UNnews

Website

UNnews vlogs, food, culture, sports, travel, news, current affairs and much more
(6)

Ks ks ko yaad ha??? 😊 Guess kro
09/10/2026

Ks ks ko yaad ha??? 😊 Guess kro

02/10/2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بطور صحافی بینظیر بھٹو کا انٹرویو کرتے ہوئے، موجودہ صدر آصف زرداری بھی ہمراہ

Mohsin Naqvi Makhdoom Bilawal Pakistan Peoples Party Digital

💥ویڈیو کے ویوز اچانک بڑھ گئے۔ کمنٹس آنے لگے:’’بھابھی کو بھی ویڈیو میں لایا کریں۔’بھابھی کی مسکراہٹ بہت پیاری ہے۔فیملی ول...
26/09/2026

💥ویڈیو کے ویوز اچانک بڑھ گئے۔ کمنٹس آنے لگے:
’’بھابھی کو بھی ویڈیو میں لایا کریں۔’بھابھی کی مسکراہٹ بہت پیاری ہے۔فیملی ولاگ شروع کریں۔‘‘💔🥹

حارث برا آدمی نہیں تھا۔

کم از کم وہ خود کو برا آدمی نہیں سمجھتا تھا۔

وہ صرف یہ سمجھتا تھا کہ زمانہ بدل گیا ہے۔

’’لوگ اپنی زندگیاں شیئر کرتے ہیں،‘‘ وہ اکثر مریم سے کہتا، ’’ہم کون سا کوئی غلط کام کر رہے ہیں؟‘‘

اور واقعی، شروع میں وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہا تھا۔

وہ اپنی گاڑی کی ویڈیوز بناتا تھا، کبھی کھانے کی، کبھی سفر کی۔

پھر ایک دن مریم اتفاقاً کیمرے کے سامنے آ گئی۔

ایک مختصر سی ویڈیو تھی۔

مریم نے چائے کا کپ رکھا اور بے ساختہ مسکرا دی۔

بس اتنا ہی۔

لیکن ویڈیو کے ویوز اچانک بڑھ گئے۔

کمنٹس آنے لگے:

’’بھابھی کو بھی ویڈیو میں لایا کریں۔‘‘

’’بھابھی کی مسکراہٹ بہت پیاری ہے۔‘‘

’’فیملی ولاگ شروع کریں۔‘‘

حارث نے کمنٹس مریم کو دکھائے۔

وہ ہنسی۔

’’لوگ بھی عجیب ہیں۔‘‘

حارث نے مذاقاً کہا:

’’تمہیں مشہور ہونے کا شوق نہیں؟‘‘

مریم نے کندھے اچکائے۔

’’مجھے تو بس چائے بنانا آتا ہے۔‘‘

دونوں ہنس پڑے۔

وہیں سے بات شروع ہوئی۔

---

پہلے حارث صرف کبھی کبھار مریم کو ویڈیو میں لاتا تھا۔

پھر اسے اندازہ ہوا کہ جن ویڈیوز میں مریم ہوتی ہے، وہ زیادہ چلتی ہیں۔

اس نے اس بات کو کسی غلط چیز کا نام نہیں دیا۔

اس کے ذہن میں یہ صرف ایک سادہ سا اصول تھا:

جو لوگوں کو پسند آئے، وہ دکھاؤ۔

مریم کبھی ہنس دیتی، کبھی کوئی جملہ کہہ دیتی، کبھی نئے کپڑوں میں آ جاتی۔

حارث کمنٹس پڑھتا اور خوش ہوتا۔

’’دیکھا؟ لوگوں کو تم پسند ہو۔‘‘

مریم بھی خوش ہوتی۔

اسے اچھا لگتا کہ اس کا شوہر اس کی تعریف کر رہا ہے۔

پھر ایک دن حارث نے مریم کی اجازت کے بغیر اس کی ایک تصویر تھمب نیل میں لگا دی۔

مریم نے دیکھا تو بولی:

’’یہ والی تصویر کیوں لگائی؟‘‘

’’اچھی ہے۔‘‘

’’لیکن میں تو اس میں عجیب لگ رہی ہوں۔‘‘

حارث ہنس دیا۔

’’تمہیں کچھ نہیں پتا۔ ویڈیو اسی تصویر سے چلے گی۔‘‘

مریم نے آئینے میں خود کو دیکھا۔

پھر خاموش ہوگئی۔

بات ختم ہوگئی۔

یا اسے ایسا ہی لگا۔

---

بیٹی ہوئی تو حارث کی دنیا واقعی بدل گئی۔

اس نے حنا کی پہلی تصویر بنائی۔

صرف تصویر۔

پھر پہلی مسکراہٹ کی ویڈیو۔

پھر پہلا لفظ۔

پھر پہلے قدم۔

ہر مرتبہ وہ مریم سے کہتا:

’’یہ لمحہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

مریم بھی مان جاتی۔

کبھی وہ خود کہتی:

’’حارث، جلدی سے ریکارڈ کرو! ابھی اس نے پہلی بار ابو کہا ہے۔‘‘

وہ دونوں والدین تھے۔

انہیں کیا خبر تھی کہ یادیں محفوظ کرنے اور یادوں کو نشر کرنے میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔

پھر لوگوں نے حنا کو پسند کرنا شروع کردیا۔

کمنٹس میں لوگ اس کا نام پوچھتے۔

’’حنا آج کہاں ہے؟‘‘

’’حنا کو سامنے لائیں۔‘‘

’’حنا کی شرارتیں دکھائیں۔‘‘

حارث کو یہ سب اچھا لگتا۔

وہ بیٹی کو دیکھ کر مسکراتا اور کہتا:

’’دیکھو، تمہارے کتنے فین ہیں۔‘‘

حنا کچھ نہیں سمجھتی تھی۔

وہ صرف کیمرے کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتی تھی۔

---

پہلی مرتبہ حارث کو معمولی سا جھٹکا اس وقت لگا جب حنا نے کیمرہ دیکھتے ہی وہی جملہ بول دیا جو وہ ہر ویڈیو کے آغاز میں سکھاتا تھا:

’’السلام علیکم دوستو! لائک، سبسکرائب…‘‘

حارث ہنس پڑا۔

’’واہ میری بیٹی!‘‘

مریم بھی مسکرائی، مگر اس کی مسکراہٹ پوری نہیں تھی۔

اس نے کہا:

’’یہ سب اسے کس نے سکھایا؟‘‘

حارث نے مذاقاً کہا:

’’اس کے ابو نے۔‘‘

مریم نے حنا کو دیکھا۔

’’یہ کھیل سمجھتی ہے اسے؟‘‘

حارث نے جواب دیا:

’’ابھی بچی ہے۔ اسے کیا پتا۔‘‘

مریم نے کچھ نہیں کہا۔

مگر حارث کے ذہن میں پہلی بار ایک سوال آیا:

اگر اسے پتا نہیں، تو پھر میں اس کی طرف سے یہ فیصلہ کیسے کر رہا ہوں؟

اس نے فوراً اس سوال کو ذہن سے نکال دیا۔

کیونکہ اگلے ہی دن ایک اسپانسر کا پیغام آیا تھا۔

---

پھر پیسے آنے لگے۔

پہلے چند ہزار۔

پھر لاکھ۔

گھر بہتر ہوگیا۔

نیا فرنیچر آیا۔

گاڑی بدلی۔

حارث نے مریم سے کہا:

’’دیکھا؟ میں نے کہا تھا نا، یہ کام ہے۔‘‘

مریم نے مسکرا کر کہا:

’’ہاں، محنت تو کر رہے ہو۔‘‘

حارث کو اپنی بات درست محسوس ہوئی۔

وہ محنت کر رہا تھا۔

وہ کسی کا حق نہیں مار رہا تھا۔

وہ چوری نہیں کر رہا تھا۔

وہ صرف اپنے گھر کی زندگی دکھا رہا تھا۔

اور یہی جملہ اس کے لیے سب سے بڑا پردہ بن گیا:

’’اپنے گھر کی زندگی ہے۔‘‘

---

ایک رات حارث اور مریم میں معمولی سا جھگڑا ہوگیا۔

حارث نے غصے میں کیمرہ اٹھا لیا۔

’’چلو، آج لوگوں کو بھی بتاتے ہیں کہ بیوی صاحبہ مجھ سے کیوں ناراض ہیں۔‘‘

مریم نے فوراً کہا:

’’حارث، کیمرہ بند کرو۔‘‘

حارث نے کیمرہ بند نہیں کیا۔

’’ارے، مذاق ہے۔‘‘

’’مجھے مذاق نہیں لگ رہا۔‘‘

وہ جملہ حارث کو روک سکتا تھا۔

لیکن اس وقت اس کے ذہن میں ویوز تھے۔

اس نے ویڈیو بنائی۔

اور وہ ویڈیو باقی سب سے زیادہ چلی۔

لوگوں نے کمنٹس میں اپنے اپنے فیصلے سنائے۔

کسی نے مریم کو خود غرض کہا۔

کسی نے حارث کو مظلوم۔

کسی نے مشورے دیے۔

کسی نے مذاق کیا۔

حارث کمنٹس پڑھتا رہا۔

مریم دوسرے کمرے میں بیٹھی رہی۔

اگلے دن حارث نے اسے کہا:

’’دیکھا؟ لوگوں کو ہماری زندگی میں دلچسپی ہے۔‘‘

مریم نے صرف اتنا پوچھا:

’’اور ہماری زندگی کو ہماری زندگی میں کتنی دلچسپی رہ گئی ہے؟‘‘

حارث نے جواب نہیں دیا۔

---

پھر بھی وہ نہیں بدلا۔

کم از کم فوراً نہیں۔

کچھ دن وہ محتاط رہا۔

پھر دوبارہ وہی معمول شروع ہوگیا۔

حنا کی سالگرہ۔

مریم کا نیا لباس۔

گھر کی خریداری۔

حنا کی شرارت۔

کبھی اس کا رونا بھی۔

حارث ہر چیز کو ’’مواد‘‘ نہیں سمجھتا تھا۔

وہ صرف ہر لمحے میں ایک ممکنہ ویڈیو دیکھنے لگا تھا۔

اور شاید یہی اصل تبدیلی تھی۔

گھر میں کوئی واقعہ ہوتا تو مریم سوچتی:

’’یہ ہمارے ساتھ ہوا ہے۔‘‘

حارث سوچتا:

’’اس کی ویڈیو بن سکتی ہے۔‘‘

---

ایک دن حنا بیمار ہوگئی۔

بخار بہت تیز تھا۔

مریم اسے گود میں لیے بیٹھی تھی۔

حارث نے عادتاً موبائل نکالا۔

مریم نے کہا:

’’کیا کر رہے ہو؟‘‘

’’بس لوگوں سے دعا کروانی ہے۔‘‘

’’بعد میں۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

مریم نے حنا کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔

’’کیونکہ ابھی اسے تمہاری ضرورت ہے، تمہارے فالوورز کی نہیں۔‘‘

حارث نے پہلی مرتبہ موبائل نیچے کر دیا۔

صرف چند سیکنڈ کے لیے۔

پھر اس نے واقعی اسے جیب میں رکھ لیا۔

اس نے حنا کے پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اس رات کوئی ویڈیو نہیں بنی۔

صبح حنا کا بخار اتر گیا۔

حارث نے سکون کا سانس لیا۔

پھر اسے خیال آیا:

اگر کل حنا ٹھیک نہ ہوتی تو؟

اور فوراً دوسرا خیال آیا:

میں اس وقت بھی کیمرہ اٹھائے بیٹھا تھا۔

اس نے یہ خیال کسی سے بیان نہیں کیا۔

مگر وہ اس کے اندر رہ گیا۔

---

چند ہفتوں بعد حنا نے ایک دن کھیلتے کھیلتے اپنی گڑیا کو صوفے پر بٹھایا، موبائل اس کے سامنے رکھا اور بولی:

’’اسلام علیکم دوستو! آج میری گڑیا بیمار ہے۔ سب دعا کریں۔‘‘

حارث دروازے میں کھڑا رہ گیا۔

حنا نے کیمرہ گڑیا کے چہرے کے قریب کیا۔

پھر خود ہی آواز بدل کر بولی:

’’بیٹی، مسکراؤ! لوگ دیکھ رہے ہیں۔‘‘

حارث کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔

حنا کو کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے ابو کی نقل کر رہی ہے۔

اس نے تو وہی سیکھا تھا جو روز اس کے سامنے ہوتا تھا۔

حارث نے کچھ نہیں کہا۔

بس وہاں سے چلا گیا۔

اس رات اس نے پرانی ویڈیوز کھولیں۔

ایک ایک کر کے۔

حنا کی پہلی ویڈیو۔

پہلی شرارت۔

پہلا رونا۔

مریم کی ہنسی۔

ان کے جھگڑے۔

ان کی صلح۔

وہ سب کچھ جسے وہ کبھی ’’یادیں‘‘ کہا کرتا تھا۔

اب اسے ان میں ایک اور چیز دکھائی دینے لگی تھی:

تماشائی۔

ہر خوبصورت لمحے کے پیچھے۔

ہر آنسو کے پیچھے۔

ہر نجی بات کے پیچھے۔

وہ خود کھڑا تھا۔

کیمرہ لیے ہوئے۔

---

اگلے دن اس نے حنا کو اسکول چھوڑنے جاتے ہوئے پوچھا:

’’بیٹا، اگر کوئی انکل تمہاری ویڈیو بنائے تو؟‘‘

حنا نے بے فکری سے کہا:

’’میں ہاتھ ہلاؤں گی۔‘‘

’’اور اگر تمہاری مرضی نہ ہو؟‘‘

حنا نے کچھ سوچا۔

پھر بولی:

’’تو ابو اسے منع کر دیں گے۔‘‘

حارث کی انگلیاں اسٹیئرنگ پر رک گئیں۔

’’کیوں؟‘‘

حنا نے بالکل سادہ لہجے میں جواب دیا:

’’کیونکہ ابو میرے ہیں۔‘‘

حارث نے اس کی طرف دیکھا۔

اس جواب میں کوئی فلسفہ نہیں تھا۔

بس ایک بچے کا یقین تھا کہ اس کا باپ اس کی حفاظت کرے گا۔

حارث نے گاڑی آہستہ کردی۔

اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ باپ ہونے کا مطلب شاید یہ نہیں کہ وہ اپنی بیٹی کو دنیا کو دکھائے۔

شاید اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دنیا سے کچھ چیزیں چھپا کر رکھے۔

---

اس نے اسی دن چینل بند نہیں کیا۔

نہ ہی ساری ویڈیوز ایک دم ڈیلیٹ کیں۔

وہ کئی راتیں بیٹھ کر سوچتا رہا۔

کچھ ویڈیوز پرائیویٹ کیں۔

کچھ ہٹا دیں۔

کچھ رہنے دیں، کیونکہ وہ واقعی عام نوعیت کی تھیں۔

مریم نے پوچھا:

’’سب ختم کیوں نہیں کر دیتے؟‘‘

حارث نے کہا:

’’کیونکہ میں یہ دکھاوا نہیں کرنا چاہتا کہ جو کچھ کیا وہ سب غلط تھا۔‘‘

وہ رکا۔

’’لیکن اب مجھے یہ بھی سمجھ آ رہی ہے کہ ہر صحیح چیز ہر جگہ دکھانا ضروری نہیں ہوتا۔‘‘

مریم نے پہلی مرتبہ اس کی طرف غور سے دیکھا۔

حارث نے نظریں جھکا لیں۔

’’میں نے تمہیں بھی بہت دفعہ کیمرے کے سامنے ایسے دکھایا جیسے تم میری زندگی کا حصہ نہیں، میرے چینل کا حصہ ہو۔‘‘

مریم خاموش رہی۔

’’مجھے معاف کرنا۔‘‘

وہ معافی بھی فوری نہیں تھی۔

مریم نے اسی وقت اسے گلے نہیں لگایا۔

بس اتنا کہا:

’’بس آئندہ فرق یاد رکھنا۔‘‘

حارث نے پوچھا:

’’کیا فرق؟‘‘

مریم نے کہا:

’’زندگی اور کانٹینٹ کا۔‘‘

---

چند ماہ بعد حنا نے ایک خوب صورت تصویر بنائی۔

ایک گھر۔

تین لوگ۔

اور گھر کے باہر ایک بڑا سا موبائل فون، جس پر اس نے سرخ لکیر کھینچ رکھی تھی۔

حارث نے پوچھا:

’’یہ کیا ہے؟‘‘

حنا نے کہا:

’’یہ گھر کے باہر ہے۔ اندر نہیں آنے دینا۔‘‘

حارث نے تصویر کو دیر تک دیکھا۔

پھر اس نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا۔

اسے لگا، شاید حنا کو یہ سب سمجھانے کی ضرورت نہیں تھی۔

اسے صرف اتنا سیکھنا تھا کہ کچھ دروازے بند رکھنا بھی محبت ہوتی ہے۔

اور کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جنہیں محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ—

انہیں کسی کی اسکرین پر نہیں،

صرف اپنے دل میں رکھا جائے۔

Copied

24/09/2026

کراچی میں فوڈ ڈلیوری کرنے والے بھی محفوظ نہیں 😔😭
صفورا چورنگی کے قریب سید ولیج میں مسلح ڈاکوؤں نے فوڈ ڈیلیوری بوائے کو اسلحے کے زور پر لوٹ لیا، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔

21/09/2026

بابر اعظم اور اداکارہ درخشاں ایک ساتھ
Babar Azam and Actress Dur fishan together

Babar Azam Lollywood UNnews

Thank you for 1k followers Keep supporting us to get informative and exciting content 😊😊😊❤️
19/09/2026

Thank you for 1k followers
Keep supporting us to get informative and exciting content
😊😊😊❤️

ہر سال حج اور عمرہ ضرور کریں مگر پہلے پڑوس اور رشتے داروں میں دیکھ لیں کوئی بھوکا تو نہیں
19/09/2026

ہر سال حج اور عمرہ ضرور کریں مگر پہلے پڑوس اور رشتے داروں میں دیکھ لیں کوئی بھوکا تو نہیں

دریائے سندھ
19/09/2026

دریائے سندھ

Exactly 💯
19/09/2026

Exactly 💯

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UNnews posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed interior service?

Share