بڑا چالاک تھا اور شکار کرنے کے بجائے اپنی باتوں سے سادہ لوح لوگوں کو پھنسایا کرتا تھا۔ اس کی نظر گاؤں کے قریب ایک جنگل میں موجود بندروں کے ایک گروہ پر پڑی۔
شکاری نے دیکھا کہ بندر درختوں پر شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کی نقالی کر رہے ہیں۔ شکاری کے ذہن میں ایک چال سوجھی۔ وہ گاؤں کے لوگوں کے پاس گیا اور کہنے لگا:
"میرے پاس ایک ایسا جادوئی باجا ہے جسے بجانے سے بندر درختوں سے نیچے آ جائیں گے اور بالکل انسانوں کی طرح ناچیں گے!"
گاؤں والے حیران رہ گئے اور اس پر ہنسنے لگے۔ لیکن شکاری نے پُر اعتماد لہجے میں کہا: "جسے یقین نہ آئے وہ کل صبح میرے ساتھ چلے، میں اسے کرتب دکھاؤں گا۔"
اگلے دن کچھ گاؤں والے شکاری کے ساتھ جنگل گئے اور چھپ کر بیٹھ گئے۔ شکاری نے ایک ڈرامہ رچایا۔ اس نے زور زور سے ایک بے سُری آواز نکالی جیسے کوئی باجا بج رہا ہو۔ پھر اس نے خود ہی ادھر ادھر کودنا شروع کر دیا جیسے بندر ناچ رہا ہو۔
اوپر درختوں پر بیٹھے بندر یہ سب دیکھ رہے تھے۔ ان کا سردار، جو بہت 'سمجھدار' سمجھا جاتا تھا، نیچے کود آیا اور باقی بندروں سے کہنے لگا:
"دیکھو! یہ آدمی کتنا بیوقوف ہے، یہ ہماری نقل اتار رہا ہے۔ ہم بھی اس کی نقل اتارتے ہیں۔ چلو سب نیچے آ کر ناچتے ہیں اور اسے دکھاتے ہیں کہ نقل کیسے اتاری جاتی ہے!"
بندر ایک ایک کر کے درختوں سے نیچے اتر آئے اور شکاری کے ساتھ وہی الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگے۔ شکاری نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور اپنے جال پھیلا دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی بندر جال میں پھنس گئے۔ گاؤں والے بھی حیران رہ گئے کہ یہ کیا ہو گیا۔
بندروں کا سردار جو ابھی تک آزاد تھا، اس نے شکاری کی طرف دیکھا اور پوچھا:
"یہ کیا دھوکہ ہے؟ ہم تو صرف تمہاری نقل اتار رہے تھے!"
شکاری ہنسا اور بولا:
"او نادان بندروں کے سردار! تمہیں کیا لگتا ہے کہ انسان اتنے بیوقوف ہوتے ہیں کہ تمہیں بغیر کسی فائدے کے ناچتے ہوئے دکھائیں؟ میں تمہیں صرف اس لیے ناچتا دیکھنا چاہتا تھا تاکہ تمہیں جال میں پھنسا سکوں۔ ہر اس بات پر یقین نہ کرو جو آنکھوں کو خوشگوار لگے، یا جو تمہاری نقل اتار کر تمہیں ورغلائے!"
بندر سردار شرمندہ تھا اور پھنسے ہوئے بندروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔
💡 نتیجہ (Lesson)
ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی! کسی بھی دلکش بات یا بظاہر فائدہ مند موقع پر فوراً یقین نہ کریں، خاص طور پر جب وہ آپ کی انا کو تسکین دے رہا ہو۔ کبھی کبھی دوسروں کا "آپ کی تعریف کرنا" یا "آپ کی طرح بننے کا دکھاوا کرنا" دراصل آپ کو جال میں پھنسانے کی ایک چال ہوتی ہے۔ ہر بات پر اندھا یقین نہ کریں اور عقل استعمال کریں! 🧠❌
#دھوکہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نائی (حجام) کے پاس ایک بکری تھی۔ وہ بکری کو بہت عزیز رکھتا تھا اور اسے روزانہ اپنے ہاتھوں سے چ...
14/02/2026

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نائی (حجام) کے پاس ایک بکری تھی۔ وہ بکری کو بہت عزیز رکھتا تھا اور اسے روزانہ اپنے ہاتھوں سے چارہ ڈالتا تھا۔ بکری بھی نائی سے بہت مانوس تھی۔
ایک دن نائی کا دل کیا کہ بکری کو اپنے ساتھ دکان پر لے جائے تاکہ اسے بھی گاہکوں سے گپ شپ کرنے کا موقع ملے۔ بکری دکان پر بیٹھی رہتی اور ہر آتے جاتے شخص کو عجیب نظروں سے دیکھتی۔
ایک گاہک آیا، نائی نے اس کے بال کاٹے، اور باتوں باتوں میں بکری کو مخاطب کر کے بولا:
"کیوں بھئی بکری رانی! آج میں نے کیسا کام کیا؟ میرا گاہک خوش ہوا یا نہیں؟"
بکری نے فوراً 'میں میں' کیا، جس کا مطلب تھا "بہت اچھا!"
گاہک حیران رہ گیا کہ بکری نے کیسے نائی کی بات کا جواب دیا۔ اس نے ایک اور سوال کیا، اور بکری نے پھر 'میں میں' کر کے جواب دیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ شہر میں ایک ایسی بکری ہے جو انسانوں کی بات سمجھتی ہے اور جواب بھی دیتی ہے۔
بات بادشاہ سلامت تک پہنچی۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ فوراً اس نائی اور اس کی بولنے والی بکری کو دربار میں پیش کیا جائے۔ نائی بہت خوش ہوا کہ اب وہ امیر ہو جائے گا، کیونکہ بادشاہ اسے ضرور انعام دے گا۔
دربار میں ہجوم تھا۔ بادشاہ نے نائی سے کہا کہ وہ بکری سے سوال پوچھے تاکہ وہ سب دیکھ سکیں۔ نائی نے بکری سے کئی سوال پوچھے، لیکن بکری نے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ اس نے 'میں میں' بھی نہیں کیا، بس خاموش کھڑی رہی۔
بادشاہ کا غصہ آسمان پر پہنچ گیا۔ اس نے نائی پر الزام لگایا کہ وہ جھوٹا ہے اور لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے۔
"اس گستاخ کو قید خانے میں ڈال دو!" بادشاہ نے حکم دیا۔
نائی کو قید کر لیا گیا۔ کچھ دنوں بعد وہ ہجوم میں کھڑا بکری کو دیکھ رہا تھا، جو آرام سے چارہ چبا رہی تھی۔ نائی نے بکری کو غصے سے دیکھا اور کہا:
"او ظالم! اس وقت تجھے کیا ہو گیا تھا؟ اگر تو ایک 'میں میں' ہی کر دیتی تو آج میں اس حال میں نہ ہوتا۔"
بکری نے ٹھنڈی سانس لی اور چارہ چباتے ہوئے بولی:
"اے نادان انسان! جب میرے خاموش رہنے کی باری تھی، تو اس وقت تو مجھ سے گپ شپ کروا رہا تھا۔ اور جب میرا بولنا ضروری تھا، تو میں نے سوچا کہ آخر اس 'عقل' کا انجام دیکھ لوں جو تو مجھ سے لگوا رہا تھا۔ اب بھگتو!"
💡 نتیجہ (Lesson)
ضرورت سے زیادہ عقل کا استعمال (خاص طور پر وہاں جہاں اس کی ضرورت نہ ہو) اور بے وقت کی 'ہشیاری' انسان کو مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ ہر چیز کا ایک وقت اور جگہ ہوتی ہے۔ کبھی کبھی اپنی عقل کو صرف اپنے لیے استعمال کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہوتی ہے! 🤫
#بیوقوفی

کچھوے کی اڑان اور "فالتو بولنا"​ایک تالاب کے کنارے دو بگلے اور ایک کچھوا رہتے تھے۔ کچھوے کو ہر وقت بولنے اور مشورے دینے ...
14/02/2026

کچھوے کی اڑان اور "فالتو بولنا"
​ایک تالاب کے کنارے دو بگلے اور ایک کچھوا رہتے تھے۔ کچھوے کو ہر وقت بولنے اور مشورے دینے کی بری عادت تھی۔
​ایک دفعہ تالاب کا پانی خشک ہونے لگا تو بگلوں نے دوسری جگہ جانے کا فیصلہ کیا۔ کچھوا پریشان ہو گیا اور کہنے لگا، "مجھے بھی ساتھ لے چلو ورنہ میں پیاسا مر جاؤں گا۔"
​بگلوں نے ایک ترکیب سوچی۔ انہوں نے ایک لکڑی لی اور کہا:
"ہم دونوں اس لکڑی کو اپنے دانتوں میں دونوں طرف سے پکڑیں گے اور تم اسے بیچ سے منہ سے پکڑ لینا۔ لیکن یاد رکھنا! جب ہم اڑ رہے ہوں گے تو تم نے بالکل نہیں بولنا، ورنہ تم نیچے گر جاؤ گے۔"
​کچھوے نے وعدہ کیا کہ وہ بالکل خاموش رہے گا۔ سفر شروع ہوا، بگلے لکڑی لے کر اڑے اور کچھوا بیچ میں لٹکا ہوا تھا۔ جب وہ ایک بستی کے اوپر سے گزرے تو لوگ یہ انوکھا منظر دیکھ کر شور مچانے لگے:
​"دیکھو! دیکھو! بگلے ایک کچھوے کو کیسے اٹھا کر لے جا رہے ہیں، واہ کیا بات ہے!"
​کچھوے سے اپنی تعریف یا لوگوں کا شور برداشت نہ ہوا، اس نے سوچا کہ ان لوگوں کو جواب دوں کہ "یہ میرا آئیڈیا تھا"۔ جیسے ہی اس نے جواب دینے کے لیے اپنا منہ کھولا:
"تم لوگ خاموش کیوں نہیں..."
​بس اتنا ہی بول پایا تھا کہ لکڑی منہ سے چھوٹ گئی اور وہ سیدھا زمین پر آ گرا۔ جب وہ قریب المرگ تھا، تو بگلوں نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا۔ کچھوے نے آخری سانس لیتے ہوئے کہا:
​"بھائی! میں وہاں بھی اپنی عقل جھاڑنے کی کوشش کر رہا تھا!"
​💡 نتیجہ (Lesson)
​کچھ لوگ اپنی "بک بک" کی وجہ سے بنی بنائی منزل کھو دیتے ہیں۔ جب آپ کو معلوم ہو کہ بولنا آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، تو وہاں خاموش رہنا ہی بہادری ہے۔
​اپنی زبان پر قابو رکھیں، ورنہ گرنا آپ کا مقدر ہے! 🤐📉
​ #خاموشی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کو بہت زیادہ بولنے اور ہر معاملے میں اپنی ٹانگ اڑانے کی عادت تھی۔ لوگ اسے "بولتا میاں" کہت...
14/02/2026

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کو بہت زیادہ بولنے اور ہر معاملے میں اپنی ٹانگ اڑانے کی عادت تھی۔ لوگ اسے "بولتا میاں" کہتے تھے۔
​ایک دن وہ شہر کے قاضی کی عدالت میں کھڑا تھا۔ قاضی صاحب ایک چور کو سزا سنا رہے تھے کہ اسے 10 کوڑے لگائے جائیں۔
​"بولتا میاں" سے رہا نہ گیا، وہ بیچ میں کود پڑا اور بولا:
"حضور! انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ اسے 10 نہیں، 20 کوڑے لگنے چاہئیں تاکہ اسے عبرت ہو۔"
​قاضی صاحب کو مداخلت بری لگی، انہوں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور جلاد سے کہا:
"اس چور کو چھوڑو، پہلے اس زبان دراز شخص کو 50 کوڑے لگاؤ تاکہ اسے دوسروں کے معاملے میں بولنے کی قیمت معلوم ہو۔"
​جلاد نے بولتا میاں کو لٹایا اور تڑاخ تڑاخ کوڑے برسانا شروع کر دیے۔ جب 49 کوڑے لگ چکے تو بولتا میاں نے بڑی مشکل سے گردن اٹھائی اور جلاد سے بولا:
"بھائی! ذرا رکنا، ایک مشورہ دوں؟"
​جلاد حیران ہو کر رکا اور پوچھا: "اتنی مار کھانے کے بعد بھی تمہاری زبان نہیں رکی؟ اب کیا کہنا چاہتے ہو؟"
​بولتا میاں کراہتے ہوئے بولا:
"کہنا یہ تھا کہ کوڑا ذرا 'زاویے' سے مارو، اس طرح ہڈی پر چوٹ کم لگتی ہے!"
​جلاد نے ماتھا پیٹ لیا اور قاضی کی طرف دیکھ کر کہا:
"حضور! اس بندے کا علاج کوڑے نہیں، اس کی زبان کاٹنا ہے، کیونکہ یہ مار کھا لے گا لیکن اپنی عادت سے باز نہیں آئے گا۔"
​💡 نتیجہ (Lesson)
​کچھ لوگ اپنی عقل کا استعمال صرف دوسروں کو مشورے دینے میں کرتے ہیں، چاہے اس کے بدلے ان کی اپنی ہی "دھلائی" کیوں نہ ہو رہی ہو۔ ہر جگہ بولنا عقلمندی نہیں، بلکہ بعض اوقات خاموشی ہی زندگی کی ضمانت ہوتی ہے! 🤐🔨

جادوئی گھڑا اور شیخ چلی کی قسمت (قسط نمبر 2) 🌟گھڑے کی پراسرار آواز سن کر نصیر (شیخ چلی) کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ آدھی ...
21/12/2025

جادوئی گھڑا اور شیخ چلی کی قسمت (قسط نمبر 2) 🌟

گھڑے کی پراسرار آواز سن کر نصیر (شیخ چلی) کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ آدھی رات کا وقت، سائیں سائیں کرتی ہوا اور سامنے ایک مٹی کا گھڑا جو باتیں کر رہا تھا۔ نصیر نے ہمت جمع کی اور کانپتی آواز میں پوچھا، "اے گھڑے میاں! وہ شرط کیا ہے؟ میں خزانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔"
گھڑے سے دوبارہ آواز آئی: "شرط یہ ہے نصیر کہ جب تم اس گھڑے کو اٹھا کر حویلی کی طرف جاؤ گے، تو راستے میں تمہیں بہت سے عجیب و غریب لوگ ملیں گے، بہت سی آوازیں تمہارا پیچھا کریں گی، مگر تم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔ اگر تم نے پیچھے مڑ کر دیکھا، تو میں اسی وقت ٹوٹ جاؤں گا اور تم ہمیشہ کے لیے فقیر رہ جاؤ گے۔"
نصیر نے فوراً گھڑا سینے سے لگایا اور دبے پاؤں گھر سے باہر نکل آیا۔ گاؤں کی گلیاں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی وہ گاؤں کے قبرستان کے پاس سے گزرا، اسے لگا جیسے کوئی اس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
"اوئے نصیر! رک جا، تیرا پاجامہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے!" ایک آواز آئی۔ نصیر کا دل چاہا کہ پیچھے مڑ کر دیکھے، مگر اسے گھڑے کی شرط یاد آ گئی۔ وہ اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔
تھوڑی دور جا کر اسے محسوس ہوا جیسے اس کی ماں اسے پکار رہی ہے، "نصیر میرے بیٹے! کہاں جا رہا ہے آدھی رات کو؟ واپس آ جا، میں نے تیرے لیے پراٹھے بنائے ہیں۔" نصیر رکنے ہی والا تھا کہ اسے یاد آیا کہ اس کی ماں تو خراٹے لے کر سو رہی ہوگی، یہ ضرور کوئی جادوئی چال ہے۔
اب وہ شمال والی پرانی حویلی کے بالکل قریب تھا۔ حویلی کا دروازہ زنگ آلود تھا اور وہاں سے الوؤں کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ جیسے ہی نصیر نے حویلی کے صحن میں قدم رکھا، گھڑا اچانک بھاری ہونے لگا۔ اتنا بھاری کہ نصیر کا دم نکلنے لگا۔
اچانک حویلی کے ایک اندھیرے کونے سے ایک لمبا سایہ نمودار ہوا اور نصیر کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ سایہ کوئی جن یا بھوت نہیں تھا، بلکہ وہی پرانا فقیر تھا جس نے گھڑا بیچا تھا۔ فقیر کے ہاتھ میں ایک مشعل تھی اور اس کے چہرے پر ایک عجیب مسکراہٹ تھی۔
نصیر نے گھبراتے ہوئے کہا، "بابا! میں یہاں پہنچ گیا ہوں، اب بتاؤ خزانہ کہاں ہے؟"
فقیر نے مشعل حویلی کے ایک پرانے کمرے کی طرف کی اور بولا، "خزانہ اس کمرے کے اندر ہے، مگر وہاں پہنچنے کے لیے تمہیں اس گھڑے کو اپنے سر پر رکھ کر رقص (ڈانس) کرنا ہوگا، اور رقص ایسا ہو کہ گھڑا گرے بھی نہ اور تمہاری زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلے۔"
نصیر، جو کہ پہلے ہی تھک چکا تھا، اب اس عجیب و غریب شرط پر پریشان ہو گیا۔ لیکن سونے کی لالچ میں اس نے گھڑا سر پر رکھا اور حویلی کے سنسان صحن میں ناچنا شروع کر دیا۔ تصور کریں! آدھی رات کو ایک ویران حویلی میں شیخ چلی سر پر گھڑا رکھ کر ناچ رہا ہے اور فقیر مشعل لیے اسے دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔
ابھی نصیر ناچ ہی رہا تھا کہ اسے کمرے کے اندر سے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی۔ یہ آواز جانی پہچانی تھی۔ نصیر نے جیسے ہی ک seeھڑکی کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
جاری ہے...

جادوئی گھڑا اور شیخ چلی کی قسمت (قسط نمبر 2) 🌟گھڑے کی پراسرار آواز سن کر نصیر (شیخ چلی) کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ آدھی ...
21/12/2025

جادوئی گھڑا اور شیخ چلی کی قسمت (قسط نمبر 2) 🌟
گھڑے کی پراسرار آواز سن کر نصیر (شیخ چلی) کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔ آدھی رات کا وقت، سائیں سائیں کرتی ہوا اور سامنے ایک مٹی کا گھڑا جو باتیں کر رہا تھا۔ نصیر نے ہمت جمع کی اور کانپتی آواز میں پوچھا، "اے گھڑے میاں! وہ شرط کیا ہے؟ میں خزانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔"
گھڑے سے دوبارہ آواز آئی: "شرط یہ ہے نصیر کہ جب تم اس گھڑے کو اٹھا کر حویلی کی طرف جاؤ گے، تو راستے میں تمہیں بہت سے عجیب و غریب لوگ ملیں گے، بہت سی آوازیں تمہارا پیچھا کریں گی، مگر تم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔ اگر تم نے پیچھے مڑ کر دیکھا، تو میں اسی وقت ٹوٹ جاؤں گا اور تم ہمیشہ کے لیے فقیر رہ جاؤ گے۔"
نصیر نے فوراً گھڑا سینے سے لگایا اور دبے پاؤں گھر سے باہر نکل آیا۔ گاؤں کی گلیاں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی وہ گاؤں کے قبرستان کے پاس سے گزرا، اسے لگا جیسے کوئی اس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
"اوئے نصیر! رک جا، تیرا پاجامہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے!" ایک آواز آئی۔ نصیر کا دل چاہا کہ پیچھے مڑ کر دیکھے، مگر اسے گھڑے کی شرط یاد آ گئی۔ وہ اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔
تھوڑی دور جا کر اسے محسوس ہوا جیسے اس کی ماں اسے پکار رہی ہے، "نصیر میرے بیٹے! کہاں جا رہا ہے آدھی رات کو؟ واپس آ جا، میں نے تیرے لیے پراٹھے بنائے ہیں۔" نصیر رکنے ہی والا تھا کہ اسے یاد آیا کہ اس کی ماں تو خراٹے لے کر سو رہی ہوگی، یہ ضرور کوئی جادوئی چال ہے۔
اب وہ شمال والی پرانی حویلی کے بالکل قریب تھا۔ حویلی کا دروازہ زنگ آلود تھا اور وہاں سے الوؤں کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ جیسے ہی نصیر نے حویلی کے صحن میں قدم رکھا، گھڑا اچانک بھاری ہونے لگا۔ اتنا بھاری کہ نصیر کا دم نکلنے لگا۔
اچانک حویلی کے ایک اندھیرے کونے سے ایک لمبا سایہ نمودار ہوا اور نصیر کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ سایہ کوئی جن یا بھوت نہیں تھا، بلکہ وہی پرانا فقیر تھا جس نے گھڑا بیچا تھا۔ فقیر کے ہاتھ میں ایک مشعل تھی اور اس کے چہرے پر ایک عجیب مسکراہٹ تھی۔
نصیر نے گھبراتے ہوئے کہا، "بابا! میں یہاں پہنچ گیا ہوں، اب بتاؤ خزانہ کہاں ہے؟"
فقیر نے مشعل حویلی کے ایک پرانے کمرے کی طرف کی اور بولا، "خزانہ اس کمرے کے اندر ہے، مگر وہاں پہنچنے کے لیے تمہیں اس گھڑے کو اپنے سر پر رکھ کر رقص (ڈانس) کرنا ہوگا، اور رقص ایسا ہو کہ گھڑا گرے بھی نہ اور تمہاری زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلے۔"
نصیر، جو کہ پہلے ہی تھک چکا تھا، اب اس عجیب و غریب شرط پر پریشان ہو گیا۔ لیکن سونے کی لالچ میں اس نے گھڑا سر پر رکھا اور حویلی کے سنسان صحن میں ناچنا شروع کر دیا۔ تصور کریں! آدھی رات کو ایک ویران حویلی میں شیخ چلی سر پر گھڑا رکھ کر ناچ رہا ہے اور فقیر مشعل لیے اسے دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔
ابھی نصیر ناچ ہی رہا تھا کہ اسے کمرے کے اندر سے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی۔ یہ آواز جانی پہچانی تھی۔ نصیر نے جیسے ہی کھڑکی کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

جاری ہے...
اگلی قسط میں دیکھیے: نصیر نے کھڑکی میں ایسا کیا دیکھ لیا کہاس کے ہوش اڑ گئے؟ کیا واقعی وہاں کوئی خزانہ تھا یا نصیر ایک بار پھر کسی مذاق کا نشانہ بن گیا۔
* کیا نصیر کو سونا ملے گا

جادوئی گھڑا اور شیخ چلی کی قسمت (قسط نمبر 1) 🌟ایک چھوٹے سے گاؤں میں "نصیر" نامی ایک نوجوان رہتا تھا، جسے پورا گاؤں پیار ...
21/12/2025

جادوئی گھڑا اور شیخ چلی کی قسمت (قسط نمبر 1) 🌟

ایک چھوٹے سے گاؤں میں "نصیر" نامی ایک نوجوان رہتا تھا، جسے پورا گاؤں پیار (اور تھوڑے سے مذاق) سے "شیخ چلی" کہتا تھا۔ نصیر برا آدمی نہیں تھا، بس اس کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کام کرنے سے زیادہ خواب دیکھنے کا شوقین تھا۔ وہ سارا دن پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھا یہ سوچتا رہتا کہ کاش اسے زمین میں دبا ہوا کوئی خزانہ مل جائے یا کوئی جن آ کر اسے بادشاہ بنا دے۔
اس کی ماں روزانہ اسے جھاڑو مار کر گھر سے نکالتی کہ "جا کر کچھ کما لا"، لیکن نصیر دو گلیوں کے بعد پھر کسی سائے میں بیٹھ کر اپنی خیالی سلطنت بنانے میں مصروف ہو جاتا۔ ایک دن گاؤں میں ایک عجیب و غریب فقیر آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک مٹی کا پرانا گھڑا تھا۔ اس فقیر نے گاؤں کے چوک میں اعلان کیا:
"یہ گھڑا معمولی نہیں ہے، یہ نصیب بدلنے والا گھڑا ہے۔ جو اسے خریدے گا، اس کی قسمت کا دروازہ کھل جائے گا!"
گاؤں کے عقل مند لوگوں نے قہقہہ لگایا۔ چوہدری صاحب بولے، "اوئے بابا! ہمیں بیوقوف نہ بنا، یہ ٹوٹا ہوا گھڑا تو دو روپے کا بھی نہیں ہے۔" سب لوگ ہنستے ہوئے اپنے کاموں پر چلے گئے، مگر نصیر وہیں کھڑا رہا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی (جو کل ملا کر پانچ سو روپے تھی اور اس نے اپنی ماں کے صندوق سے "ادھار" لی تھی) نکالی اور فقیر کو دے دی۔
فقیر نے گھڑا نصیر کے حوالے کیا اور کان میں ایک بات کہی: "بیٹا! یاد رکھنا، یہ گھڑا تبھی بولے گا جب تم اسے اکیلے میں کسی ایسی جگہ لے جاؤ گے جہاں پرندوں کے سوا کوئی نہ ہو، اور خبردار! اگر تم نے اسے خود توڑ دیا تو تمہاری قسمت ہمیشہ کے لیے سو جائے گی۔"
نصیر خوشی سے نہال گھڑا اٹھائے گھر بھاگا۔ راستے میں لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ "دیکھو بھئی! شیخ چلی نے پانچ سو روپے میں مٹی خریدی ہے!" لیکن نصیر کو کسی کی پرواہ نہ تھی۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور گھڑے کو تکیے کے پاس رکھ کر بیٹھ گیا۔ وہ سارا دن گھڑے کو دیکھتا رہا، اسے سہلاتا رہا اور انتظار کرنے لگا کہ کب یہ گھڑا بولے گا اور اسے خزانے کا پتہ بتائے گا۔
رات گہری ہوئی، گاؤں میں سناٹا چھا گیا، مگر گھڑا خاموش تھا۔ نصیر کو تھوڑی گھبراہٹ ہونے لگی۔ "کیا فقیر نے مجھے لوٹ لیا؟" اس نے سوچا۔ اس نے گھڑے کے قریب جا کر آہستہ سے پوچھا، "اے جادوئی گھڑے! کچھ بولو، میری قسمت کب جاگے گی؟"
اچانک گھڑے کے اندر سے ایک مدھم سی آواز آئی: "نصیر! اگر سونا چاہیے، تو مجھے اٹھاؤ اور گاؤں کے شمال میں واقع اس پرانی حویلی کی طرف چلو جہاں کوئی نہیں رہتا، مگر ایک شرط ہے..."
نصیر کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ شرط کیا تھی؟ اور کیا نصیر اس آدھی رات کو اس خوفناک حویلی میں جانے کی ہمت کر پائے گا؟
جاری ہے...: "آپ کے خیال میں گھڑے کی شرط کیا ہوگی؟ کمنٹس میں بتائیں!"
* کیا میں اب قسط نمبر 2 لکھوں؟

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qissa Go posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share