22/05/2026
: سونے کا کنگن اور پرانی میز**
یہ قصہ ہے اسلم اور عائشہ کا، جن کی شادی کو دس سال ہو چکے تھے۔ شروع کے سال بہت اچھے گزرے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، روزمرہ کی مصروفیات، بچوں کی ذمہ داریاں اور مالی مشکلات کی وجہ سے ان کے رشتے میں ایک خاموش دوری آنے لگی تھی۔ باتیں اب صرف ضرورت تک محدود تھیں، اور اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث ہو جاتی۔
**ایک خاموش لڑائی**
ایک دن عائشہ نے گھر کی صفائی کرتے ہوئے اسلم سے کہا، "یہ جو کونے میں پرانی لکڑی کی میز رکھی ہے، یہ ٹوٹ رہی ہے اور جگہ بھی گھیر رہی ہے۔ اس کو بیچ دیں یا کباڑ میں دے دیں۔"
اسلم نے اس میز کو دیکھا۔ یہ میز اس کے دادا نے اسے تحفے میں دی تھی جب وہ چھوٹا تھا۔ اس سے اسلم کی بچپن کی یادیں جڑی تھیں۔ اسلم نے تھوڑے سخت لہجے میں کہا، "نہیں، یہ میز یہیں رہے گی۔ تمہیں ہر پرانی چیز سے مسئلہ کیوں ہوتا ہے؟"
عائشہ کو یہ بات بری لگی۔ بات بڑھ گئی، اور دونوں نے ایک دوسرے سے بولنا بند کر دیا۔ گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
**بزرگ کا مشورہ**
اگلی صبح، محلے کے ایک عقلمند بزرگ 'چاچا کریم' اسلم کے گھر کسی کام سے آئے۔ انہوں نے گھر کا ماحول دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ میاں بیوی میں کچھ ان بن ہے۔ انہوں نے دونوں کو شام میں چائے پر اپنے گھر بلایا۔
شام کو دونوں خاموشی سے چاچا کریم کے گھر پہنچے۔ چاچا کریم نے ان کے سامنے دو چیزیں رکھیں: ایک چمکتا ہوا **سونے کا کنگن** اور ایک **پرانی، مٹی سے بھری ہوئی لکڑی کی صندوق (باکس)**۔
انہوں نے عائشہ سے پوچھا، "بیٹی، اگر تمہیں ان دونوں میں سے ایک چیز چننی ہو، تو تم کیا چنو گی؟"
عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا، "یقیناً چاچا، سونے کا کنگن۔ یہ قیمتی ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت ہے۔"
چاچا کریم نے پھر اسلم سے پوچھا، "اور تم؟"
اسلم نے صندوق کی طرف اشارہ کیا اور کہا، "چاچا، یہ صندوق پرانی ہے، لیکن لگتا ہے اس کے اندر کچھ خاص ہے۔"
چاچا کریم نے مسکراتے ہوئے سونے کا کنگن اٹھایا اور اسے زور سے زمین پر پٹکا۔ کنگن پر ایک ہلکا سا خراش آیا، لیکن وہ ویسے کا ویسا ہی رہا۔ پھر انہوں نے صندوق کھولی۔ اس کے اندر ایک پرانی، دھندلی سی تصویر تھی جس میں چاچا کریم اور ان کی مرحومہ بیوی جوانی میں مسکرا رہے تھے، اور ساتھ میں کچھ پرانے خطوط تھے۔
**اصلی سبق**
چاچا کریم نے دونوں کو اپنے پاس بٹھایا اور نہایت نرم لہجے میں کہا:
"بیٹا، یہ سونے کا کنگن رشتے کی شروعات کی طرح ہے—چمکتا ہوا، خوبصورت اور قیمتی۔ جب نیا رشتہ ہوتا ہے، تو سب کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ جب اس پر حالات کی چوٹیں پڑتی ہیں، تو اس پر خراشیں آتی ہیں۔"
"اور یہ پرانی صندوق؟ یہ وہ رشتہ ہے جو برسوں کے ساتھ بنتا ہے۔ باہر سے شاید اس پر مٹی جمی ہو، یہ پرانی اور بے رونق لگے، لیکن اس کے اندر جو یادیں، جو احساس اور جو ایک دوسرے کا ساتھ چھپا ہے، اس کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی۔"
انہوں نے اسلم سے کہا، "اسلم، تم نے میز کو اس لیے سنبھال کر رکھا کیونکہ اس سے تمہاری یادیں تھیں۔ لیکن یاد رکھو، عائشہ تمہارا حال اور مستقبل ہے۔ اگر تم پرانی چیزوں کی حفاظت میں زندہ رشتوں کو تکلیف دو گے، تو صندوق تو بچی رہے گی لیکن اندر کا سکون ختم ہو جائے گا۔"
پھر انہوں نے عائشہ سے کہا، "اور بیٹی، جب لکڑی پرانی ہوتی ہے تو اسے پھینکا نہیں جاتا، اس کی مرمت (Repair) کی جاتی ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ بھی وقت کے ساتھ پرانا ہوتا ہے، اس میں چھوٹی موٹی خامیاں آتی ہیں، لیکن ان خامیوں کی وجہ سے پورے رشتے کو کباڑ نہیں سمجھا جاتا۔"
**گھر واپسی**
چاچا کریم کی باتوں نے دونوں کے دل پر گہرا اثر کیا۔ گھر پہنچ کر اسلم نے لکڑی کے اس پرانے میز کو صاف کیا، اس پر پالش لگائی اور اسے دوبارہ چمکا دیا۔ عائشہ نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کچن سے اسلم کی پسند کی چائے بنائی اور میز پر رکھ دی۔
**حاصلِ سبق (Moral):**
میاں بیوی کا رشتہ کسی ایسے پرانے درخت کی طرح ہوتا ہے جسے روز محبت، صبر اور برداشت کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب رشتے میں دوریاں آنے لگیں، تو ایک دوسرے کو چھوڑنے یا ناراض ہونے کے بجائے، رشتے کی "مرمت" کرنی چاہیے۔ گھر چیزوں سے نہیں، بلکہ ان لوگوں سے بنتا ہے جو ایک دوسرے کے لیے تھوڑا سا جھکنا سیکھ لیتے ہیں۔
Follow for more