01/09/2026
سیزن 2 - قسط نمبر 9
"1998 کی وہ رات"
ابو کے منہ سے یہ الفاظ نکلے تو کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
"عمران... تمہیں یہ سوال کبھی نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔"
میں نے پہلی بار ابو کو اس قدر پریشان دیکھا تھا۔
میں نے آہستہ سے پوچھا،
"کیوں ابو؟"
انہوں نے جواب دینے کے بجائے دروازہ بند کیا۔
پھر پردے بھی کھینچ دیے۔
امی نے پریشانی سے پوچھا،
"سلیم... آخر بات کیا ہے؟"
ابو نے گہری سانس لی۔
"1998 میں..."
"تمہارے دادا کے کاروبار میں بہت بڑا نقصان ہوا تھا۔"
میں نے فوراً پوچھا،
"کس کی وجہ سے؟"
ابو خاموش رہے۔
مریم نے کہا،
"جمیل صاحب کی وجہ سے؟"
ابو نے سر اٹھایا۔
"ہاں..."
"لیکن پوری کہانی یہ نہیں ہے۔"
ابو نے الماری سے ایک پرانا رجسٹر نکالا۔
اس کے صفحات زرد ہو چکے تھے۔
ایک صفحے پر کئی نام اور رقمیں لکھی تھیں۔
پھر انہوں نے ایک جگہ انگلی رکھی۔
"یہ دیکھو۔"
وہاں لکھا تھا:
17 - امانت
میں نے حیرت سے پوچھا،
"یہ سترہ کیا ہے؟"
ابو نے کہا،
"تمہارے دادا نے کاروبار کی کچھ رقم اور اہم کاغذات ایک جگہ محفوظ کیے تھے۔"
"جمیل کو اس جگہ کا علم تھا۔"
"ایک رات وہ سب کچھ لے کر غائب ہو گیا۔"
میں نے فوراً کہا،
"تو وہی اصل چور تھا!"
ابو نے سر ہلایا۔
"ہم بھی یہی سمجھتے رہے۔"
"لیکن کچھ سال بعد..."
وہ رک گئے۔
"ایک خط آیا۔"
ابو نے جیب سے ایک پرانا لفافہ نکالا۔
لفافے پر دادا جان کا نام تھا۔
"یہ خط کس نے بھیجا تھا؟"
ابو نے کہا،
"اسی آدمی نے جو آج سیاہ گاڑی میں آتا ہے۔"
میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
"اس کا نام؟"
ابو نے میری طرف دیکھا۔
"فراز۔"
امی اچانک بولیں،
"فراز؟"
ابو نے سر ہلایا۔
"ہاں۔"
"تمہارے دادا کا سب سے قریبی دوست۔"
وہی شخص جو تصویر میں جمیل کے ساتھ کھڑا تھا۔
میں نے پوچھا،
"پھر وہ آج تک کہاں تھا؟"
ابو نے آہستہ سے کہا،
"جمیل کے غائب ہونے کے بعد فراز بھی غائب ہو گیا تھا۔"
"ہم نے سمجھا وہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔"
"لیکن حقیقت..."
ابو کی آواز بھرا گئی۔
"وہ جمیل کے پیچھے گیا تھا۔"
"اس نے کئی سال اسے تلاش کیا۔"
"اور آخرکار اسے ڈھونڈ نکالا۔"
میں نے بےچینی سے پوچھا،
"پھر؟"
ابو نے کہا،
"جمیل مرنے سے پہلے فراز کو ایک چیز دے گیا تھا۔"
"وہی چیز..."
"جس کے لیے آج سب ہمارے پیچھے پڑے ہیں۔"
مریم نے فوراً پوچھا،
"کیا چیز؟"
ابو نے جواب نہیں دیا۔
اسی لمحے باہر سے گاڑی کا ہارن بجا۔
ہم سب چونک گئے۔
سیاہ گاڑی دوبارہ گیٹ کے سامنے کھڑی تھی۔
فراز اس بار اکیلا نہیں تھا۔
اس کے ساتھ ایک نوجوان بھی گاڑی سے باہر نکلا۔
وہ نوجوان سیدھا گھر کی طرف دیکھ رہا تھا۔
پھر فراز نے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا کہ دروازہ کھولو۔
ابو نے مجھے روک دیا۔
"عمران، نہیں۔"
مگر اسی وقت فراز نے دور سے آواز لگائی،
"سلیم!"
"میں لڑنے نہیں آیا۔"
"میں صرف وہ چیز واپس کرنے آیا ہوں..."
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
پھر بولا،
"جو تمہارے ابا نے میرے پاس امانت رکھی تھی۔"
ابو کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
میں نے حیرت سے پوچھا،
"ابو... کون سی امانت؟"
ابو نے میری طرف دیکھا۔
اور پہلی بار ان کی آنکھوں میں خوف نہیں...
شرمندگی تھی۔
وہ آہستہ سے بولے،
"عمران... وہ امانت تمہارے نام تھی۔"
جاری ہے ...
اگلی قسط:
"عمران کے نام وہ امانت... جس کے لیے فراز نے 28 سال انتظار کیا تھا!"