Shaharam Essentials

Shaharam Essentials Shaharam brings you practical, innovative gadgets that make daily life in Pakistan easier - from load-shedding solutions to smart kitchen tools.

Premium quality, affordable prices, Cash on Delivery nationwide. 🚚💵 Shaharam Essentials brings you high-quality kitchen gadgets and home essentials designed to simplify your daily life. Discover smart solutions for your home, delivered with care and convenience!

سیزن 2 - قسط نمبر 9"1998 کی وہ رات"ابو کے منہ سے یہ الفاظ نکلے تو کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔"عمران... تمہیں یہ سوا...
01/09/2026

سیزن 2 - قسط نمبر 9

"1998 کی وہ رات"

ابو کے منہ سے یہ الفاظ نکلے تو کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔

"عمران... تمہیں یہ سوال کبھی نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔"

میں نے پہلی بار ابو کو اس قدر پریشان دیکھا تھا۔

میں نے آہستہ سے پوچھا،

"کیوں ابو؟"

انہوں نے جواب دینے کے بجائے دروازہ بند کیا۔

پھر پردے بھی کھینچ دیے۔

امی نے پریشانی سے پوچھا،

"سلیم... آخر بات کیا ہے؟"

ابو نے گہری سانس لی۔

"1998 میں..."

"تمہارے دادا کے کاروبار میں بہت بڑا نقصان ہوا تھا۔"

میں نے فوراً پوچھا،

"کس کی وجہ سے؟"

ابو خاموش رہے۔

مریم نے کہا،

"جمیل صاحب کی وجہ سے؟"

ابو نے سر اٹھایا۔

"ہاں..."

"لیکن پوری کہانی یہ نہیں ہے۔"

ابو نے الماری سے ایک پرانا رجسٹر نکالا۔

اس کے صفحات زرد ہو چکے تھے۔

ایک صفحے پر کئی نام اور رقمیں لکھی تھیں۔

پھر انہوں نے ایک جگہ انگلی رکھی۔

"یہ دیکھو۔"

وہاں لکھا تھا:

17 - امانت

میں نے حیرت سے پوچھا،

"یہ سترہ کیا ہے؟"

ابو نے کہا،

"تمہارے دادا نے کاروبار کی کچھ رقم اور اہم کاغذات ایک جگہ محفوظ کیے تھے۔"

"جمیل کو اس جگہ کا علم تھا۔"

"ایک رات وہ سب کچھ لے کر غائب ہو گیا۔"

میں نے فوراً کہا،

"تو وہی اصل چور تھا!"

ابو نے سر ہلایا۔

"ہم بھی یہی سمجھتے رہے۔"

"لیکن کچھ سال بعد..."

وہ رک گئے۔

"ایک خط آیا۔"

ابو نے جیب سے ایک پرانا لفافہ نکالا۔

لفافے پر دادا جان کا نام تھا۔

"یہ خط کس نے بھیجا تھا؟"

ابو نے کہا،

"اسی آدمی نے جو آج سیاہ گاڑی میں آتا ہے۔"

میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔

"اس کا نام؟"

ابو نے میری طرف دیکھا۔

"فراز۔"

امی اچانک بولیں،

"فراز؟"

ابو نے سر ہلایا۔

"ہاں۔"

"تمہارے دادا کا سب سے قریبی دوست۔"

وہی شخص جو تصویر میں جمیل کے ساتھ کھڑا تھا۔

میں نے پوچھا،

"پھر وہ آج تک کہاں تھا؟"

ابو نے آہستہ سے کہا،

"جمیل کے غائب ہونے کے بعد فراز بھی غائب ہو گیا تھا۔"

"ہم نے سمجھا وہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔"

"لیکن حقیقت..."

ابو کی آواز بھرا گئی۔

"وہ جمیل کے پیچھے گیا تھا۔"

"اس نے کئی سال اسے تلاش کیا۔"

"اور آخرکار اسے ڈھونڈ نکالا۔"

میں نے بےچینی سے پوچھا،

"پھر؟"

ابو نے کہا،

"جمیل مرنے سے پہلے فراز کو ایک چیز دے گیا تھا۔"

"وہی چیز..."

"جس کے لیے آج سب ہمارے پیچھے پڑے ہیں۔"

مریم نے فوراً پوچھا،

"کیا چیز؟"

ابو نے جواب نہیں دیا۔

اسی لمحے باہر سے گاڑی کا ہارن بجا۔

ہم سب چونک گئے۔

سیاہ گاڑی دوبارہ گیٹ کے سامنے کھڑی تھی۔

فراز اس بار اکیلا نہیں تھا۔

اس کے ساتھ ایک نوجوان بھی گاڑی سے باہر نکلا۔

وہ نوجوان سیدھا گھر کی طرف دیکھ رہا تھا۔

پھر فراز نے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا کہ دروازہ کھولو۔

ابو نے مجھے روک دیا۔

"عمران، نہیں۔"

مگر اسی وقت فراز نے دور سے آواز لگائی،

"سلیم!"

"میں لڑنے نہیں آیا۔"

"میں صرف وہ چیز واپس کرنے آیا ہوں..."

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

پھر بولا،

"جو تمہارے ابا نے میرے پاس امانت رکھی تھی۔"

ابو کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

میں نے حیرت سے پوچھا،

"ابو... کون سی امانت؟"

ابو نے میری طرف دیکھا۔

اور پہلی بار ان کی آنکھوں میں خوف نہیں...

شرمندگی تھی۔

وہ آہستہ سے بولے،

"عمران... وہ امانت تمہارے نام تھی۔"

جاری ہے ...

اگلی قسط:

"عمران کے نام وہ امانت... جس کے لیے فراز نے 28 سال انتظار کیا تھا!"

31/08/2026

"وہ چیز جو امی کو سب سے زیادہ چاہیے تھی... وقت تھا۔" ❤️

سیزن 2 - قسط نمبر 8"عمران کے لیے"فون میری ہتھیلی میں تھا۔اسکرین پر صرف ایک فائل تھی:"عمران کے لیے"میں نے ابو کی طرف دیکھ...
29/08/2026

سیزن 2 - قسط نمبر 8

"عمران کے لیے"

فون میری ہتھیلی میں تھا۔

اسکرین پر صرف ایک فائل تھی:

"عمران کے لیے"

میں نے ابو کی طرف دیکھا۔

"دادا جان نے میرا نام کیوں لکھا ہوگا؟"

ابو کچھ دیر خاموش رہے۔

پھر بولے،

"پتا نہیں بیٹا..."

"لیکن جو بھی ہے، اب تمہیں ہی معلوم کرنا ہوگا۔"

میں فون لے کر دادا جان کے پرانے کمرے میں چلا گیا۔

دروازہ بند کیا۔

ویڈیو چلائی۔

اسکرین پر دادا جان نظر آئے۔

چہرہ کمزور تھا، مگر آواز میں وہی رعب تھا۔

"عمران..."

میرا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔

"اگر تم یہ ویڈیو دیکھ رہے ہو تو شاید تم اتنے بڑے ہو چکے ہو کہ سچ برداشت کر سکو۔"

میں ساکت بیٹھا تھا۔

دادا جان نے چند لمحے خاموش رہ کر کہا،

"میں نے تمہارے ابو سے بھی یہ بات چھپائی..."

"کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے میرے بچوں کی زندگی خطرے میں پڑے۔"

پھر انہوں نے میز پر ایک پرانی تصویر رکھی۔

وہی تصویر!

جس میں دادا جان، جمیل صاحب اور وہ نامعلوم شخص کھڑے تھے۔

دادا جان بولے،

"ان دونوں میں سے ایک نے مجھے دھوکا دیا تھا۔"

میں نے بے اختیار سانس روک لی۔

"مگر دوسرا..."

دادا جان نے تصویر میں موجود نامعلوم شخص کی طرف انگلی کی۔

"...اس نے میری جان بچائی تھی۔"

میں چونک گیا۔

تو جس شخص سے ہم ڈر رہے تھے...

وہ دشمن نہیں تھا؟

دادا جان کی آواز دوبارہ آئی۔

"جمیل پر مجھے شروع سے شک تھا۔"

"لیکن میرے پاس ثبوت نہیں تھا۔"

"اصل ثبوت میں نے گھر میں چھپا دیا تھا۔"

ویڈیو اچانک رک گئی۔

میں نے گھبرا کر فون دیکھا۔

بیٹری پوری تھی۔

انٹرنیٹ بھی چل رہا تھا۔

پھر اسکرین پر ایک نئی سطر نمودار ہوئی:

"دوسرا حصہ حاصل کرنے کے لیے لالٹین کے نیچے دیکھو۔"

میں فوراً اٹھا۔

وہی لالٹین...

جس میں مجھے رات کو دھمکی والا پیغام ملا تھا۔

میں نے لالٹین اٹھائی۔

نیچے ایک چھوٹا سا مقناطیسی خانہ لگا تھا۔

اس میں ایک یادداشت کارڈ رکھا تھا۔

میں اسے لے کر واپس کمرے میں آیا۔

فون میں لگایا۔

ایک نئی ویڈیو سامنے آ گئی۔

میں نے اسے چلایا۔

دادا جان پھر اسکرین پر تھے۔

"عمران..."

"اگر تم یہاں تک پہنچ گئے ہو تو اب تمہیں ایک بات ضرور معلوم ہونی چاہیے۔"

وہ جھکے اور کیمرے کے قریب آئے۔

"جس شخص سے تم آج ڈر رہے ہو..."

"وہ تمہیں نقصان پہنچانے نہیں آیا۔"

میری آنکھیں پھیل گئیں۔

دادا جان نے آخری جملہ کہا:

"وہ تمہیں بچانے آیا ہے۔"

ویڈیو ختم ہوگئی۔

میں فوراً باہر نکلا۔

مریم، ابو، امی اور ثناء میرے منتظر تھے۔

میں نے سب کو ویڈیو کی بات بتائی۔

ابو چند لمحے بالکل خاموش رہے۔

پھر بولے،

"تو سیاہ گاڑی والا..."

"دشمن نہیں تھا؟"

مریم نے فوراً کہا،

"پھر وہ کون ہے؟"

میں نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ باہر سے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔

پوں... پوں!

ہم سب کھڑکی کی طرف بھاگے۔

وہی سیاہ گاڑی گیٹ کے سامنے کھڑی تھی۔

اس بار ڈرائیونگ سیٹ سے ایک شخص باہر نکلا۔

اس نے سیدھا گھر کی طرف دیکھا۔

پھر اپنی جیب سے وہی پرانی تصویر نکالی...

اور دور سے تصویر میری طرف اٹھا دی۔

تصویر کے پیچھے ایک جملہ لکھا تھا۔

میں نے دور سے بھی پڑھ لیا۔

"اپنے ابو سے پوچھو... 1998 میں اصل میں کیا ہوا تھا۔"

میں نے فوراً ابو کی طرف دیکھا۔

ان کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔

وہ آہستہ سے بولے،

"عمران... تمہیں یہ سوال کبھی نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔"

جاری ہے...

اگلی قسط:

"1998 - وہ رات جس کا ذکر ابو نے آج تک کسی سے نہیں کیا تھا..."

28/08/2026

سنک سے پانی نہیں جا رہا تھا... اصل مسئلہ کہیں اور تھا! 😩

سیزن 2 - قسط نمبر 7"وہ مجھے کیسے جانتا تھا؟"سیاہ گاڑی کی ہیڈلائٹس مسلسل ہمارے گھر پر پڑ رہی تھیں۔میں پردے کے پیچھے کھڑا ...
28/08/2026

سیزن 2 - قسط نمبر 7

"وہ مجھے کیسے جانتا تھا؟"

سیاہ گاڑی کی ہیڈلائٹس مسلسل ہمارے گھر پر پڑ رہی تھیں۔

میں پردے کے پیچھے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔

مریم میرے برابر آ گئی۔

"عمران..."

"وہ جا کیوں نہیں رہا؟"

میں نے آہستہ سے کہا،

"شاید کسی کا انتظار کر رہا ہے۔"

اتنے میں ابو نے پیچھے سے کہا،

"کوئی باہر نہیں جائے گا۔"

میں پلٹا۔

"لیکن ابو، ہمیں معلوم تو ہونا چاہیے کہ وہ کون ہے۔"

ابو نے سخت لہجے میں کہا،

"نہیں عمران!"

"یہ صرف تجسس نہیں رہا... اب خطرہ ہے۔"

اچانک گاڑی کی ہیڈلائٹس بند ہو گئیں۔

چند لمحوں بعد گاڑی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹی...

اور گلی سے غائب ہو گئی۔

ثناء نے لمبی سانس لی۔

"الحمدللہ..."

مگر مریم نے فوراً کہا،

"نہیں..."

"یہ جان بوجھ کر گیا ہے۔"

میں نے پوچھا،

"کیا مطلب؟"

اس نے کیمرے کی ریکارڈنگ کھولی۔

"وہ ہمیں ڈرانے نہیں آیا تھا۔"

"وہ چاہتا تھا ہم اسے دیکھیں۔"

میں نے حیرت سے پوچھا،

"کیوں؟"

مریم نے اسکرین میری طرف کر دی۔

گاڑی کے جاتے ہوئے آخری فریم میں...

اس کی پچھلی نمبر پلیٹ صاف نظر آ رہی تھی۔

مریم نے نمبر پڑھا۔

پھر اچانک خاموش ہو گئی۔

"یہ نمبر..."

"کیا ہوا؟"

اس نے میری طرف دیکھا۔

"یہ وہی نمبر ہے جو دادا جان کی ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا تھا۔"

میں نے فوراً ڈائری اٹھائی۔

آخری صفحے پر واقعی ایک نمبر درج تھا۔

LX-17

اور گاڑی کی نمبر پلیٹ تھی...

LX-17

میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔

ابو نے ڈائری دیکھی تو وہ بھی خاموش ہو گئے۔

میں نے پوچھا،

"ابو، اب تو بتا دیں..."

"یہ سب کیا ہے؟"

وہ کرسی پر بیٹھ گئے۔

کافی دیر بعد بولے،

"تمہارے دادا ایک آدمی پر بہت اعتماد کرتے تھے۔"

"وہ آدمی ان کا کاروباری ساتھی بھی تھا اور دوست بھی۔"

"لیکن ایک دن..."

ابو رک گئے۔

میں نے پوچھا،

"ایک دن کیا ہوا؟"

ابو نے آہستہ سے کہا،

"اس نے تمہارے دادا کو دھوکا دیا۔"

"اور وہ راز..."

"جس کی وجہ سے تمہارے دادا نے اپنی زندگی کے آخری سال خاموشی میں گزارے۔"

میں نے پوچھا،

"کیا راز؟"

ابو نے میری طرف دیکھا۔

"وہ راز اسی ڈبے میں ہے۔"

ہم سب دوبارہ میز کے گرد جمع ہو گئے۔

میں نے ڈبہ کھولا۔

کیسٹ کے نیچے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ تھا۔

میں نے اسے کھولا۔

صرف تین الفاظ لکھے تھے:

"گھر کی بنیاد۔"

مریم فوراً بولی،

"دادا جان کے گھر کی بنیاد؟"

ابو نے سر ہلایا۔

"پرانا گھر تو کب کا ختم ہو چکا۔"

میں نے اچانک کہا،

"لیکن اس گھر کی بنیاد تو ابھی ہے!"

سب میری طرف دیکھنے لگے۔

میں نے فرش کی طرف اشارہ کیا۔

"دادا جان کی الماری کے نیچے والا حصہ..."

"وہ ہمیشہ باقی فرش سے مختلف لگتا تھا۔"

ہم فوراً ان کے پرانے کمرے میں گئے۔

الماری ہٹائی۔

نیچے فرش پر واقعی ایک چھوٹا سا لوہے کا ڈھکن تھا۔

اس پر وہی نشان بنا ہوا تھا۔

17

مریم نے حیرت سے کہا،

"ایک ہی نمبر بار بار کیوں آ رہا ہے؟"

ابو نے ڈھکن کھولنے کی کوشش کی۔

وہ نہیں کھلا۔

میں نے چابی نکالی۔

کلک!

ڈھکن کھل گیا۔

اندر ایک چھوٹا سا خانہ تھا۔

اور اس میں...

ایک موبائل فون رکھا تھا۔

اتنا پرانا کہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ ابھی چل سکتا ہے۔

ثناء نے حیرت سے کہا،

"اس میں بیٹری بھی ہوگی؟"

میں نے فون اٹھایا۔

اسکرین خود بخود روشن ہو گئی۔

صرف ایک ویڈیو فائل موجود تھی۔

نام تھا:

"عمران کے لیے"

میرے ہاتھ کانپنے لگے۔

میں نے ویڈیو چلانے کے لیے انگلی آگے بڑھائی...

مگر اسی لمحے فون پر ایک پیغام آیا۔

"اس ویڈیو کو اکیلے دیکھنا۔"

میں نے سب کی طرف دیکھا۔

اور پہلی بار...

مجھے دادا جان کے راز سے زیادہ خوف اس بات کا ہونے لگا کہ وہ مجھے اتنے سال پہلے سے کیسے جانتے تھے۔

جاری رہے گا...

اگلی قسط:

"عمران کے لیے وہ ویڈیو... جس میں دادا جان نے موت سے پہلے ایک ایسا راز بتایا تھا جو ابو نے بھی کبھی نہیں سنا تھا۔"

سیزن 2 - قسط نمبر 6"وہ شخص زندہ ہے!"ابو کی بات سن کر میرے قدم وہیں رک گئے۔"جس نے یہ ڈبہ یہاں چھپایا تھا... وہ ابھی زندہ ...
26/08/2026

سیزن 2 - قسط نمبر 6

"وہ شخص زندہ ہے!"

ابو کی بات سن کر میرے قدم وہیں رک گئے۔

"جس نے یہ ڈبہ یہاں چھپایا تھا... وہ ابھی زندہ ہے۔"

مریم نے گھبرا کر پوچھا،

"لیکن ابو... آپ کو کیسے معلوم؟"

ابو نے کوئی جواب نہیں دیا۔

بس وہ گاڑی کی چابی ہاتھ میں لیے کھڑے رہے۔

میں نے چابی غور سے دیکھی۔

"ابو، اس پر تو گاڑی کا نمبر بھی لکھا ہے۔"

ابو نے چابی مجھ سے لے لی۔

ان کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔

پھر بولے،

"یہ گاڑی تمہارے دادا کے دوست کی تھی۔"

میں چونک گیا۔

"جمیل صاحب کی؟"

ابو نے سر ہلا دیا۔

"نہیں..."

"اس دوسرے آدمی کی۔"

وہی شخص...

جس کی تصویر ہم نے سترہ نمبر والے خانے سے نکالی تھی۔

ہم ڈبہ لے کر واپس گاڑی کی طرف بڑھے۔

راستے میں مریم نے اچانک پوچھا،

"ابو، آپ ہمیں آخر بتاتے کیوں نہیں کہ یہ سب کیا ہے؟"

ابو کچھ دیر خاموش رہے۔

پھر بولے،

"کیونکہ میں چاہتا تھا تم دونوں اس راز سے ہمیشہ دور رہو۔"

میں نے بےاختیار کہا،

"لیکن اب وہ لوگ ہمارے گھر تک پہنچ چکے ہیں۔"

ابو نے میری طرف دیکھا۔

"اسی لیے اب وقت آ گیا ہے کہ تمہیں سب کچھ معلوم ہو۔"

میرا دل تیز دھڑکنے لگا۔

مگر ابو نے فوراً کچھ نہیں بتایا۔

گھر پہنچتے ہی امی دروازے پر کھڑی تھیں۔

"اتنی دیر کیوں لگا دی؟"

پھر ان کی نظر ڈبے پر پڑی۔

"یہ کیا ہے؟"

ابو نے جواب دینے کے بجائے کہا،

"سب کو اندر بلاؤ۔"

ثناء، عائشہ اور مریم بھی آ گئیں۔

ہم نے ڈبہ میز پر رکھا۔

ابو نے کیسٹ اٹھائی۔

"یہ تمہارے دادا کی آواز ہے۔"

میں حیران رہ گیا۔

"مگر اسے سنیں گے کیسے؟"

ثناء نے فوراً موبائل اٹھایا۔

"اب زمانہ بدل گیا ہے، عمران بھائی۔"

اس نے کیسٹ کو محفوظ طریقے سے ڈیجیٹل شکل میں چلانے کا انتظام کیا۔

چند لمحوں بعد کمرے میں دادا جان کی بھاری آواز گونجی۔

"اگر تم یہ ریکارڈنگ سن رہے ہو..."

امی نے فوراً اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لیا۔

دادا جان کی آواز آگے آئی۔

"تو اس کا مطلب ہے کہ میری سب سے بڑی غلطی دوبارہ ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔"

کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔

پھر انہوں نے کہا،

"جمیل پر کبھی مکمل اعتبار مت کرنا..."

میں نے ابو کی طرف دیکھا۔

ابو کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔

دادا جان کی آواز جاری تھی۔

"کیونکہ اصل راز جمیل کے پاس نہیں..."

ایک لمحے کے لیے آواز رکی۔

پھر اگلا جملہ آیا۔

"...بلکہ میرے اپنے گھر میں ہے۔"

میرے جسم میں جیسے سنسنی دوڑ گئی۔

اچانک ریکارڈنگ بند ہو گئی۔

ثناء نے موبائل دیکھا۔

"بس؟"

"فائل تو پوری ہے!"

میں نے حیرت سے پوچھا،

"پھر آواز کیوں رک گئی؟"

مریم نے کیسٹ کے ساتھ پڑی تصویر اٹھائی۔

اس کے پیچھے کچھ لکھا تھا۔

اس نے بلند آواز میں پڑھا:

"دوسرا حصہ سننے کے لیے گھر کی وہ چیز تلاش کرو جو رات کو خود روشن ہوتی ہے۔"

ہم سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔

امی نے فوراً کہا،

"رات کو خود روشن ہونے والی چیز؟"

ثناء بولی،

"صحن کی لائٹ؟"

مریم نے سر ہلایا۔

"نہیں..."

"وہ تو بجلی سے چلتی ہے۔"

میری نظر اچانک صحن کی طرف گئی۔

مجھے یاد آیا...

دادا جان کے کمرے کے باہر ایک پرانی لالٹین ہوا کرتی تھی۔

لیکن وہ برسوں سے خراب پڑی تھی۔

میں اٹھ کر باہر گیا۔

لالٹین وہیں تھی۔

میں نے اسے اٹھایا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے اندر تازہ بیٹریاں لگی ہوئی تھیں۔

میں نے سوئچ دبایا۔

روشنی جل اٹھی۔

اور اسی روشنی میں لالٹین کے اندر ایک چھوٹا سا کاغذ نظر آیا۔

میں نے کاغذ نکالا۔

اس پر صرف ایک جملہ تھا:

"عمران، اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو سمجھ لو... میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔"

میرے ہاتھ سے کاغذ تقریباً گر گیا۔

مریم میرے پیچھے کھڑی تھی۔

اس نے آہستہ سے پوچھا،

"کون؟"

میں نے جواب نہیں دیا۔

کیونکہ اسی لمحے...

گھر کے باہر سڑک پر ایک گاڑی رکی۔

وہی سیاہ گاڑی

اور اس بار...

ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا شخص باہر نہیں آیا۔

وہ صرف گاڑی کی ہیڈلائٹس جلا کر...

سیدھا ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔

جاری ہے ...

اگلی قسط:

"سیاہ گاڑی والا آخر کون تھا؟ اور دادا جان نے عمران کا نام پہلے ہی کیوں لکھ دیا تھا؟"

24/08/2026

"رات کو باہر سے آواز آئی... پھر لائٹ خود جل گئی!" 😨

سیزن 2 - قسط نمبر 5"پرانا کنواں"رات بھر وہ جملہ میرے ذہن میں گھومتا رہا۔"کنویں تک اکیلے مت جانا۔"صبح ناشتے کی میز پر بھی...
24/08/2026

سیزن 2 - قسط نمبر 5

"پرانا کنواں"

رات بھر وہ جملہ میرے ذہن میں گھومتا رہا۔

"کنویں تک اکیلے مت جانا۔"

صبح ناشتے کی میز پر بھی میں خاموش تھا۔

مریم نے آخر پوچھ ہی لیا،

"عمران، رات سے اتنے پریشان کیوں ہو؟"

میں نے ڈائری میز پر رکھ دی۔

"مجھے لگتا ہے ہمیں آج ہی گاؤں جانا چاہیے۔"

ثناء فوراً بولی،

"ہمیں؟"

"ہاں، میں، مریم اور ابو۔"

امی نے گھور کر کہا،

"اور میں؟"

میں مسکرا دیا۔

"امی، آپ جائیں گی تو راز ڈھونڈنے کے بجائے راستے میں سب کو کھانا کھلاتی رہیں گی۔"

امی نے چمچ میز پر رکھتے ہوئے کہا،

"بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری!"

مریم ہنسنے لگی۔

کچھ دیر بعد ہم سب تیار تھے۔

گاؤں پہنچتے ہی عجیب سی خاموشی محسوس ہوئی۔

وہی پرانا راستہ...

وہی نیم کا درخت...

اور آخر میں وہ جگہ جہاں کبھی دادا جان کا گھر ہوا کرتا تھا۔

کنواں کچھ فاصلے پر تھا۔

لوہے کا پرانا ڈھکن ابھی تک لگا ہوا تھا۔

ابو کچھ دیر اسے دیکھتے رہے۔

پھر آہستہ سے بولے،

"تمہارے دادا نے اسے بند کروانے کے بعد کبھی یہاں قدم نہیں رکھا تھا۔"

میں نے پوچھا،

"کیوں؟"

ابو نے میری طرف دیکھا۔

"کیونکہ یہاں ایک حادثہ ہوا تھا۔"

"کیا؟"

وہ خاموش ہو گئے۔

مریم نے میری طرف دیکھا۔

"لگتا ہے آج پھر آدھی بات ملے گی۔"

میں نے کنویں کے قریب جا کر ڈھکن دیکھا۔

اس پر زنگ لگا ہوا تھا...

مگر ایک جگہ عجیب بات نظر آئی۔

زنگ کے درمیان تازہ خراشیں تھیں۔

جیسے کسی نے حال ہی میں اسے کھولنے کی کوشش کی ہو۔

میں نے فوراً ابو کو بلایا۔

"یہ دیکھیں۔"

ابو جھک کر دیکھنے لگے۔

ان کے چہرے پر تشویش پھیل گئی۔

"کوئی ہم سے پہلے یہاں آ چکا ہے۔"

اچانک مریم نے زمین سے ایک چیز اٹھائی۔

ایک چھوٹی سی دھاتی پلیٹ۔

اس پر صرف ایک نمبر کندہ تھا۔

17

میرا دل زور سے دھڑکا۔

"یہی نمبر..."

ابو نے پلیٹ ہاتھ میں لی۔

پھر کنویں کی دیوار کے قریب جا کر ایک پرانی اینٹ پر ہاتھ پھیرا۔

اچانک انہوں نے مجھے پیچھے ہٹنے کو کہا۔

"عمران..."

"یہاں کچھ ہے۔"

ایک اینٹ باقی اینٹوں سے مختلف تھی۔

ابو نے اسے کھینچا۔

اینٹ نکل آئی۔

پیچھے ایک چھوٹا سا خفیہ خانہ تھا۔

اندر ایک پرانا لوہے کا ڈبہ رکھا تھا۔

مریم نے حیرت سے کہا،

"دادا جان نے یہ یہاں چھپایا تھا؟"

ابو نے ڈبہ باہر نکالا۔

تالا لگا ہوا تھا۔

میں نے جیب سے وہی چابی نکالی...

سترہ نمبر والی۔

چابی تالے میں بالکل فٹ بیٹھ گئی۔

میں نے چابی گھمائی۔

کلک!

ڈبہ کھل گیا۔

اندر ایک پرانی کیسٹ...

چند تصویریں...

اور ایک چھوٹا سا کاغذ تھا۔

کاغذ پر لکھا تھا:

"اگر یہ ڈبہ تم تک پہنچ گیا ہے تو سمجھ لو کہ وہ لوگ دوبارہ آ چکے ہیں۔"

مریم نے میری طرف دیکھا۔

"وہ لوگ کون؟"

میں جواب دیتا...

اس سے پہلے پیچھے سے خشک پتوں پر کسی کے چلنے کی آواز آئی۔

ہم تینوں ایک ساتھ پلٹے۔

درختوں کے پیچھے کوئی کھڑا تھا۔

ابو نے بلند آواز میں کہا،

"کون ہے؟"

کوئی جواب نہیں آیا۔

پھر ایک سایہ تیزی سے بھاگا۔

میں بھی اس کے پیچھے دوڑا۔

چند قدم بعد وہ شخص نظروں سے غائب ہو چکا تھا۔

زمین پر صرف ایک چیز پڑی تھی۔

ایک پرانی گاڑی کی چابی۔

میں نے اسے اٹھایا۔

اس پر ایک چھوٹا سا نشان بنا تھا۔

بالکل وہی نشان...

جو دادا جان کی الماری پر تھا۔

میں نے پیچھے مڑ کر ابو کو دیکھا۔

ان کے چہرے پر خوف صاف نظر آ رہا تھا۔

انہوں نے آہستہ سے کہا،

"عمران... اب ہمیں یہ ڈبہ گھر نہیں لے جانا چاہیے۔"

میں نے حیرت سے پوچھا،

"کیوں؟"

ابو نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،

"کیونکہ جس نے یہ ڈبہ یہاں چھپایا تھا... وہ ابھی زندہ ہے۔"

جاری ہے ...

اگلی قسط:
"وہ شخص زندہ ہے... مگر ابو اسے دیکھ کر اتنے خوفزدہ کیوں ہوئے؟"*"وہ شخص زندہ ہے... مگر ابو اسے دیکھ کر اتنے خوفزدہ کیوں ہوئے؟"

23/08/2026

کچن میں یہ غلطی روز پانی ضائع کر رہی ہے! 💧

سیزن 2 - قسط نمبر 4"سیاہ گاڑی والا شخص"سلیم صاحب نے پردہ فوراً چھوڑ دیا۔"سب لوگ پیچھے ہٹ جاؤ۔"ان کی آواز میں ایسی سنجیدگ...
23/08/2026

سیزن 2 - قسط نمبر 4

"سیاہ گاڑی والا شخص"

سلیم صاحب نے پردہ فوراً چھوڑ دیا۔

"سب لوگ پیچھے ہٹ جاؤ۔"

ان کی آواز میں ایسی سنجیدگی تھی کہ کسی نے سوال نہیں کیا۔

میں نے آہستہ سے پوچھا،

"ابو... آپ اسے جانتے ہیں؟"

انہوں نے جواب نہیں دیا۔

بس اتنا کہا،

"دروازہ کوئی نہیں کھولے گا۔"

مریم نے فوراً موبائل پر گھر کے باہر لگے چھوٹے کیمرے کی تصویر دیکھی۔

سیاہ گاڑی ابھی وہیں کھڑی تھی۔

"عمران..."

"وہ آدمی گاڑی سے نہیں گیا۔"

میں نے اسکرین دیکھی۔

وہ شخص گھر کو دیکھ رہا تھا۔

اچانک مریم نے کہا،

"ذرا رکو..."

"اس کے ہاتھ میں کیا ہے؟"

میں نے تصویر بڑی کی۔

اس کے ہاتھ میں ایک پرانی سی تصویر تھی۔

اور حیرت کی بات یہ تھی کہ...

وہی تصویر ہمارے پاس بھی تھی۔

دادا جان...

جمیل صاحب...

اور وہ نامعلوم شخص۔

ثناء نے گھبرا کر پوچھا،

"بھائی، پولیس کو فون کریں؟"

سلیم صاحب نے فوراً کہا،

"ابھی نہیں۔ پہلے مجھے معلوم کرنا ہے کہ یہ شخص یہاں کیوں آیا ہے۔"

میں نے حیرت سے پوچھا،

"لیکن اگر خطرہ ہوا تو؟"

انہوں نے جواب دیا،

"خطرہ صرف باہر نہیں ہوتا عمران..."

"...کبھی کبھی وہ گھر کے اندر چھپا ہوتا ہے۔"

یہ جملہ سن کر سب خاموش ہو گئے۔

اچانک باہر کی لائٹ بند ہو گئی۔

اندھیرا چھا گیا۔

مریم نے فوراً صحن کی طرف دیکھا۔

"عمران، ذرا پچھلا دروازہ دیکھو۔"

میں ٹارچ لے کر نکلا۔

دروازہ بند تھا۔

مگر کنڈی...

کھلی ہوئی تھی۔

میں نے فوراً دروازہ بند کیا۔

اسی وقت اوپر سے ہلکی سی آواز آئی۔

ٹک... ٹک...

میں نے سر اٹھایا۔

چھت پر کوئی چل رہا تھا۔

میں نے فوراً سلیم صاحب کو آواز دی۔

وہ آئے، مگر تب تک آواز بند ہو چکی تھی۔

مریم نے مشورہ دیا،

"کل ہم باہر کی روشنی بھی بہتر کر لیتے ہیں۔ اندھیرے میں کون کہاں ہے، کچھ پتا نہیں چلتا۔"

میں نے فوراً سر ہلایا۔

"کل صحن اور پچھلے راستے پر شمسی حرکت محسوس کرنے والی لائٹ لگا دیتے ہیں۔"

سلیم صاحب نے پہلی بار اطمینان سے کہا،

"اچھا خیال ہے۔"

رات تقریباً تین بجے سیاہ گاڑی خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔

ہم نے سمجھا شاید خطرہ ٹل گیا۔

لیکن صبح جب میں گیٹ کھولنے گیا...

تو وہاں ایک چھوٹا سا کاغذ پڑا تھا۔

میں نے اٹھایا۔

اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:

"سترہ نمبر کا خانہ کھول کر تم نے وہ غلطی کی ہے... جس کی قیمت تمہیں ادا کرنی پڑے گی۔"

میرا ہاتھ کانپ گیا۔

مریم میرے پیچھے آ کھڑی ہوئی۔

اس نے کاغذ پڑھا...

پھر اچانک بولی،

"عمران..."

"ہم نے تو صرف خانہ کھولا ہے۔"

"اسے کیسے معلوم ہوا؟"

میں نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اندر سے امی کی چیخ سنائی دی۔

"عمران! جلدی آؤ!"

ہم دونوں بھاگتے ہوئے اندر پہنچے۔

امی کے ہاتھ میں دادا جان کی وہ ڈائری تھی...

اور اس کا آخری صفحہ کھلا ہوا تھا۔

اس پر ایک نئی سطر لکھی تھی۔

"اگر کوئی تمہیں دھمکی دے... تو کنویں تک اکیلے مت جانا۔"

میں نے ابو کی طرف دیکھا۔

وہ پہلے ہی سمجھ چکے تھے...

کسی نے ہمیں کنویں تک پہنچنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا تھا۔

جاری ہے...

اگلی قسط:
"پرانا کنواں... جہاں دادا جان نے آخر ایسا کیا چھپایا تھا؟"

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shaharam Essentials posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share