Noor E Hira

Noor E Hira f

اور ایک بت شکن پیدا ہواباب سومدو مائیں حصہ دوم اقر اخلاقی مجرموں کی طرح پیش کیا جائے سورج غروب ہونے تک خانہ جنگی کا یہ ا...
18/06/2025

اور ایک بت شکن پیدا ہوا
باب سوم
دو مائیں
حصہ دوم
اقر اخلاقی مجرموں کی طرح پیش کیا جائے
سورج غروب ہونے تک خانہ جنگی کا یہ انتہائی خونریز معرکہ ختم ہو چکا تھا۔ اسماعیل کے عسکری ٹولیوں میں بیٹھ گئے تھے۔ محمود کے سپاہی ان پر پہرہ دے رہے تھے۔ بڑی ہی بھیانک آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ زخمی کراہ رہے تھے۔ بعض چیخ رہے تھے۔ زخمی ہاتھی چنگھاڑ رہے تھے۔ زخمی گھوڑوں کی آوازیں بڑی ڈراؤنی تھیں۔ رات گہری ہوتی جا رہی تھی ،
زخمی اٹھائے جا رھے تھے۔ معرکے سے پہلے ہی محدود غزنوی نے حکم دے دیا تھا کہ دونوں فوجیوں کے زخمیوں کی دیکھا بھال کرنی ھے
محمود غزنوی گھوڑے سے اُتر کر سینکڑوں مشعلوں کی روشنی میں لاشوں کے درمیان چل رہا تھا۔ اُسے ایک نسوانی پکار سنائی دی محمود محمود وہ اس آواز کو پہچانتا تھا۔ وہ اس آواز کی طرف دوڑ پڑا، یہ اُس کی ماں کی آواز تھی، مشعلوں کے درمیان گھومتے پھرتے شعلوں میں اُسے اپنی ماں لاشوں سے پھلانگتی اپنی طرف آتی دکھائی دی۔ محمود نے اُس کے قریب جا کر اس کے پاؤں پکڑ لیے، ماں نے اُسے اُٹھا کر اس کا سر اور منہ چوما۔ دونوں پر اتنی رقت طاری تھی کہ وہ بول نہ سکے۔
کچھ جزباتی باتوں کے بعد محمود نے ماں کو رخصت کر دیا۔ محمود کا اپنا بھی میدان جنگ میں کوئی کام نہیں تھا لیکن وہ میدان جنگ سے جانا نہیں چاہتا تھا۔ اُس پر جذبات کا ایسا غلبہ تھا کہ وہ کسی لاش کے پاس رک جاتا۔ کوئی مشعل برادر قریب سے گزرتا تو محمود اُسے روک لیتا۔ مشعل کی روشنی میں لاش کے چہرے کو غور سے دیکھتا اور آگے چل پڑتا۔
شاید وہ دل پہ بوجھ لیے اپنے بھائی کو تلاش کر رھا تھا
وہ اسی طرح سر جھکائے چلا جا رہا تھا کہ اسے اپنی ماں کی طرح کی ایک اور نسوانی آواز سنائی دی محمود۔۔۔۔
وہ رک گیا، دو مشعل برادروں کے درمیان ایک خاتون، شاہی لباس میں ملبوس آہستہ آہستہ اُس کی طرف آرہی تھی۔ وہ خوبصورت عورت تھی ۔ شاہی خاندان کی عورت تھی۔ وہ اُس کے باپ کی دوسری بیوی تھیں مگر اُسے دیکھ کر محمود غزنوی کا خون کھول اٹھا
کیونکہ وہ اسماعیل کی ماں تھی، محمود اُس کی طرف بڑھنے کی بجائے رک گیا۔ اسماعیل کی ماں اُس کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔

یہ دیکھنے آئی ہو کہ تمہارے بیٹے نے غزنی کی فوج کے کتنے ہزار آدمیوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرایا ہے ؟ محمود نے پوچھا "یا یہ دیکھنے آئی ہو کہ آپس میں لڑ کر مرنے والے سپاہیوں کے کراہنے کی آوازیں کیسی لگتی ہیں ؟“

میں کچھ بھی دیکھنے نہیں آئی اسماعیل کی ماں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا
میں کچھ سننے نہیں آئی، میں اپنے بیٹے کی جاں بخشی کی التجا لے کر آئی ہوں ۔

کہاں ہے تمہارا بیٹا ؟ محمود نے کہا میں نے اُسے دیکھا ہی نہیں ۔

وہ اپنے خیمے میں ہے" ماں نے جواب دیا " بھاگ نکلنے کے رستے بند ہو چکے ہیں، وہ اکیلا ہے سب اس کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں ۔

کیا وہ بھی اُس کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں جنہیں خوشامد کی بدولت تمہارے بیٹے نے کماندار سے سالار
بنایا تھا ؟ محمود نے پوچھا ”وہ فقیر بھی اُسے تنہا چھوڑ گئے ہیں جنہیں تمہارے بیٹے نے امیر اور وزیر بنا دیا تھا؟ ظل الہی اور سلطان عالی مقام کہلانا آسان ہے لیکن ظل الہی اور سلطان عالی مقام بن کر دکھانا بڑا ہی مشکل ہے۔“

محمود اسماعیل کی ماں نے التجا کے لہجے میں کہا "تمہیں حق پہنچتا ہے کہ جو الٹی سیدھی زبان پر آئے کہہ دو میں اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگنے آئی ہوں ۔

اگر تم میری جگہ ہوتیں تو کیا اپنے اسماعیل کو اتنے انسانوں کا خون بخش دیتیں؟ محمود نے کہا اپنے اپکو دیکھو اور اپنے آپ سے پوچھو کہ جن کے خون سے تمہارے پاؤں لتھڑ گئے ہیں اور جن کے خون کے چھینٹے تمہارے ٹخنوں کے اوپر تک جاپڑے ہیں، وہ کون تھے ؟ تم ایک سلطان کی بیوہ ہو، سلطان کی بیوی ہو یا، بیوہ، قوم کا ہر فرد اور سپاہی اُس کا اپنا بچہ ہوتا ہے۔ کیا یہ تمہارے بیٹے نہیں تھے جن کے خون سے پھلانگتی اور جن کی لاشوں سے ٹھوکریں کھاتی تم مجھ سے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگنے آئی ہو؟ قوم اور فوج کے خون کے ساتھ کھیلنے والے حکمران اسی انجام کو پہنچتے ہیں جس تک تمہارا بیٹا پہنچ چکا ہے۔ کل کا سلطان آج کا مفرور مجرم ہے ۔

محمود! میں تمہاری ماں تو نہیں، تمہارے مرحوم باپ کی بیوہ ہوں اسماعیل کی ماں نے کہا ..

اپنے باپ کی روح کی خاطر مجھے میرا بچہ دے دو۔ میں اس سلطنت سے نکل جاؤں گی، تمہارے باپ کو میرے ساتھ اتنی ہی محبت تھی جتنی تمہاری ماں سے تھی۔“

اور تم نے اس محبت سے یہ فائدہ اٹھایا کہ اپنے خاوند کو اُس کے نزع کے عالم میں دھوکہ دیا اور اپنے اُس بیٹے کو سلطنت کا بادشاہ بنوالیا جس نے سلطنت کو ڈبونے کا اہتمام کر دیا۔ تم اُس قوم کی ماں ہو جس کی مائیں میری ماں کی طرح اپنے بیٹوں کو جوان کر کے محاذ کو رخصت کیا کرتی تھیں ۔ تم نے اپنے بیٹے کو تخت پر بٹھا کر اُس کے سر پر تاج رکھا تم نے اُسے مجرم بنایا ۔

محمود غزنوی نے اپنے پاس کھڑے دو عہدیداروں سے کہا۔ اس خاتون کے ساتھ جاؤ اور اس کے بیٹے کو میرے سامنے لے آؤ۔“

اُس وقت اسماعیل اپنے خیمے میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔ اُس نے جب خیمے میں دو عہد یداروں کو داخل ہوتے دیکھا تو وہ اٹھا اور سرتا پا کانپنے لگا۔ اُس نے ان عہدیداروں سے کہا کہ وہ اُسے فرار کرادیں تو وہ انہیں منہ مانگا انعام دے گا۔ عہدیداروں نے کوئی جواب دیئے بغیر اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے پکڑ کر سلطان کے پاس لے چلو، وہ خود ہی ان کیساتھ چل پڑا۔ اُس کی ماں اس کے پیچھے پیچھے آئی۔

اسے جب محمود غزنوی کے سامنے کھڑا کیا گیا تو محمود نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا ۔ تمہاری ماں نے مجھ سے تمہاری زندگی کی بھیک مانگی ہے، میں ایک ماں کی استدعا قبول کرتا ہوں ، تمہیں زندہ رہنے دوں گا۔

مشہور مؤرخ محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے محمود غزنوی نے اسماعیل سے پوچھا اگر فتح تمہاری ہوتی اور میں تمہارا قیدی ہوتا تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے؟ اسماعیل نے جواب دیا میں تمہیں مارتا نہیں مگر تمہاری آزادی چھین لیتا اور تمہیں ایک محل میں تمام آسائشوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے قید کر دیتا
محمود غزنوی نے کہا
میں تمہارے ساتھ اس سے برا سلوک نہیں کروں گا تم ساری عمر کے لیے جو جان کے قلعے میں قید رہو گے جہاں آزادی کے علاؤہ زندگی کی ہر آسائش اور سہولت مہیا کی جائے گی، اپنی ماں کو اپنے ساتھ لے جاسکتے ہو

اسماعیل نے باقی عمر اپنی ماں کے ساتھ اس قلعے میں گزاری ایک بہت بڑا خطرہ ٹل گیا۔

اس وقت جب سلطنت غزنی میں ایک اور خانہ جنگی لڑی جا چکی تھی اور غزنی کی بہترین فوج کی خاصی نفری کم ہوگئی تھی لاہور میں راجہ جے پال تک یہ اطلاع پہنچی کہ سلطان سبکتگین مر گیا ہے، اس لیے اب غزنی کو آسانی سے فتح کرلیں گے کیونکہ سبکتگین مر گیا ہے ۔ جرنیلوں کو ہلایا اور انہیں خوشی سے یہ خبر سنائی کیا ہماری فوج حملے کے لیے تیار ہے؟ راجہ جے پال نے پوچھا۔

پہلے دو تجربوں کو سامنے رکھو کہ ہمیں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے ایک جرنیل نے جواب دیا ایک آدمی کے مرجانے سے پوری قوم نہیں مر جایا کرتی ... غزنی کی فوج میں جو جذبہ ہے، وہ اُن کے ایک سلطان کے مرجانے سے نہیں مرے گا، ہماری فوج پیشقدمی کے لیے تیار ہے لیکن اس میں ابھی لڑنے کا وہ جذبہ نہیں ھے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں۔ مندروں میں پنڈت بھی لوگوں کو یہی بتاتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ مذہبی جنگ ہے۔“

سبکتگین کا بیٹا محمود جوان ہو گیا ہے. دوسرے جرنیل نے کہا میں یہ تو نہیں بتا سکتا کہ وہ پوری فوج کی کمان کے قابل ہے یا نہیں، میں نے اس کے دو حملے دیکھے ہیں، مجھے اس میں قابلیت اور جرات نظر آتی ہے، ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کس حد تک قابل ہے ۔“

پہلے میں یہی معلوم کرلوں گا"
راجہ جے پال نے کہا
"تمہیں معلوم ہے کہ میرے پاس غزنی کی فوج کے اونچے درجے کے دو قیدی ہیں۔ میں ان سے معلوم کرلوں گا، آپ لوگ فوج کی تربیت اور تیاری تیز کردیں۔ میں اب بہت جلدی غزنی کی طرف کوچ کروں گا ، سبتگین کا کوئی بھی بیٹا سبتگین جتنا قابل جرنیل نہیں ہو سکتا۔ مجھے امید ہے کہ اب ہم دو شکستوں کا انتقام لے کر سبکتگین کی سلطنت پر قبضہ کر سکیں گے، میں ایک لڑکی کی جان کی قربانی بھی دے رہا ہوں، پنڈتوں نے لڑکی حاصل کر لی ہے۔ اسے خاص عمل کے بعد قربان کیا جائے گا۔

راجہ جے پال نے غزنی کے جن دو قیدیوں کا ذکر کیا تھا، وہ نظام اوبیزی اور قاسم ہی تھے،راجہ جے پال ان سے جاننا چاہ رہا تھا کہ غزنی کی فوج کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ ان دونوں نے اسے تاثر دے رکھا تھا کہ یہ ایک گہرا راز ہے جو وہ نہیں بتائیں گے۔ راجہ جے پال نے انہیں راج محل کے ساتھ ایک کمرہ دے دیا تھا جہاں ایک مسلمان ملازم انہیں کھانا کھلاتا تھا۔ یہ مسلمان غزنی کا
جاسوس تھا۔
جاسوس تھا۔ وہ خوبرو اور ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تیز نظر تھا۔
راجہ ہے پال کو دوسری شکست نے دیوانہ بنارکھا تھا۔ وہ غزنی پر ایک اور حملے کے لیے فوج کی نئی بھرتی اور تیاری میں اتنا مصروف تھا کہ غزنی کے ان دو قیدیوں کی طرف توجہ نہ دے سکا۔

یہ مسلمان ملازم، جس کا نام بلاذری تھا انہیں کہہ رہا تھا کہ وہ راجہ کو کوئی جھوٹ موٹ کا راز بتا دیں، ورنہ وہ انہیں قید خانے میں ڈال کر بڑی ہی بھیانک اذیتیں دے گا، بلاذری کا مقصد یہ تھا کہ یہ دونوں راجہ پر اپنا اعتماد پیدا کر لیں تو ان کے فرار کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ راجہ کو اعتماد میں لینے سے یہ فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا تھا کہ اس سے یہ معلوم کر لیا جاتا کہ وہ کب تک غزنی پر حملہ کر رہا ہے اور اب کسی طرف سے حملہ کرے گا۔ پشاور کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی ہو سکتا تھا۔

اب راجہ تمہیں بلائے تو اسے دھوکہ دو عمران بلاذری نے ایک روز انہیں کہا۔ میں نے تمہیں چھپانے کا انتظام کر لیا ہے تمہیں یہاں سے جلدی نکالنا ہوگا ، ہو سکتا ہے میں یہاں سے غائب ہو جاؤں ۔ ایک فرض تو سلطنت کی طرف سے مجھ پر عائد ہے جو مجھے پورا کرنا ہے، اور کرتا رہتا ہوں۔

بلاذری نے کہا ... مگر میں انسان بھی ہوں، میرے جذبات بھی ہیں، مجھ پر ایک اور فرض آپڑا ہے، میں تم دونوں سے کچھ چھپاؤں گا نہیں ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے، پنڈتوں نے راجہ جے پال کو بتایا تھا کہ وہ ایک کنواری لڑکی کی قربانی دے تو اسے فتح ہوگی۔ یہ قوم وحشی ہے اور بربریت پسند کسی عورت کا خاوند مر جائے تو اس کی بیوہ کو اس کی لاش کے ساتھ زندہ جلا دیتے ہیں۔ یہ لوگ انسانی قربانی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پنڈت کو کسی خاص شکل، رنگ اور عمر کی بڑی خوبصورت کنواری لڑکی مل گئی ہے، اسے وہ کسی مندر میں لے گئے ہیں، اسے قربانی کے لیے تیار کیا جائے گا، مجھے اس لڑکی کو بچاتا ہے۔“

اس سے ہمیں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ نظام اور یزی نے پوچھا یہ کافر اپنی تمام لڑکیوں کو اپنے بتوں کے آگے قربان کر دیں ہمیں اس سے کیا ؟“

یہ لڑکی مجھے اس قدر چاہتی ہے کہ میرے ساتھ چلنے کو تیار تھی عمران بلاذری نے کہا وہ اسلام قبول کرنے کا بھی فیصلہ کر چکی تھی ، میں اسے کب کا نکال لے جاتا لیکن جاسوس کی حیثیت سے میرا فرض مجھے یہاں سے نکلنے نہیں دے رہا۔ میں یہاں سے کوئی کام کی اطلاع یا راجہ جے پال کے آئندہ عزائم کی صحیح خبر لے کر غزنی کو روانہ ہونا چاہتا تھا۔ لڑکی جب مجھ ملتی یہی کہتی کہ میں اُسے غزنی لے چلوں۔ اتنے میں تم دونوں آگئے، یہ بھی میرے فرائض میں شامل ہے کہ تمہیں یہاں سے فرار کراؤں، میں لڑکی کو ساتھ لے کر تمہارے ساتھ نکل جانے کا ارادہ کیے ہوئے تھا۔ ایک روز لڑکی مندر میں گئی اور واپس نہ آئی۔ مجھے پتہ چل گیا کہ پنڈتوں نے اسے قربانی کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ قربانی دینے میں ابھی بہت دن ہیں۔ مجھے مجرم ، غدار کہہ لو جو جی میں آئے کہہ لو، لیکن میں ڈرتا ہوں کہ محبت فرض پر غالب آجائے گی۔ تم راجہ کو اعتماد میں لو اور یہاں سے نکلو میں تمہیں کچھ دن چھپائے رکھوں گا ، پھر لاہور سے نکال بھی دوں گا ۔“

تم ہم سے جلدی فارغ ہونا چاہتے ہو قاسم بنی نے کہا۔

ہاں بلاذری نے جواب دیا " بہت جلدی مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی ۔

اس سے ایک دو روز بعد انہیں راجہ جے پال نے بلا لیا۔

"کیا تم میرے سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہو ؟ راجہ نے کہا " مجھے امید ہے کہ تم اپنے آپ پر رحم کرو گے۔"

ہاں مہاراج نظام اوریزی نے کہا ۔ آپ نے ہمارے ساتھ جو اچھا سلوک کیا ہے، اس کے عوض ہم آپ کو ہر سوال کا جواب دیں گے۔“

تمہارا سلطان سبکتگین مر گیا ہے۔ راجہ جے پال نے انہیں خبر سنائی۔

دونوں چونک اٹھے لیکن سنبھل گئے ۔

اب غزنی کی سلطنت کو بچانے والا کوئی نہیں رہا۔ راجہ نے کہا ” تم اب میرا ساتھ دو، میں تمہیں اپنی فوج میں عہدہ بھی دے سکتا ہوں ... مجھے یہ بتاؤ کہ اُس کا بیٹا محمود اپنے باپ کی جگہ فوج کی کمان کر سکتا ہے؟ اس میں جنگی قابلیت کتنی کچھ ہے؟“

اتنی نہیں جتنی سلطان سبکتگین میں تھی اوریزی نے جواب دیا ” میدانِ جنگ میں وہ اپنی مخصوص چالیں چلتا ہے، اگر آپ کو یہ چالیں بتا دی جائیں تو آپ اسے آسانی سے شکست دے سکتے ہیں، آپ کو دوسری شکست محمود کی چالوں نے ہی دی ہے۔“

ان دونوں نے راجہ جے پال کو محمود کی چالیس بتانی شروح کر دیں۔ ان کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ راجہ نے اپنے جرنیلوں کو بلالیا، اوریزی اور بھی انہیں چالیں سمجھانے لگے۔

ہم آپ کو عملی طور پر بھی یہ چالیں سمجھائیں گے قاسم بلخی نے کہا لیکن ہم قیدی بن کر آپ کو ان چالوں کی عملی شکل نہیں بتائیں گے ۔“

راجہ جے پال نے اُسی وقت حکم دے دیا کہ ان کے کمرے پر سے پہرہ ہٹا دیا جائے۔ پہرہ ہٹا دیا گیا، رات آئی اور گزرگئی۔ اگلے روز عمران بلاذری ان کے لیے کھانا لے کر کمرے میں بیٹھ گیا، بہت دیر گزرگئی۔ راج محل سے اور یزی کا بلاوا آیا۔ بلاذری نے قاصد کو بتایا کہ وہ صبح سے کھانا لے کر بیٹھا ہے، وہ دونوں کمرے میں نہیں تھے۔ وہ کمرے میں ہوتے بھی کیسے وہ تو رات کو ہی نکل گئے تھے، اور بلاذری ہی انہیں اپنے گھر میں چھپا آیا تھا

باب چہارم
مذہب، محرم اور مجاہد
حصہ اول
عمران بلاذری پر کسی نے شک نہ کیا کہ غزنی کے دونوں قیدیوں نظام اوریزی اور قاسم بھٹی کو اس نے راج محل سے فرار کرایا ہے۔ اُس نے یہ فرض تو ادا کر دیا تھا مگر اُسے ابھی ایک اور فرض ادا کرنا تھا۔ یہ وہ ہندو لڑکی تھی جو اُس کی محبت کی خاطر اپنا مذہب اپنا گھر اور اپنا ملک چھوڑنے کو تیار تھی مگر اسے پنڈت انسانی قربانی کے لیے لے گئے تھے۔

بلاذری خوش وضع ، خوش لباس اور خوش گفتار جوان تھا۔ ہر ڈھنگ کھیلنا اور ہر بھیس بدلنا جانتا تھا۔ اُس کی زبان میں جادو کا اثر تھا۔ وہ ان مردوں میں سے تھا جن کے خدو خال میں، آنکھوں میں، ڈیل ڈول اور سراپا میں ایسی کشش ہوتی ہے جو جنس مخالف کو کچھ دیر رک کر دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ عمران بلاذری شہزادہ نہیں تھا۔ راج محل کا ملازم تھا، ملازموں جیسے کپڑے پہنتا تھا۔ ملازموں کی طرح بولتا تھا۔ مگر غزنی کا جاسوس تھا۔ اُس وقت کی زبان روانی سے بولتا تھا اور کسی کو کبھی شک نہیں ہوا تھا کہ یہ شخص خوش طبع آدمی راجہ جے پال کی ریاست کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

وہ کچھ عرصے سے لاہور میں تھا۔ شہر میں ایک مکان میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کے اڑوس پڑوس میں رہنے والے اس کے متعلق اتنا ہی جانتے تھے کہ راج محل کا ملازم ہے، ملتان کا رہنے والا ہے۔ اچھا آدمی ہے صبح جلدی نکل جاتا ھے اور رات دیر سے گھر آتا ہے۔ اس کی دوستی ایک ہندو جگ موہن کے ساتھ تھی جو اُس کا ہم عمر تھا۔ اُس کا باپ تاجر تھا جگ موہن اکثر رات کو عمران بلاذری کے گھر آیا کرتا تھا۔ اُن دنوں ہندو اور مسلمانوں کی دوستی کم ہی دیکھنے میں آیا کرتی تھی۔ مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندو ان سے نفرت کرتے تھے۔ راجوں مہاراجوں اور پنڈتوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کر رکھی تھی، مگر جگ موہون جو ذات کا برہمن تھا، عمران بلاذری سے
پہلی ہی ملاقات میں اتنا متاثر ہوا تھا کہ اسے ملتا رہا اور ان کی دوستی ہوگئی۔ دوستی کے ابتدائی دنوں کا ایک واقعہ ہے کہ ایک رات جگ موہن روتے ہوئے بلاذری سے ملنے اُس کے گھر آیا۔
پوچھنے پہ اس نے بتایا کہ
آج میری بہن زندہ جلا دی گئی ہے"

کس نے جلائی ہے؟ عمران بلاذری نے حیران ہو کر پوچھا۔

میرے دھرم نے" جگ موہن نے بتایا اُس کی شادی ہوئے ابھی ایک سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ اُس کا خاوند گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گیا، آج صبح وہ مر گیا ہے۔ اُس کی بیوی کو بھی اُس کے ساتھ ہی مرنا تھا۔ آج میرے بہنوئی کی لاش چتا پر رکھی گئی تو اُس کے بھائیوں نے میری بہن کو بھی چتا پر کھڑا کر دیا اور چتا کو آگ لگا دی تم نے چتا نہیں دیکھی ہوگی ۔ لکڑیوں کا بہت بڑا ڈھیر لگایا جاتا ہے جو چوکور اوپر سے ہموار ہوتا ھے۔ اس کی لمبائی انسان کے قد سے کچھ زیادہ ہوتی ہے اور اونچائی کم و بیش ایک گز ۔ اس پر لاش رکھ دیتے ہیں۔ لکڑیوں پر تیل یا گھی ڈالتے ہیں اور آگ لگا دیتے ہیں۔ میں تو لاش کو بھی جلتے نہیں دیکھ سکتا مگر میں نے اپنی بہن کو اپنے خاوند کی لاش کے ساتھ زندہ جلتے دیکھا ہے ....

" کہتے ہیں کہ ہندو عورت اتنی غیرت والی ہوتی ہے کہ اُس کا خاوند مر جائے تو اُس کے ساتھ زندہ جل جاتی ہے۔ اسے ستی ہونا کہتے ہیں۔ جو عورت ستی نہیں ہوتی وہ ساری عمر شادی نہیں کر سکتی، وہ خطرہ محسوس کرتی ہے کہ انسانی کمزوری اسے گناہگار بنادے گی۔ اس لیے خاوند کے ساتھ ہی مر جانا بہتر سمجھتی ہے ... میں اس کو اچھا سمجھتا تھا مگر جب اپنے گھر کی عورت کو زندہ جلتا دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہمارا دھرم کس قدر بے رحم ہے۔
وہ میری بہن کو زبردستی کھینچ کر چتا تک لے گئے اور اُسے اٹھا کر چتا پر کھڑا کر دیا گیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ دیے گئے۔
وہ میری طرف مدد طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتی تھی۔ مگر میں اسے بچانہ سکا، وہاں کم و بیش ڈیڑھ سو آدمی تھے۔ کوئی بھی اسے بچانے کے لیے آگے نہ بڑھا۔ سب کھوکھلے دھرم کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے میں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ مجھے لکڑیوں کے جلنے کی آواز آئی اور اس کے ساتھ ہی مجھے اپنی بہن کی چیخیں سنائی دیں .....
میں نے گھوم کر دیکھا، شعلے بہت اونچے تھے۔ ان میں مجھے اپنی بہن نظر آئی، وہ چیخ رہی تھی، پھر نے جلتی لکڑیوں کی تراخ تراخ نے اس کی چیخیں ختم کر ڈالیں، مجھے غشی آنے لگی، میں وہاں سے چلا آیا، میں ابھی تک بہن کی چیخیں سن رہا ہوں، مجھے اپنے دھرم سے نفرت ہوگئی ہے۔“

وہ مذہب ہی کیا جس سے انسانوں کو نفرت ہو جائے " عمران بلاذری نے کہا۔
"وہ مذہب ہی کیا جو انسان کو جینے کے حق سے محروم کر دے، کوئی مذہب بربریت کی اجازت نہیں دیتا، میں تمہیں اپنے مذہب میں اپنے میں لانے کی کوشش نہیں کر رہا، صرف بتا رہا ہوں کہ میرا مذہب عورت کے لیے بہت نرم ہے، اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو اُسے ایک مخصوص مدت جو کہ عمومآ چاہ سوا چار ماہ تک ہوتی ھے ، کے بعد شادی کرلے، اگر وہ جوان ہو تو کوشش کی جاتی ہے کہ اس کی دوسری شادی ہو جائے ۔ میرا مذہب عورت کو ذراسی بھی جسمانی ایزا دینے کی اجازت نہیں دیتا۔“

ہمارے پنڈت دودھ پیتے بچوں کی قربانی بھی دیا کرتے ہیں جگ موہن نے کہا ایسا اکثر ہوتا ہے کہ خشک سالی ہو، قحط کا خطرہ ہو، سیلاب کا ڈر ہو تو کسی کا معصوم بچہ پکڑ کر اسے ذبح کر دیا جاتا ہے۔ پھر اس کی لاش جلادی جاتی ہے۔ اب ہمارا راجہ غزنی سے شکست کھا کر آیا ہے تو پنڈتوں نے اسے کہا ہے کہ وہ ایک کنواری لڑکی کی قربانی دے تو اس کی شکست فاتح میں بدل جائے گی ۔"

یہ قربانی کب دی جارہی ہے؟“

" پذت خاص قسم کی لڑکی کی تلاش میں ہیں۔ جگ موہن نے جواب دیا۔ انہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ لوگ مندروں میں اپنی کنواری بیٹیوں کو بھیجا کریں۔ لڑکیاں مندروں میں جاتی ہیں،
تمہاری کوئی بہن کنواری تو نہیں ؟“بلازدی نے یک لخت پوچھا

میری چھوٹی بہن کنواری ہے" جگ موہن نے کہا لیکن میں اسے مندر میں نہیں جانے دیتا، میرے باپ نے بھی اسے کہا ہے کہ وہ مندر نہ جایا کرے ... میری بہن بہت خوبصورت ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ پنڈتوں کے سامنے گئی تو وہ اسے قربانی کے لیے منتخب کرلیں گے۔"

عمران بلاذری کو موقعہ مل گیا۔ اس نے جگ موہن کو اسلام کے بنیادی اصول بتائے اور کہا " ہمارا مذہب بنی نوع انسان کی بہبود اور حقوق دینے کے لیے آیا تھا۔"

جگ موہن کا دل زخمی تھا، عمران بلاذری کی باتوں سے اُسے تسکین ہونے لگی۔

" تم نے اچھا کیا ہے کہ اپنی چھوٹی بہن کو پنڈتوں سے چھپا رکھا ہے بلاذری نے کہا " راجہ بے پال نے شکست کھائی ہے تو اس کی غلطی ہے۔ وہ اپنے آپ کو فریب دے رہا ہے اور اپنی قوم کو بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے پنڈت فریب دے رہتے ہیں۔ ہر کوئی بادشاہ یا مہاراجہ کی خوشنودی چاہتا ہے ، ہر ایک کا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ یہ مسلمانوں میں بھی ہوتا ہے، عیسائیوں میں بھی، پنڈت ہو یا مولوی، اس کے پاس مذہب کی پیشوائی ہوتی ہے، اس لیے وہ مذہب کو موڑ توڑ کر اپنے بادشاہ کو خوش کر لیتا ہے۔ تمہارے پنڈتوں نے بھی یہی کیا ہے، راجہ جے پال کو یہ کہنے کی بجائے کہ اپنی غلطیوں اور سلطان سبکتگین کامیابیوں کو پرکھے اور اپنی فوج میں رد و بدل کرے، پنڈتوں نے اسے یہ کہہ کر اس کا دل پرچا دیا کہ دیوتا ناراض ہیں اور وہ ایک کنواری کی قربانی مانگتے ہیں ....

تم جسے اپنے مذہب کی خرابی کہتے ہو، یہ دراصل تمہارے مذہبی پیشواؤں کی خرابی ہے، ہمارے مولوی اور امام بھی بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور امام بھی بادشاہ کی خوشامد کرنے کے چکر میں ایسے فیصلے لیتے ہیں جن کو انسانی ذہن قبول نہیں کرتا لیکن اس پر وہ مذہب کی چھاپ لگا کر اپنا مطلب نکالتے ہیں
لوگوں کو تخت و تاج کی مضبوطی کے لیے مذہب کو استعمال کرنے اور مذہب کی آڑ میں اصولوں اور فلسفوں کو توڑ موڑ کر اسے آڑ مہیا کر دیتے ہیں۔ اگر یہی بادشاہ مذہب سے نگاہ ار رعایا پر ظلم و تشدد شروع کر دے تو یہی مذہبی پیشوا اس کی دھاندلیوں اور جھوٹ کو مذہبی جواز مہیا کر دیں گے۔ مذہب ہر کسی کے لیے قابل قبول ہوتا ہے، مذہب کو اس کے پیشوا قابل نفرت بنایا کرتے ہیں۔“

کیا تمہارے مذہب میں انسانوں کی قربانی دی جاتی ہے؟ جگ موہن نے پوچھا۔

نہیں "
عمران بلاذری نے جواب دیا " ہمارا مذہب اسے قتال کہتا ہے۔ اگر ہمارا کوئی مذہبی پیشوا کسی کو انسانی قربانی کے لیے تیار کرے گا تو وہ قاتل کہلائے گا اور سزائے موت پائے گا۔ مسلمان میدان جنگ میں اپنی جانیں دیا کرتے ہیں اور یہی سلطان سبکتگین کی کامیابی کا راز ہے ... میں تمہارے مذہب کی توہین نہیں کرنا چاہتا، حقیقت بیان کرتا ہوں ۔ ہم صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ ہمارے کئی خدا نہیں، اور ہمارے خدا پتھر اور مٹی کے بھی نہیں۔ اپنی عقل استعمال کرو۔ یہ بت ایک جگہ دھرے رہتے ہیں، تم انہیں صرف مندروں میں دیکھ سکتے ہو۔ یہ اپنے اوپر بیٹھی مکھی کو بھی نہیں اُڑا سکتے۔ ان میں جان نہیں، روح نہیں، ہمت کرو اور ایک بہت کو توڑ دو، پھر دیکھنا خدا اپنے ٹکڑے جوڑ سکتا ہے یا نہیں اور یہ تمہارا کیا بگاڑ لے گا، ہمارا خدا صرف مسجد میں نہیں رہتا، ہر جگہ موجود ہوتا ہے اور ہمارے دلوں میں بھی رہتا ہے، وہ کسی انسان کا خون نہیں مانگتا، نہ کسی کنواری کو اپنے سامنے ذبح کرا کر خوش ہوتا ہے۔"

عمران بلاذری کی زبان کا جادو اس جواں سال ہندو کو مسحور کر رہا تھا۔ اس تاثر کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ بلاذری کی زبان میں سحر تھا اور دوسری وجہ یہ کہ جگ موہن نے اپنی بہن کو زندہ جلتے دیکھا تھا، یہ انسانی جذبات تھے جو پنڈتوں اور پتھر کے خداؤں پر غالب آگئے تھے ۔ عمران بلاذری نے اُسے اُس کے مذہب سے منحرف کر دیا تھا، یا انحراف اور نفرت کا بیج بو دیا تھا۔ جگ موہن کے آنسو بہے جارہے تھے، اور اس کے چہرے پر دہشت کا تاثر بھی تھا۔ اسے ابھی تک اپنی بہن جلتی نظر آرہی تھی۔

تمہارا غم ایسا ہے جو بانٹا نہیں جاسکتا؟ عمران بلاذری نے کہا میں ہمدردی کے دو چار الفاظ کہہ سکتا ہوں، اگر میں تمہارے کسی کام آسکتا ہوں تو مجھے بتانا

غمزدہ حالت میں ہمدردی کے دو چار الفاظ بھی بہت بڑی مدد ہوتی ہے۔ جگ موہن عمران بلاذری کا مرید ہو گیا اور اس کی باتوں کو دل میں بٹھانے لگا، ایک روز بلاذری کو کام سے چھٹی تھی ، وہ جگ موہن کو شکار پر لے گیا اس کے پاس تیر کمان تھی یہ بھی جگ موہن کے دل بہلاوے کا اہتمام تھا وہ شہر سے دور جنگل میں نکل گئے، دونوں نے بہت سے پرندے شکار کیے۔

عمران جگ موہن نے ہنس کر کہا " تم نے مجھ سے ان پرندوں کا ناحق خون کرایا ہے تم جانتے ہو کہ میں برہمن ہوں ، ہمیں گوشت کھانے کی اجازت نہیں۔“

اگر تم گوشت کھاؤ تو تمہارے خیالات بدل جائیں گے بلاذری نے کہا میں تمہیں آج گوشت کھلاؤں گا، اگر پتھر کے کسی بت نے تمہیں سزا دی تو وہ میں بھگتوں گا۔

اُس نے پرندوں کے پر اتارے، پرندے صاف کیے اور لکڑیاں وغیرہ اکٹھی کر کے آگ پر پرندے بھون لیے، وہ نمک ساتھ لے گیا تھا جگ موہن گوشت کو ہاتھ لگاتے ڈر رہا تھا، عمران بلاذری نے زبان کا جادو چلایا تو جگ موہن نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ایک پرندہ اٹھایا اور دانتوں سے ایک توڑ کر بوٹی منہ میں ڈالی، اُس نے گوشت کا ذائقہ پہلی بار چکھا تھا، اُس نے جلدی جلدی پورا پرندہ کھالیا۔

اور کھاؤں گا ... جگ موہن نے کہا۔

وہ ایک اور پرندہ کھا گیا۔

میں ایک اور کھاؤں گا

جنگ موہن نے ایک اور پرندہ کھالیا، پرندوں کی کمی نہیں تھی، بلاذری آگ پر پھینکتا، بھونتا اور نمک لگاتا جا رہا تھا، جگموہن نے ایک اور پرندہ اٹھایا تو بلاذری نے روک دیا۔

تمہارا پیٹ گوشت کا عادی نہیں ھے، شاید ہضم نہ کر سکے، میرے گھر آتے ہی رہتے ہو، میں تمہیں گوشت کا عادی بنادوں گا۔
جگ موہن نے بلاذری کے منع کرنے کے باوجود ایک اور پرندہ کھالیا اور بولا بھائی دوڑیں گے تو سب کچھ ہضم ہو جائے گا۔" اس روز کے بعد جنگ موہن عمران بلاذری کے گھر جاتا تو گوشت کی فرمائش کرتا، بلاذری اس کے لیے گوشت تیار رکھتا تھا، یہ گوشت کا اثر تھا، یا بلاذری کی باتوں کا کہ جگ موہن اپنے مذہب سے دور ہو گیا۔ تم مندر میں جایا کرتے ہو؟ ایک روز عمران بلاذری نے اس سے پوچھا۔ "کبھی کبھی

جگ موہن نے جواب دیا اب تو ایک رسم پوری کرنے جاتا ہوں ۔

تم جس بت یا مورتی کے سامنے بیٹھ کر عبادت کیا کرتے ہو، اسے ایک روز کہنا کہ تم گوشت خور ہو گئے ہو عمران بلاذری نے کہا۔ " پھر دیکھنا تمہارا یہ مصنوعی خدا تمہیں کیا کہتا ہے ... وہ کچھ بھی نہیں کہے گا، تم اتنے دنوں سے گوشت کھا رہے ہو تمہیں ان بتوں نے کیا سزا دی ہے؟ البتہ تمہارے کسی پنڈت کو پتہ چل گیا تو وہ تمہارے خلاف طوفان بپا کر دے گا۔

جگ موہن اپنے مذہب کے خلاف دلیر ہو گیا۔

شام کے بعد کا واقعہ ہے عمران بلاذری اپنے گھر میں تھا، ایک بڑی ہی خوبصورت لڑکی اُس کے گھر میں آئی ، لڑکی کا رنگ گورا، آنکھیں شربتی اور بال بھی شربتی رنگ کے تھے، وہ خوبصورت تو تھی ہی لیکن اس میں جو کشش تھی، وہ اس کے جسم کی ساخت کی بدولت تھی۔ اس کی چال ڈھال میں انوکھی کشش تھی، اس کی عمر بمشکل سولہ سترہ سال تھی، عمران بلاذری اس لڑکی کو ایسے وقت جب شام گہری ہوگئی تھی ، اپنے گھر میں دیکھ کر حیران ہوا۔

عمران بلاذری تم ہو ؟ لڑکی نے پوچھا۔

ہاں .... میں ہی ہوں ۔

میں جگ موہن کی بہن ہوں لڑکی نے کہا "میرا نام رشی ہے، جگموہن کو دیکھنے آئی ہوں، میرے باپ کی طبیعت خراب ہوگئی ہے۔ گھر میں کوئی مرد نہیں جو کسی سیانے یا وید کو بلا لائے ، مجھے معلوم تھا کہ میرا بھائی تمہارے پاس آیا کرتا ہے۔“

ہاں ... آیا کرتا ہے لیکن دیر بعد عمران بلاذری نے کہا۔ رات گہری ہو چکی ہوتی ہے تو آتا ھے میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں، کسی وید یا سیانے کو بلا لاؤں گا ۔“

تم یہاں اکیلے رہتے ہو ؟ رشی نے پوچھا۔

بالکل اکیلا "

بیوی نہیں ؟ رشی نے مسکرا کر پوچھا۔

اس ہندو لڑکی کے چہرے کے تاثرات اور مسکراہٹ سے پتہ چلتا تھا کہ وہ اس گھر سے جلدی نہیں نکلنا چاہتی ، عمران بلاذری ایک تاثر بن کر اس پر چھا گیا تھا۔

تم نے شادی کیوں نہیں کی ؟ رشی نے پوچھا۔

تمہارا باپ بیمار ہے رشی؟ عمران بلاذری نے کہا تمہیں جلدی گھر جانا چاہیے ۔۔۔۔

جاری ھے

ایک اور بت شکن پیدا ہوا باب سوم پہلا حصہدو مائیں سلطان سبکتگین کی تجہیز و تکفین کے بعد محمود غزنوی نیشا پور چلا گیا۔ چون...
25/04/2025

ایک اور بت شکن پیدا ہوا
باب سوم
پہلا حصہ
دو مائیں

سلطان سبکتگین کی تجہیز و تکفین کے بعد محمود غزنوی نیشا پور چلا گیا۔ چونکہ وہ مرد میدان تھا،
اگر اس کے دماغ میں سلطانی کا خبط ہوتا تو وہ غزنی جاتا اور باپ کے تخت پہ بیٹھ جاتا اور حکومت کرتا۔ اُسے یقین تھا کہ حکومت کی مشینری چل رہی ہے اس نے سب سے پہلے فوج کی تعلیم کی طرف توجہ دی۔اس نے دارا کو غزنی جا کر سلطنت کے کاروبار کو دیکھنے کا کہا اور اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اُسے اطلاع مل جائے گی۔
محمود غزنوی کے استاد
ان میں ابو الحسن خرقانی وہ ولی تھے جن کا وہ مرید تھا۔ محمود غزنوی علماء ، صوفیاء اور اولیاء ایک اور بزرگ ابوسعید عبدالمالک صوفی محمود کبھی کبھی اُن کے ہاں بھی جاتے تھے۔ نکلی لکھتا ہے کہ محمود غزنوی کے پاس ہی معتقد تھا۔ خرقانی کہیں دور رہتے تھے۔ کھڑا ہوتا تھا۔ تاتھا اور ابوسعید بھی کبھی اس کے ہاں آجایا کرتے تھے

اُس کی توجہ فوجی امور پر مرکوز تھی۔ اُسے معلوم نہیں تھا کہ اُس کی سلطنت کو خوشامدیوں کی نظر لگ گئ ھے اور خزانہ تیزی سے خالی ہو رہا ہے۔ محمود غزنوی کو یہ اطلاع اُس کی انٹیلی جنس کے ایک آدمی نے دی تھی
وہ غزنی سے یہی اطلاع دینے آیا تھا۔ اُس نے بتایا کہ سلطنت کی گدی پر اُس کا چھوٹا بھائی اسماعیل بیٹھ چکا ہے اور اس نے اپنی سلطانی کا فرمان بھی جاری کر دیا ہے۔

اسماعیل سلطان سبکتگین کی دوسری بیوی سے تھا۔ سبکتگین کی وفات کے وقت یہ بیوی اُس کے پاس پہنچی گئی تھی۔ اس نے نزع کے عالم میں سبکتگین سے اس وصیت پر دستخط کروا لیے تھے کہ اسماعیل اس کی سلطنت کا جانشین ہوگا، متعصب غیر مسلم مورخوں نے لکھا ہے کہ سبکتگین نے محمود کو اس لیے جانشین نہیں بنایا تھا کہ وہ اس کی ماں کے بطن سے تھا جو غلاموں کی نسل سے تھی اور اسماعیل کی ماں شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس دور کے وقائع نگاروں کی تحریروں کے مطابق یہی تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ سبکتگین کے آخری لمحات اس قدر شدید تکلیف میں گزرے کہ اسے نیم غشی کی کیفیت میں اسماعیل کو جانشین مقرر کردیا۔ اس داستان کی پچھلی اقساط میں تفصیل سے سنایا جا چکا ہے کہ محمود غزنوی کی ماں کون تھی اور کسی خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔

محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے کہ اسماعیل نوجوان اور کھلنڈرہ تھا۔ اُسے محمود کے مقابلے میں کوئی عسکری تجربہ نہیں تھا۔ جنگوں میں سبتگین کے ساتھ محمود رہتا تھا۔ سبتگین نے اساعیل کو اپنا جانشین مقرر کیا ہی نہیں ہوگا۔ اگرکیا ہی تھا تو اُس عالم نزع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسماعیل کی ماں نے اپنے بیٹے کو سلطان بنوا لیا ہوگا۔ دونوں بھائیوں میں اتنا فرق تھا کہ جب محمود اپنے باپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر نیشا پور چلا گیا او راجہ جے پال کا اگلا حملہ روکنے یا ہندوستان پر حملہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا، اُس وقت اُس کا چھوٹا بھائی اسماعیل بلخ میں اپنی رسم تاجپوشی میں مگن ہو گیا۔

سلطان عالی مقام"
غزنی سے آئے ہوئے آدمی نے محمود غزنوی سے کہا ۔ اب ہندوستان کے کسی راجہ کو ہماری سلطنت پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں رہی، ہمارے دشمن ہماری سلطنت کی تباہی چاہتے ہیں، آپ نے اور آپ کے والد مرحوم نے انہیں ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں، وہ جب بھی آئے، اپنے خون میں ڈوب گئے، مگر سلطان سبتگین مرحوم سلطنت کی تباہی کا انتظام اپنے ہاتھوں کر گئے ہیں ۔

فورا وہ خبر سناؤ جو غزنی سے لائے ہو" محمود نے کہا۔

میں نے آپ کو سلطان کہا ہے کیونکہ آپ مرحوم سلطان کے بیٹے ہیں"
اس آدمی نے کہا . "مگر سلطان آپ نہیں، آپ کے برادر خورد اسماعیل ہیں، میں آپ کا خادم اور ملازم ہوں، مجھے اس سے کوئی سرو کار نہیں کہ سلطنت کی گدی پر کون بیٹھا ہے، میں وفادار اور نمک حلال ملازم کی حیثیت سے یہ بتانے آیا ہوں کہ جس دربار میں سالار اور کماندار احکام اور ہدایات لینے آیا کرتے تھے، وہاں اب خوشامدیوں کا ہجوم ہوتا ہے، میں یہ تو نہیں بتا سکتا کہ آپ کے بھائی کے مشیر کون ہیں، وہ جو کوئی بھی ہیں، اُنہوں نے آپ کے بھائی کو چرب زبانی اور چاپلوسی کی زنجیروں میں گرفتار کر لیا ہے، نہایت معمولی حیثیت کے لوگوں کو بنا کسی تجربے کے اعلیٰ اور اونچے درجے دے دیئے گئے ہیں، فوج کی تنخواہوں میں بے جا اضافہ کر دیا گیا ہے، مجھے آپ کے اور آپ کے والد مرحوم کے وفاداروں نے بتایا ہے کہ خزانہ تیزی سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔"

محمود غزنوی کو جیسے چکر آگیا ہو۔ اُس نے آدمی کو اس ہدایت کے ساتھ رخصت کر دیا کہ وہ وہاں کی مزید اطلاعات فراہم کرے، وہ خود اپنی ماں کے پاس گیا جو اُس کے ساتھ رہتی تھی۔

مجھے خود وہاں جانا چاہئیے محمود غزنوی نے اپنی ماں سے کہا ” مجھے وہاں سے آنا ہی نہیں چاہیے تھا، مگر میرے دل میں سلطانی کی خواہش نہیں تھی، میرے فرض کے تقاضے کچھ اور ہیں ۔

تمہیں وہاں نہیں جانا چاہئیے ماں نے اُسے کہا تمہارا بھائی تمہیں قتل کر سکتا ہے، تخت و تاج کا نشہ انسان کو وحشی اور درندہ بنا دیتا ہے ... اور یہ بھی سوچ لو کہ وہ اپنے باپ کے جانشین بننے کے قابل ہے تو اُسے سلطان بنا رہنے دو اور فوج کی کمان تم اپنے ہاتھ میں رکھو۔"

اگر وہ اس قابل ہوتا تو میں اتنا پریشان کیوں ہوتا محمود نے کہا ” کیا آپ اُسے جانتی نہیں کہ وہ کسی قماش کا لڑکا ہے؟ مجھے میرے پیر و مرشد نے بتایا ہے کہ نااہل اور خود غرض حکمران کے گناہوں کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے، میں سلطان نہیں بنا چاہتا، مجھے سلطنت کو بچانا ہے۔ اسے ایک مضبوط قلعہ بنا کر مجھے بابا محترم کے حکم کے مطابق اسلام کی شمع ہندوستان کے بت خانے تک پہنچانی ہے ...اگر میرا بھائی مخلص ہوتا تو وہ مجھے اپنی تاجپوشی رسم پر بلاتا اُس نے مجھے اطلاع تک نہ دی، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نیت صاف نہیں ، مجھے وہاں جانا چاہیے، مجھے بتایا گیا ہے کہ ان دنوں اسماعیل غزنی میں نہیں بلخ میں ہے۔

" تم اسے پیغام لکھ کر بھیج دو ماں نے کہا " اُس سے پوچھو کہ مجھے جو خبریں ملی ہیں وہ کہاں
تک درست ہیں، اس کے جواب کا انتظار کرو۔"

اسماعیل اس وقت بلخ میں ہی تھا جب قاصد نے اُسے محمود غزنوی کا پیغام دیا، اسماعیل نے پیغام کھولے بغیر اپنے ایک حاکم کی طرف پھینک کر کہا " پڑھ کر سناؤ، میرے بھائی نے کیا لکھا ہے ۔"

اس حاکم نے کاغذ سیدھے کیے اور بلند آواز سے پڑھنا شروع کیا۔ عزیز بھائی ! اسماعیل نے غصے سے اپنی ران پر ہاتھ مار کر کہا اس نے ہمیں بھائی لکھا ہے؟ سلطان نہیں لکھا ؟“

نہیں نظلِ الہی حاکم نے جواب دیا۔

یہ بدصورت مسخرا اس قدر گستاخ ہے؟“

اسے اس کی سزا ملنی چاہیے سلطان عالی مقام ! ایک درباری نے کہا اگر باپ گستاخی کرے تو اُسے بھی سزا ملنی چاہیے، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد درجہ سلطان کا ہوتا ہے، ظلِ الہی کی سواری جس راہ سے گزرتی ہے، اس راہ پر رعایا سجدے کرتی ہے، آپ کے دشمن آپ کا نام سن کر کانپتے ہیں ۔“ آگے پڑھو اسماعیل نے حکم دیا۔

محمود نے لکھا ہے حاکم پیغام پڑھنے لگا " مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ تم سلطنت کی مسند پر بیٹھ گئے ہو۔ اللہ تمہیں یہ اعزاز مبارک کرے مگر اس سلطنت پر جو خطرے منڈلا رہے ہیں اور اس مند کے ساتھ جو فرائض اور ذمہ داریاں وابستہ ہیں، شاید تم ان سے واقف نہیں ہو۔ اگر واقف ہوتے تو اس مند کو پھولوں کی سیج سمجھ کر آرام سے بیٹھ نہ جاتے۔ سب سے پہلے میرے پاس آتے یا مجھے اپنے پاس بلاتے۔ اگر تم مجھے اس قابل سمجھتے تو اپنے باپ کا بیٹا سمجھ کر ہی اپنی تاجپوشی میں شریک کر لیتے ۔ اس سے مجھے شک ہو رہا ہے کہ تمہاری نیت ٹھیک نہیں یا درباری چاپلوسوں نے تمہاری نا تجربہ کاری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تمہاری نیت ٹھیک نہیں رہنے دی تم جانتے ہو کہ سلطنت کے اندر بھی دشمن موجود ہیں۔ تمہارے سامنے ان کے ساتھ لڑائیں لڑی گئی ہیں۔ ہندوستان کے بت پرست ہم پر دو حملے کر چکے ہیں، اور تیسرے حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس وقت ہماری ضرورت یہ نہیں کہ دربار لگا کر درباریوں کے سلام اور قصیدے وصول کیے جائیں۔ اس وقت ہمیں میدان جنگ کے خیموں میں تیاری کی حالت میں ہونا چاہیے ...

اگر تم یہ سمجھے ہو کہ سلطنت کا کاروبار سنھال سکتے ہو تو میں جنگی امور سنبھال لیتا ہوں ، اس وقت جنگی امور کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میں صرف اس صورت میں تمہیں سلطانی سونپ سکتا ہوں کہ تم اچھے اور برے میں، دوست اور دشمن میں، نیک اور بد میں تمیز کرنے کے قابل ہو جاؤ۔ مگر مجھے یقین ہے کہ تم اس قابل نہیں ہو تم نے ناہل لوگوں کو اعلیٰ درجے دے دیئے ہیں۔ ان میں یہ خوبی دیکھی ہے کہ وہ خوشامدی اور چرب زبان ہیں۔ تم نے فوج کی تنخواہ بڑھا کر خزانے پر بے جا بوجھ ڈال دیا ہے تم یہ بھی بھول گئے ہو کہ تم ایک اسلامی سلطنت کے سلطان ہوا اور تمہارے اوپر ایک خلیفہ بھی ہے۔ میری کوئی ایک تجویز مان لو تا کہ میں وہ فرض ادا کر سکوں جو مرحوم باپ ادھورا چھوڑ گیا ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آپ حکمرانی کے قابل نہیں تو اور کون ہے ؟ ایک اور نے کہا۔ یہ تو آپکی شان میں گستاخی کی گئ ھے
وہاں جتنے درباری موجود تھے، انہوں نے محمود غزنوی کے پیغام کے خلاف باتیں کیں ۔ ان سب کو اسماعیل نے دربار میں بڑے درجے تھے۔ محمود نے انہی لوگوں سے اسماعیل کو خبردار کیا تھا، اسماعیل نے اپنے بڑے بھائی کو اتنی سی بھی اہمیت نہیں دی تھی کہ اس کا پیغام تنہائی میں پڑھتا۔ درباری عہدیداروں نے وہ طوفان کھڑا کیا کہ اسماعیل اس میں اُڑنے لگا۔

آپ کے بڑے بھائی نے اس پر بھی اعتراض کیا ہے، کہ آپ نے فوج کی تنخواہیں بڑھادی ہیں" وزیر نے کہا "سلطان عالی مقام! آپ کی اس کرم نوازی سے ساری فوج آپ کی مرید ہوگئی ہے، آپ کے اشارے پر فوج کٹ مرے گی .. اور پیغام میں یہ جو لکھا گیا ہے کہ سلطنت کے اندر بھی ہمارے دشمن موجود ہیں اور ہندوستان کے بت پرست بھی دشمن ہیں . ظل الہی ! جان بخشی کی التجا کرتا ہوں، سلطنت کی اندر ہمارا کوئی دشمن نہیں ، آپ کے والد ماجد جن کے خلاف لڑے تھے، انہیں دشمن بنایا گیا تھا اور اس میں آپ کے بڑے بھائی محمود کا ہاتھ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنی سلطنت میں شامل کرے، ہندوستان کے بت پرستوں کی ہمارے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے، ہم اُن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے، ہمیں جنگ وجدل سے کیا ۔

وزیر کی تائید میں کئی ایک آوازیں سنائی دیں ، صرف ایک بوڑھا تھا جو خاموش بیٹھا کبھی اسماعیل کو اور کبھی ان لوگوں کو دیکھتا تھا، جب وزیر نے کہا کہ ہمیں جنگ وجدل سے کیا، تو وہ اُٹھ کڑا ہوا، وہ خزانے کا مہتم اعلی فرخ زاد ابراہیم تھا۔
وہ بولا
جو اپنی عزت، اپنا وقار اور اپنا ایمان بیچ ڈالیں، انہیں جنگ وجدل سے کیا۔ بوڑھے نے غصے اور جذبات کے شدت سے لرزتی ہوئی آواز سے کہا۔ اسماعیل ابن سبکتگین! تو میرے ہاتھوں میں پیدا ہوا تھا، میرے سامنے پل کر جوان ہوا مگر تو تو بچہ ہے اور ان ایمان فروشوں کے ہاتھوں کھیل رہا ہے، یہ تجھے اپنی کٹپتلی بنا چکے ہیں، یہ دنیا کے لالچ سے اندھے ہو گئے ہیں اور تجھے بھی اندھا کر رہے ہیں۔ تو نے اپنے آپ کو اس سلطنت پر ٹھونسا ہے، تجھے نہ قوم نے سلطانی دی ہے نہ خدا نے ۔ اگر تجھ میں عقل ہے، تو اسے استعمال کر اور گریبان میں منہ ڈال کر سوچ کہ تو اس مسند کے قابل ہے؟ .... تیرے بھائی نے ٹھیک لکھا ہے کہ تو نے ان لوگوں میں صرف یہ خوبی دیکھی ہے کہ یہ خوشامدی ہیں، یہ تجھے تباہی کے راستے پر لے جا رہے ہیں، یہ اپنا پیٹ بھر رہے ہیں، انہوں نے خزانہ خالی کر دیا ہے یہ تجھے مشورہ دے رہے ہیں کہ ہندوستان کے بت پرستوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ، ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ کسی سے جنگ و جدل نہ ہو، اور ایمان فروش من مانی اور عیش و عشرت کرتے رہیں ۔“

سلطان عالی مقام وزیر نے کہا "یہ بہت بوڑھا ہو گیا ہے، اس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہا، اسے وظیفہ دے کر گھر بھیج دیں، جہاں جاتا ہے ایسی ہی واہی تباہی بلکتا رہتا ہے

لے جاؤ اسے" اسماعیل نے حکم دیا۔

درباری اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے دھکیلتے ہوئے باہر لے گئے، اُس کی آواز سنائی دیتی رہی ۔
"جہاں بھائی سلطنت کی خاطر ایک دوسرے کے دشمن ہو جاتے ہیں وہاں سے رحمت کے فرشتے اُٹھ جاتے ہیں فتح سچ کی ہوتی ہے۔"

محمود غزنوی نیشا پور میں اپنے پیغام کے جواب کا انتظار کر رہا تھا، وہ بے چین اور مضطرب تھا، جب
قاصد پیغام کا جواب لے کر آیا تو محمود کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اسماعیل کا جواب مختصر تھا۔ اُس نے لکھا تھا کہ اسے باپ سلطنت کا جانشین بنا گیا ہے، اور وہ کسی کے حق میں دستبردار نہیں ہوگا۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ اُس نے محمود کی یہ گستاخی معاف کردی مگر آئیندہ وہ ایسا پیغام بھیجنے کی جرات نہ کرے۔
محمود غزنوی نے اپنی ماں اپنے ماموں یوسف
اور اپنے چھوٹے بھائی نصیر الدین یوسف کو بلایا اور یہ جانتے ہیں، اسماعیل کا تحریری جواب سنایا
" یہ اُس کے اپنے الفاظ نہیں۔ اُس میں اتنی عقل نہیں، مجھے قاصد نےوہاں دربار میں جو بھی ہوا
سب بتایا ہے ۔
محمود نے بلخ کی صورت حال اُن کے سامنے رکھ کر کہا .. درباریوں نے میرے پیغام کا کس طرح مذاق اڑایا ہے، اور اسماعیل اُن کے جال میں آچکا ہے۔ ان لوگوں نے ایک بزرگ فرخ زاد ابراہیم کو جس کا احترام والد محترم بھی کیا کرتے تھے ان کو بے عزت کیا اور سچ کی پاداش میں گھسیٹ کر دربار اور عہدے سے بے دخل کردیا
غزنی سے دین وایمان اُٹھ گیا ہے۔ تمام درباری مشیروں کو باہر نکال دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مشورہ اب چاپلوس اور چرب زبان منافقوں سے لیا کرتا، میرے مشیر آپ ہیں، ہم سب کی رگوں میں ایک ہی خون ہے اور ہم سب کا نظریہ ایک ہے۔ مجھے شک ہونے لگا ہے کہ میرے بھائی اسماعیل کے خون میں ملاوٹ ہے۔“

وہ میری کوکھ سے پیدا ہوا ہوتا تو ہوس کار بندوں کی بجائے براہ راست خدا سے مشورہ لیتا ". محمود کی ماں نے کہا وہ ہے تو تیرے ہی باپ کا بیٹا لیکن اس کی ماں نے اس کے دل میں سلطنت کی ہوس ڈال دی ہے ... او محمود میں تجھے دُودھ کی دھاریں اُس روز بخشونگی جس روز تو ہندوؤں کے حملوں کا انتظام ہندوستان پر حملہ کر کے لے گا اور جس روز ہندوستان کے بہت ریزہ ریزہ ہو چکے ہونگے ۔“

مگر فوج کا سب سے بڑا حصہ اسماعیل کے قبضے میں ہے۔ محمود نے کہا اس نے فوج کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے فوج کو اپنا وفادار بنالیا ہے ۔ اُس کا جواب آپ نے پڑھ لیا ہے، اُس نے صلح اور سمجھوتے کے راستے بند کر دیئے ہیں۔ کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں جتنی بھی فوج میرے پاس ہے، اس سے بلخ پر حملہ کر دوں ؟“

اس کے سوا کوئی چارہ نہیں اس کے ماموں بوعزاز نے کہا لیکن خطرہ ہے ، تمہارے پاس فوج تھوڑی ہے پہلے کیوں نہ دیکھ لیا جائے کہ بلخ اور غزنی کی فوج کسی حد تک اسماعیل کی وفادار ہے؟“

میرے پاس وقت نہیں محمود غزنوی نے کہا "ہندوستان سے جو اطلاعیں آرہی ہیں، وہ تشویشناک ہیں، وہاں صرف فوج نہیں بلکہ پوری ہندو قوم حملے کی تیاری کر رہی ہے، مندروں میں پنڈت بھی غزنی پر حملے کے سوا کوئی بات نہیں کرتے، میرے پاس باتوں کے تیر چلانے کا وقت نہیں۔ اُس نے آہ لی اور بولا " مجھے اس وقت ہندوستان میں ہونا چاہیے تھا مگر یہ اسلام کی بدنصیبی ہے کہ ہمارا باپ اپنے ایمان فروش بھائیوں کے خلاف لڑتا رہا اور اپنی سرحد سے نکل نہ سکا، اور مجھے بھی خانہ جنگی میں الجھایا جارہا ہے۔

ماں نے کہا "بیٹے ، شکست ہوس کار کی ہوگی ۔"

اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ اسماعیل سلطنت کو تباہ کر رہا ہے محمود کے ماموں نے کہا اور ہمیں سلطنت کو بچانا ھے۔
کوئی حرج نہیں کہ فوج کو استعمال کیا جائے۔۔

اس وقت اسماعیل بلخ میں ہی تھا، جب اُسے اطلاع ملی کہ نیشا پور سے فوج محمود کی کمان میں غزنی کی طرف پیشقدمی کر رہی ہے۔ نیشا پور غزنی کے شمال اور مغرب میں واقع ہے اور بلخ نیشا پور کی نسبت غزنی کے قریب ہے۔ اسماعیل کو اُس وقت اطلاع ملی جب محمود کی فوج آدھا راستہ طے کر چکی تھی۔ اسماعیل نے اپنے سالاروں، مشیروں اور وزیروں کو بلا کر کہا کہ اس کے بھائی محمود نے اُس کے خلاف بغاوت کر دی ہے اور وہ غزنی پر قبضہ کرنے آرہا ہے۔

اسے میرے خلاف یہ شکایت ہے کہ میں نے فوج کی تنخواہ بڑھا دی ہے ... اسماعیل نے سالاروں سے کہا وہ محمود غزنی کی فوج کو غلاموں کی فوج بنانا چاہتا ہے ، تمام فوج کو بتا دو کہ محمود کی نیت کیا ہے اور فوج کو تیاری کا حکم دو۔“

اسماعیل کے مشیروں نے اسی مقصد کے لیے اسماعیل کو فوج کی تنخواہیں بڑھانے کا مشورہ دیا تھا کہ فوج دشمن کے خلاف لڑنے کی بجائے سلطان اسماعیل کے مخالفین کو کچلنے کے کام آئے ۔ وزیر اور دیگر مفاد پرست امرا اور حاکموں نے فوج کو مزید مراعات دلا کر پرو پیگنڈا کرایا کہ محمود فوج کو اپنی کمان میں لے کر ہندوستان پر حملہ کرنا

چاہتا ہے اور اس حملے کا مقصد صرف یہ ہوگا کہ وہ ہندوستان کے خزانوں اور زروجواہرات سے اپنا خزانہ بھر لے۔ اسماعیل کی فوج غزنی سے کچھ دور اس مقام تک پہنچ گئی جہاں محمود غزنوی کی فوج نے آخری پڑاؤ کر رکھا تھا۔ اسماعیل نے اس کے قریب اپنی فوج کو خیمہ زن کر دیا۔ محمود کی دشواری یہ تھی بلکہ اُس کے پاس فوج بہت کم تھی۔ ایک تو یہ اس کی کمزوری تھی ، دوسرے اس کی نیت یہ تھی کہ آپس کے خون خرابے سے گریز کیا جائے۔ اس نے آخری کوشش کے طور پر اپنا ایلچی اس پیغام کے ساتھ اسماعیل کے پاس بھیجا کہ لڑائی کی بجائے صلح سمجھوتے کے لیے دونوں کی ملاقات ہونی چاہیے۔ خانہ جنگی سے فائدہ دشمن کو پہنچے گا محمود نے پیغام میں یہ بھی لکھا کہ ہندوستان کی فوج نے ہماری آپس کی لڑائی کے دوران حملہ کر تو وہ سلطنت ہی نہیں رہے گی جس کی خاطر ہم دو بھائی آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔

میں اسے نہیں ملوں گا۔ اسماعیل نے محمود کے ایلچی سے کہا۔ وہ باغی ہے۔ میں اسے گرفتار کر کے ایسی عبرتناک سزا دوں گا کہ میری سلطنت میں کسی کو بغاوت کی جرات نہیں ہوگی ۔

انہوں نے نیک نیتی سے ملاقات کا اظہار کیا ہے ایلچی نے کہا اور مجھے اختیار دیا ہے کہ میں آپ کو ملاقات کے لیے آمادہ کروں، میں قاصد نہیں ایلچی ہوں ، ہم نے پہلی خانہ جنگی میں کیا حاصل کیا آپ کیا جانتے نہیں ہے ؟ اب دیکھ لیں، خانہ جنگی ہماری روایت بن گئی ہے۔ آج ایک باپ کے دو بیٹے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں تانے کھڑے ہیں۔"

میں محمود کی نیت کو اچھی طرح سمجھتا ہوں ... اسماعیل نے کہا وہ صلح اور سمجھوتے کی بات صرف اس لیے کر رہا ہے کہ اس کے پاس فوج بہت تھوڑی ہے اور اُسے اپنی شکست اور اپنی موت نظر آرہی ہے، میں اس کی فوج کو کچل ڈالوں گا اور محمود میرا قیدی ہو گا .... جاؤ اُسے کہ دوں کہ میری اور تمہاری فوجوں کی ملاقات ہوگی ۔

ایلچی جب واپس جانے کے لیے گھوڑے پر سوار ہوا تو اُس نے کہا ہوس اور غرور نے بڑے بڑے جابر بادشاہوں سے ہتھیار ڈلوائے ہیں اور اس نے گھوڑے کو ایڑ لگادی۔

محمود غزنوی نے اپنے باپ کی طرح دو رکعت نفل پڑھے اور خدا کے حضور گڑ گڑایا خدائے بزرگ و برتر اگر میرا فیصلہ غلط ہے تو مجھے ابھی اس دنیا سے اٹھالے، اگر تیرے حضور نیت پرکھی جاتی ہے تو میری نیت دیکھ، مجھے دنیا کے جاہ و جلال کی خواہش نہیں، میرے دل میں سلطانی کی ہوس نہیں۔ میں تیرے نام کو ہندوستان کے بت خانوں تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ وہاں اسلام کی شمع جو محمد بن قاسم نے جلائی تھی۔ وہ بجھ رہی ہے میں اس شمع کو اپنے لہو سے روشن کرنا چاہتا ہوں، میرے بھائی میرے راستے کی چٹانیں بن گئے ہیں۔ مجھے ہمت عطا فرما کہ ان چٹانوں کو روند کر اپنی منزل کی طرف نکل جاؤں ۔

اُس نے سالاروں، کمانداروں اور عہدیداروں کو بلا کر کہا ... آج دو بھائی دشمن بن کر ایک دوسرے کے سامنے آئے ہیں، ہر ایک سپاہی کے ذہن میں ڈال دو کہ تم اپنے بھائیوں کے خلاف نہیں ، قوم کے غذاروں کے خلاف لڑنے آئے ہو۔ تمہارے چچا، تایا، ماموں یا اُن کے بیٹے اس فوج میں ہوں گے جس کے خلاف تم لڑو گے ۔ انہیں بتاؤ کہ بدر کے میدان میں خون کے رشتے ایک دوسرے کے خلاف لڑے تھے اور یہ لڑائی ہمارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑی تھی۔ آپ حق پر تھے، اس لیے تین سو تیرہ نے ایک ہزار کو شکست دی تھی، تم بھی حق پر ہو، ہمیں وہی مذہب کفرستان تک پھیلانا ہے جس کی خاطر ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کے رشتوں کی پہلی جنگ لڑی تھی ، ہماری تعداد بہت تھوڑی ہے ۔ سپاہیوں کو یقین دلاؤ کہ خدا ہمارے ساتھ ہے ۔

اس کے بعد محمود غزنوی نے سالاروں وغیرہ کو جنگی ہدایات دیں، تعداد کی کمی اُسے بہت پریشان کر رہی تھی۔ اسے اب دھو کے اور چالوں کی جنگ لڑنی تھی۔ اس نے ایک چٹان پر کھڑے ہو کر اپنے بھائی کی خیمہ گاہ کی طرف دیکھا۔ اس نے اپنے دل پر بوجھ سا محسوس کیا، اسماعیل کی فوج ایک لشکر تھا، اور اس لشکر کے آگے ہاتھی تھے (مورخوں نے ہاتھیوں کی تعداد دو اور تین سو کے درمیان لکھی ہے ) ہاتھیوں کی پیشانیوں اور سونٹوں پر لوہے کے خ*ل چڑھے ہوئے تھے۔ یہ وہ ہاتھی تھے جو راجہ جے پال کے دو حملوں میں اُس کی فوج سے چھینے گئے تھے۔ سلطان سبکتگین نے یہ ہاتھی غزنی بھیج دیتے تھے۔ یہ جنگی ہاتھی تھے۔

راجہ جے پال جب اسماعیل کی فوج سے کئی گناہ زیادہ لشکر لے کر حملہ کرنے آیا تھا تو اس کے ساتھ سینکڑوں ہاتھی تھے۔ محمود غزنوی نہ اس لشکر سے گھبرایا تھا نہ ہاتھیوں سے۔ اُسے اس احساس نے دلیری دی تھی کہ یہ لشکر اس کے مذہب اور اس کی قوم کے دشمن کا ہے ۔ اب اسماعیل کے لشکر کو دیکھ کر اسے جہاں یہ دکھ ہوا کہ خطرہ بھی نظر آیا کہ یہ مسلمان جنگجوؤں کی یہ اس کی اپنی فوج ہے جو اس اسے ہندوؤں کے خلاف استعمال کرنی تھی۔ اسے پتہ چلا کہ آپ ے ہی بھائیوں کے خلاف یہ لشکر اس لیے لڑنے آیا ھے کہ انکی تنخواہیں بڑھانے پہ اعتراض اٹھا تھا اس سے اُسے یہ اطمینان ہوا کہ یہ فوج قومی جذبے کی بجائے تنخواہ کے زور پر لڑنے آئی ہے، اسے شکست دی جاسکے گی، مگر محمود کا یہ مسئلہ جوں کا توں موجود تھا کہ اُس کی فوج کی تعداد کم تھی۔

اُس نے اپنی قلیل فوج کو چار حصوں میں تقسیم کیا، زیادہ تعداد کا حصہ اپنی کمان میں محفوظ رکھا۔ دو حصوں کو پہلوؤں کو پھیلا دیا اور چوتھے حصے کو دشمن کے سامنے رکھا۔ اُس نے محسوس کر لیا کہ اُسے چھاپہ مار جنگ لڑنی پڑے گی کیونکہ جم کر لڑنے کے لیے نفری بہت تھوڑی تھی۔ اُس نے اپنے سالاروں سے کہا کہ وہ ذرا سی دیر کے تصادم کے بعد ادھر اُدھر ہونے کی کوشش کریں اور اسماعیل کی فوج کو پھیل جانے پر مجبور کر دیں۔ اس علاقے میں چٹانیں بھی تھیں ۔ محمود نے ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے سالاروں اور کمانداروں کو یہ چال بتائی کہ وہ دشمن کو اس طرح بکھیریں کہ اُس کے جیش اور دستے چٹانوں کے درمیان بھی چلے جائیں اور ان کے درمیان چٹانیں آجائیں۔ اس نے جنگ کو طول دینے کی ہدایت بھی دی بشبخون مارنے کے لیے حالات سازگار نہیں تھے کیونکہ دونوں طرف کی فوجیں دراصل ایک ہی فوج تھی۔ شبخون مارنے کی مہارت رکھتی تھیں اور اسے شبخون سے بچاؤ کے طریقے بھی آتے تھے۔ مثلاً رات کو دونوں طرف کی خیمہ گاہوں کے اندر بھی اور باہر دُور دُور تک بڑی مشعلیں جلا کر جگہ جگہ رکھ دی گئی تھیں ۔ اُس کے علاو تیر انداز گھوڑ سوار خیمہ گاہوں کے ارد گرم گھوم پھر رہے تھے۔ محمود غزنوی خیمے سے نکلنے لگا تو اُس کی ماں آگئی، محمود دوڑ کر اس کے قدموں میں گر پڑا اور زار و قطار رویا، ماں نے اسے اٹھا کر گلے لگا لیا۔

میری عظیم ماں ! محمود نے رندھیائی ہوئی آواز میں کہا ” میرے باپ کی روح مجھ پر لعنت تو نہیں بھیجے گی؟ یہ پہلی لڑائی ہے جو میں اُن کے بغیر لڑ رہا ہوں اور وہ بھی اپنے بھائی کے خلاف ۔ مجھے بخش دو ماں! میں اب بھی تلوار نیام میں ڈال لوں گا، میں نہیں لڑنا چاہتا، آنے والی نسلیں کہیں گی کہ سبتگین کے بیٹے سلطانی کے تخت پر لڑ مرے تھے ۔“

اب کچھ بھی نہ سوچو ماں نے کہا " خون میلے ہو جائیں تو آنکھوں میں بھی میل آجاتی ہے، تمہارے بھائی کے خون میں لالچ اور ہوس کی میل آگئی ہے ۔ اب کچھ نہ سوچو، ذہن سے وہم اور وسو سے نکال دو، اب اس فیصلے پر قائم رہو جو ہم کر چکے ہیں، میں ساری رات خدا کے حضور سجدے کرتی رہی ہوں .... جا
میرے بیٹے امیں تمہیں خدا کے سپرد کرتی ہوں، میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں ۔۔۔
وقائع نگاروں کی تحریروں کے مطابق حملے میں پہل اسماعیل نے کی۔ اُس نے تعدادی افراط کے بل

ہوتے پر یلغار کے انداز سے آمنے سامنے کا حملہ کیا۔ محمد غزنوی کی ہدایت کے مطابق تیر اندازوں نے ہاتھیوں پر تیر برسائے اور ان پر برچھیاں بھی پھینکیں ۔ دشمن کو ہاتھیوں پر بہت بھروسہ تھا لیکن اُس کے سالاروں کو اندازہ نہیں تھا کہ ہاتھی اپنی دہشت، طاقت اور جسامت کے باوجود کچھ کمزوریوں کا بھی حامل ہے۔ محمود نے اس لیے ہاتھیوں کو بھی مارنے کو کہا۔ ان میں سے جو ہاتھی زخمی ہوئے وہ اپنی فوج کے لیے مصیبت بن گئے ، اُن کی چنگھاڑ سے گھوڑے بھی بدکنے لگے۔

محمود غزنوی بلندی سے دیکھ رہا تھا۔ اُس کے سپاہیوں نے بیشتر ہاتھیوں کو بیکار کر دیا تھا مگر یہ کافی نہیں تھا۔ اسماعیل کے حملہ آور دستوں نے ہاتھیوں کے نقصان کی پرواہ نہ کی ۔ ان کی یلغار بڑی تیز تھی محمود کی ہدایت کے مطابق اس کے دستے جم کر لڑنے کی بجائے ادھر اُدھر ہونے لگے مگر دشمن کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ محمود کی چال کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی تھی۔ وہ اپنے سپاہیوں کو کٹتا ہوا دیکھ رہا تھا، ایک فرانسیسی مؤرخ ڈی ہیلوٹ لکھتا ہے ، کہ محمود غزنوی کو اپنی شکست یقینی نظر آرہی تھی ، صاف پتہ چلتا تھا کہ اسے پسپائی ہی بچاسکتی ہے، یا کوئی معجزہ۔ اسماعیل نے حکم دے دیا کہ محمود کو زندہ پکڑو۔ دونوں طرف تکبیر کے نعرے گرج رہے تھے۔ اور دونوں

طرف ایک ہی جیسے پرچم پھڑ پھڑا رہے تھے۔

ان کی یہ چال کہ وہ ادھر اُدھر ہو کر دشمن کو بکھیر دیں گے نا کام ہوگئی تھی۔ اب جم کر لڑ رہے تھے۔ مورخوں کے مطابق یہ معرکہ بہت ہی
خونریز تھا۔ دونوں فوجیں قہر اور غضب سے لڑ رہی تھیں مگر محمود غزنوی کے دستوں کا بہت جلدی ختم ہو جانا یقینی تھا۔

اپنے ان دستوں کو بچانے کے لیے محمود نے دشمن کے دونوں پہلوؤں پر حملے کر دیئے لیکن اس انداز ہے کہ دستے حملہ کر کے دائیں اور بائیں کو نکلنے کی کوشش کریں۔ یہ چال اس لحاظ سے کامیاب رہی کہ اسماعیل کی فوج پہلوؤں کی طرف پھیلنے لگی۔ محمود کے دستوں نے یہی طریقہ اختیار کر لیا کہ وہ گھوم پھر کر حملہ کرتے اور پہلوؤں کی طرف نکل جاتے۔ محمود نے اپنے ان دستوں کے لیے جو آمنے سامنے کے تصادم میں اُلجھ گئے تھے، یہ حکم دیا کہ وہ پیچھے ہٹنے کی کوشش کریں۔

اس کوشش میں ان کا مزید نقصان ہوا لیکن جو عسکری نکل سکے، وہ نکل آئے۔ سورج غروب ہونے میں تھوڑی سی دیر باقی تھی۔ محمود غزنوی نے پہلے تو سوچا تھا کہ وہ جنگ کو طول دے گا لیکن اس نے دیکھا کہ اسماعیل کی فوج اس کی مرضی کے مطابق بکھر رہی ہے تو اس نے شام سے پہلے پہلے معرکے کا فیصلہ کر دینے کا تہیہ کر لیا۔ اسے دشمن فوج کے قلب میں اسماعیل کا پرچم دکھائی دے رہا تھا۔ اُس نے تیر اندازوں کو میدان جنگ کے ارد گرد کی چٹانوں پربھیج دیا اور اپنے محفوظہ کو حملے کی تیاری کا حکم دیا، جنگی امور کو سمجھنے والوں کی نظر میں یہ خود کش اقدام تھا۔

محمود غزنوی نے اپنی جان اور فوج کا باقی حصہ داؤ پر لگا دیا۔ یہ تازہ دم محفوظہ تھا۔ محمود نے دشمن کے
قلب پر برق رفتار حملے کا حکم دیا اور اس حملے کی قیادت خود کی۔ ان دستوں میں زیادہ تر سوار تھے محمود نے اپنے تیر انداز دستوں کو یہ ہدایت دی تھی کہ دشمن اگر بکھر کر چٹانوں کے قریب جائے تو وہ تیر برسائیں محمود غزنوی کے اس حملے کی ترتیب تیر جیسی ہی تھی۔ اسماعیل کے قلب کے دستے دن بھر کی لڑائی کے تھکے ہوئے تھے محمود کا محفوظہ تازہ دم تھا، محمود کے کہنے پر محفوظ یہ نعرہ لگاتا جا رہا تھا بت پرستوں کے دوستوں کو کچل دوں کچھ تو محمود کا حملہ تیز اور غیر متوقع تھا۔ اور کچھ اس نعرے کا اثر تھا کہ اسماعیل کی صفوں میں بددلی پیدا ہونے لگی، محمود کے کمانداروں نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کر دیا .. اللہ کے سپاہی تنخواہ کے لیے نہیں لڑا کرتے۔"

اسماعیل کے سالاروں نے قلب کو بچانے کے لیے پہلوؤں سے کمک لینے کی کوشش کی تاکہ محمود کے محفوظ کو گھیرے میں لیا جاسکے مگر محمود غزنوی کے حملوں سے دشمن کے پہلوؤں میں دہشت طاری کر دی۔
مارو اور بھاگو کے انداز کے چھاپہ مار حملے بہت تیز تھے۔ غزنوی کا قہر ایک تاریخی حقیقت ہے مورخ لکھتے ہیں کہ محمود غزنوی سامنے سے حملہ کیا کرتا تھا تو اس میں اتنا قہر ہوتا تھا جو دشمن پر تو کیا محمود کا قہر اُس کے اپنے قابو میں بھی نہیں آ رہا تھا۔

محمود کی نظر اسماعیل کے جھنڈے پر تھی یہ جھنڈا غائب ہو گیا۔ جھنڈا فوج کے جذبے کو قائم رکھا کرتا تھا۔ جھنڈا غائب ہو گیا تو اسماعیل کی فوج کے پاؤں اکھڑنے۔
محمود کے کہنے پر اس کے سپاہی اعلان کرنے لگے ” بت پرستوں کے بھائیو! تمہارا پرچم گر پڑا ہے ۔

ابھی سورج غروب نہیں ہوا تھا کہ معرکے کا پانسہ پلٹ گیا۔ اسماعیل کی فوج کی مرکزیت ختم ہو چکی تھی۔فوج بد دل ہوگئی۔ ان میں سے سپاہی اور کماندار چٹانوں کے درمیان پناہ ڈھونڈنے لگے۔ دستوں کو انکے پیچھے بھیجا اور وہ ڈھونڈنے لگے۔ کئی ایک گھوڑا سواروں کو حکم دیا کہ وہ تمام میدان جنگ اور چٹانوں کے بیچ جائیں اور پکڑ کر لائیں
مزید یہ کہ اعلان کریں کہ سلطان محمود نے حکم دیا ہے کہ اسماعیل کے کسی بھی فوجی کو ہلاک نہ کیا جائے۔ جو کوئی ہتھیار ڈالنے سے انکار کرے، اُسے زندہ پکڑا جائے ۔ اگر وہ مزاحمت کرے تو اُسے زخمی کر کے پکڑا جائے۔ اس اعلان سے اسماعیل کے سپاہیوں کے حوصلے بالکل ہی ٹوٹ گئے۔

قلب کے جس سالار نے سب سے پہلے ہتھیار ڈالے تھے، اُس سے محمود غزنوی نے اسماعیل کے بارے میں پوچھا
سالار نے جواب دیا وہ جنگ کی وحشت سے ایسا گھبرایا کہ کوئی حکم یا اطلاع دیئے بغیر بھاگ گیا۔ اس نے وہ سمت بتائی جس طرح وہ گیا تھا
محمود غزنوی نے حکم دیا کہ اسے زندہ پکڑ کر لایا جائے
جاری ھے

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor E Hira posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Noor E Hira:

Share