18/06/2025
اور ایک بت شکن پیدا ہوا
باب سوم
دو مائیں
حصہ دوم
اقر اخلاقی مجرموں کی طرح پیش کیا جائے
سورج غروب ہونے تک خانہ جنگی کا یہ انتہائی خونریز معرکہ ختم ہو چکا تھا۔ اسماعیل کے عسکری ٹولیوں میں بیٹھ گئے تھے۔ محمود کے سپاہی ان پر پہرہ دے رہے تھے۔ بڑی ہی بھیانک آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ زخمی کراہ رہے تھے۔ بعض چیخ رہے تھے۔ زخمی ہاتھی چنگھاڑ رہے تھے۔ زخمی گھوڑوں کی آوازیں بڑی ڈراؤنی تھیں۔ رات گہری ہوتی جا رہی تھی ،
زخمی اٹھائے جا رھے تھے۔ معرکے سے پہلے ہی محدود غزنوی نے حکم دے دیا تھا کہ دونوں فوجیوں کے زخمیوں کی دیکھا بھال کرنی ھے
محمود غزنوی گھوڑے سے اُتر کر سینکڑوں مشعلوں کی روشنی میں لاشوں کے درمیان چل رہا تھا۔ اُسے ایک نسوانی پکار سنائی دی محمود محمود وہ اس آواز کو پہچانتا تھا۔ وہ اس آواز کی طرف دوڑ پڑا، یہ اُس کی ماں کی آواز تھی، مشعلوں کے درمیان گھومتے پھرتے شعلوں میں اُسے اپنی ماں لاشوں سے پھلانگتی اپنی طرف آتی دکھائی دی۔ محمود نے اُس کے قریب جا کر اس کے پاؤں پکڑ لیے، ماں نے اُسے اُٹھا کر اس کا سر اور منہ چوما۔ دونوں پر اتنی رقت طاری تھی کہ وہ بول نہ سکے۔
کچھ جزباتی باتوں کے بعد محمود نے ماں کو رخصت کر دیا۔ محمود کا اپنا بھی میدان جنگ میں کوئی کام نہیں تھا لیکن وہ میدان جنگ سے جانا نہیں چاہتا تھا۔ اُس پر جذبات کا ایسا غلبہ تھا کہ وہ کسی لاش کے پاس رک جاتا۔ کوئی مشعل برادر قریب سے گزرتا تو محمود اُسے روک لیتا۔ مشعل کی روشنی میں لاش کے چہرے کو غور سے دیکھتا اور آگے چل پڑتا۔
شاید وہ دل پہ بوجھ لیے اپنے بھائی کو تلاش کر رھا تھا
وہ اسی طرح سر جھکائے چلا جا رہا تھا کہ اسے اپنی ماں کی طرح کی ایک اور نسوانی آواز سنائی دی محمود۔۔۔۔
وہ رک گیا، دو مشعل برادروں کے درمیان ایک خاتون، شاہی لباس میں ملبوس آہستہ آہستہ اُس کی طرف آرہی تھی۔ وہ خوبصورت عورت تھی ۔ شاہی خاندان کی عورت تھی۔ وہ اُس کے باپ کی دوسری بیوی تھیں مگر اُسے دیکھ کر محمود غزنوی کا خون کھول اٹھا
کیونکہ وہ اسماعیل کی ماں تھی، محمود اُس کی طرف بڑھنے کی بجائے رک گیا۔ اسماعیل کی ماں اُس کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
یہ دیکھنے آئی ہو کہ تمہارے بیٹے نے غزنی کی فوج کے کتنے ہزار آدمیوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرایا ہے ؟ محمود نے پوچھا "یا یہ دیکھنے آئی ہو کہ آپس میں لڑ کر مرنے والے سپاہیوں کے کراہنے کی آوازیں کیسی لگتی ہیں ؟“
میں کچھ بھی دیکھنے نہیں آئی اسماعیل کی ماں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا
میں کچھ سننے نہیں آئی، میں اپنے بیٹے کی جاں بخشی کی التجا لے کر آئی ہوں ۔
کہاں ہے تمہارا بیٹا ؟ محمود نے کہا میں نے اُسے دیکھا ہی نہیں ۔
وہ اپنے خیمے میں ہے" ماں نے جواب دیا " بھاگ نکلنے کے رستے بند ہو چکے ہیں، وہ اکیلا ہے سب اس کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں ۔
کیا وہ بھی اُس کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں جنہیں خوشامد کی بدولت تمہارے بیٹے نے کماندار سے سالار
بنایا تھا ؟ محمود نے پوچھا ”وہ فقیر بھی اُسے تنہا چھوڑ گئے ہیں جنہیں تمہارے بیٹے نے امیر اور وزیر بنا دیا تھا؟ ظل الہی اور سلطان عالی مقام کہلانا آسان ہے لیکن ظل الہی اور سلطان عالی مقام بن کر دکھانا بڑا ہی مشکل ہے۔“
محمود اسماعیل کی ماں نے التجا کے لہجے میں کہا "تمہیں حق پہنچتا ہے کہ جو الٹی سیدھی زبان پر آئے کہہ دو میں اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگنے آئی ہوں ۔
اگر تم میری جگہ ہوتیں تو کیا اپنے اسماعیل کو اتنے انسانوں کا خون بخش دیتیں؟ محمود نے کہا اپنے اپکو دیکھو اور اپنے آپ سے پوچھو کہ جن کے خون سے تمہارے پاؤں لتھڑ گئے ہیں اور جن کے خون کے چھینٹے تمہارے ٹخنوں کے اوپر تک جاپڑے ہیں، وہ کون تھے ؟ تم ایک سلطان کی بیوہ ہو، سلطان کی بیوی ہو یا، بیوہ، قوم کا ہر فرد اور سپاہی اُس کا اپنا بچہ ہوتا ہے۔ کیا یہ تمہارے بیٹے نہیں تھے جن کے خون سے پھلانگتی اور جن کی لاشوں سے ٹھوکریں کھاتی تم مجھ سے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگنے آئی ہو؟ قوم اور فوج کے خون کے ساتھ کھیلنے والے حکمران اسی انجام کو پہنچتے ہیں جس تک تمہارا بیٹا پہنچ چکا ہے۔ کل کا سلطان آج کا مفرور مجرم ہے ۔
محمود! میں تمہاری ماں تو نہیں، تمہارے مرحوم باپ کی بیوہ ہوں اسماعیل کی ماں نے کہا ..
اپنے باپ کی روح کی خاطر مجھے میرا بچہ دے دو۔ میں اس سلطنت سے نکل جاؤں گی، تمہارے باپ کو میرے ساتھ اتنی ہی محبت تھی جتنی تمہاری ماں سے تھی۔“
اور تم نے اس محبت سے یہ فائدہ اٹھایا کہ اپنے خاوند کو اُس کے نزع کے عالم میں دھوکہ دیا اور اپنے اُس بیٹے کو سلطنت کا بادشاہ بنوالیا جس نے سلطنت کو ڈبونے کا اہتمام کر دیا۔ تم اُس قوم کی ماں ہو جس کی مائیں میری ماں کی طرح اپنے بیٹوں کو جوان کر کے محاذ کو رخصت کیا کرتی تھیں ۔ تم نے اپنے بیٹے کو تخت پر بٹھا کر اُس کے سر پر تاج رکھا تم نے اُسے مجرم بنایا ۔
محمود غزنوی نے اپنے پاس کھڑے دو عہدیداروں سے کہا۔ اس خاتون کے ساتھ جاؤ اور اس کے بیٹے کو میرے سامنے لے آؤ۔“
اُس وقت اسماعیل اپنے خیمے میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔ اُس نے جب خیمے میں دو عہد یداروں کو داخل ہوتے دیکھا تو وہ اٹھا اور سرتا پا کانپنے لگا۔ اُس نے ان عہدیداروں سے کہا کہ وہ اُسے فرار کرادیں تو وہ انہیں منہ مانگا انعام دے گا۔ عہدیداروں نے کوئی جواب دیئے بغیر اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے پکڑ کر سلطان کے پاس لے چلو، وہ خود ہی ان کیساتھ چل پڑا۔ اُس کی ماں اس کے پیچھے پیچھے آئی۔
اسے جب محمود غزنوی کے سامنے کھڑا کیا گیا تو محمود نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا ۔ تمہاری ماں نے مجھ سے تمہاری زندگی کی بھیک مانگی ہے، میں ایک ماں کی استدعا قبول کرتا ہوں ، تمہیں زندہ رہنے دوں گا۔
مشہور مؤرخ محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے محمود غزنوی نے اسماعیل سے پوچھا اگر فتح تمہاری ہوتی اور میں تمہارا قیدی ہوتا تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے؟ اسماعیل نے جواب دیا میں تمہیں مارتا نہیں مگر تمہاری آزادی چھین لیتا اور تمہیں ایک محل میں تمام آسائشوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے قید کر دیتا
محمود غزنوی نے کہا
میں تمہارے ساتھ اس سے برا سلوک نہیں کروں گا تم ساری عمر کے لیے جو جان کے قلعے میں قید رہو گے جہاں آزادی کے علاؤہ زندگی کی ہر آسائش اور سہولت مہیا کی جائے گی، اپنی ماں کو اپنے ساتھ لے جاسکتے ہو
اسماعیل نے باقی عمر اپنی ماں کے ساتھ اس قلعے میں گزاری ایک بہت بڑا خطرہ ٹل گیا۔
اس وقت جب سلطنت غزنی میں ایک اور خانہ جنگی لڑی جا چکی تھی اور غزنی کی بہترین فوج کی خاصی نفری کم ہوگئی تھی لاہور میں راجہ جے پال تک یہ اطلاع پہنچی کہ سلطان سبکتگین مر گیا ہے، اس لیے اب غزنی کو آسانی سے فتح کرلیں گے کیونکہ سبکتگین مر گیا ہے ۔ جرنیلوں کو ہلایا اور انہیں خوشی سے یہ خبر سنائی کیا ہماری فوج حملے کے لیے تیار ہے؟ راجہ جے پال نے پوچھا۔
پہلے دو تجربوں کو سامنے رکھو کہ ہمیں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے ایک جرنیل نے جواب دیا ایک آدمی کے مرجانے سے پوری قوم نہیں مر جایا کرتی ... غزنی کی فوج میں جو جذبہ ہے، وہ اُن کے ایک سلطان کے مرجانے سے نہیں مرے گا، ہماری فوج پیشقدمی کے لیے تیار ہے لیکن اس میں ابھی لڑنے کا وہ جذبہ نہیں ھے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں۔ مندروں میں پنڈت بھی لوگوں کو یہی بتاتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ مذہبی جنگ ہے۔“
سبکتگین کا بیٹا محمود جوان ہو گیا ہے. دوسرے جرنیل نے کہا میں یہ تو نہیں بتا سکتا کہ وہ پوری فوج کی کمان کے قابل ہے یا نہیں، میں نے اس کے دو حملے دیکھے ہیں، مجھے اس میں قابلیت اور جرات نظر آتی ہے، ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کس حد تک قابل ہے ۔“
پہلے میں یہی معلوم کرلوں گا"
راجہ جے پال نے کہا
"تمہیں معلوم ہے کہ میرے پاس غزنی کی فوج کے اونچے درجے کے دو قیدی ہیں۔ میں ان سے معلوم کرلوں گا، آپ لوگ فوج کی تربیت اور تیاری تیز کردیں۔ میں اب بہت جلدی غزنی کی طرف کوچ کروں گا ، سبتگین کا کوئی بھی بیٹا سبتگین جتنا قابل جرنیل نہیں ہو سکتا۔ مجھے امید ہے کہ اب ہم دو شکستوں کا انتقام لے کر سبکتگین کی سلطنت پر قبضہ کر سکیں گے، میں ایک لڑکی کی جان کی قربانی بھی دے رہا ہوں، پنڈتوں نے لڑکی حاصل کر لی ہے۔ اسے خاص عمل کے بعد قربان کیا جائے گا۔
راجہ جے پال نے غزنی کے جن دو قیدیوں کا ذکر کیا تھا، وہ نظام اوبیزی اور قاسم ہی تھے،راجہ جے پال ان سے جاننا چاہ رہا تھا کہ غزنی کی فوج کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ ان دونوں نے اسے تاثر دے رکھا تھا کہ یہ ایک گہرا راز ہے جو وہ نہیں بتائیں گے۔ راجہ جے پال نے انہیں راج محل کے ساتھ ایک کمرہ دے دیا تھا جہاں ایک مسلمان ملازم انہیں کھانا کھلاتا تھا۔ یہ مسلمان غزنی کا
جاسوس تھا۔
جاسوس تھا۔ وہ خوبرو اور ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تیز نظر تھا۔
راجہ ہے پال کو دوسری شکست نے دیوانہ بنارکھا تھا۔ وہ غزنی پر ایک اور حملے کے لیے فوج کی نئی بھرتی اور تیاری میں اتنا مصروف تھا کہ غزنی کے ان دو قیدیوں کی طرف توجہ نہ دے سکا۔
یہ مسلمان ملازم، جس کا نام بلاذری تھا انہیں کہہ رہا تھا کہ وہ راجہ کو کوئی جھوٹ موٹ کا راز بتا دیں، ورنہ وہ انہیں قید خانے میں ڈال کر بڑی ہی بھیانک اذیتیں دے گا، بلاذری کا مقصد یہ تھا کہ یہ دونوں راجہ پر اپنا اعتماد پیدا کر لیں تو ان کے فرار کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ راجہ کو اعتماد میں لینے سے یہ فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا تھا کہ اس سے یہ معلوم کر لیا جاتا کہ وہ کب تک غزنی پر حملہ کر رہا ہے اور اب کسی طرف سے حملہ کرے گا۔ پشاور کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی ہو سکتا تھا۔
اب راجہ تمہیں بلائے تو اسے دھوکہ دو عمران بلاذری نے ایک روز انہیں کہا۔ میں نے تمہیں چھپانے کا انتظام کر لیا ہے تمہیں یہاں سے جلدی نکالنا ہوگا ، ہو سکتا ہے میں یہاں سے غائب ہو جاؤں ۔ ایک فرض تو سلطنت کی طرف سے مجھ پر عائد ہے جو مجھے پورا کرنا ہے، اور کرتا رہتا ہوں۔
بلاذری نے کہا ... مگر میں انسان بھی ہوں، میرے جذبات بھی ہیں، مجھ پر ایک اور فرض آپڑا ہے، میں تم دونوں سے کچھ چھپاؤں گا نہیں ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے، پنڈتوں نے راجہ جے پال کو بتایا تھا کہ وہ ایک کنواری لڑکی کی قربانی دے تو اسے فتح ہوگی۔ یہ قوم وحشی ہے اور بربریت پسند کسی عورت کا خاوند مر جائے تو اس کی بیوہ کو اس کی لاش کے ساتھ زندہ جلا دیتے ہیں۔ یہ لوگ انسانی قربانی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پنڈت کو کسی خاص شکل، رنگ اور عمر کی بڑی خوبصورت کنواری لڑکی مل گئی ہے، اسے وہ کسی مندر میں لے گئے ہیں، اسے قربانی کے لیے تیار کیا جائے گا، مجھے اس لڑکی کو بچاتا ہے۔“
اس سے ہمیں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ نظام اور یزی نے پوچھا یہ کافر اپنی تمام لڑکیوں کو اپنے بتوں کے آگے قربان کر دیں ہمیں اس سے کیا ؟“
یہ لڑکی مجھے اس قدر چاہتی ہے کہ میرے ساتھ چلنے کو تیار تھی عمران بلاذری نے کہا وہ اسلام قبول کرنے کا بھی فیصلہ کر چکی تھی ، میں اسے کب کا نکال لے جاتا لیکن جاسوس کی حیثیت سے میرا فرض مجھے یہاں سے نکلنے نہیں دے رہا۔ میں یہاں سے کوئی کام کی اطلاع یا راجہ جے پال کے آئندہ عزائم کی صحیح خبر لے کر غزنی کو روانہ ہونا چاہتا تھا۔ لڑکی جب مجھ ملتی یہی کہتی کہ میں اُسے غزنی لے چلوں۔ اتنے میں تم دونوں آگئے، یہ بھی میرے فرائض میں شامل ہے کہ تمہیں یہاں سے فرار کراؤں، میں لڑکی کو ساتھ لے کر تمہارے ساتھ نکل جانے کا ارادہ کیے ہوئے تھا۔ ایک روز لڑکی مندر میں گئی اور واپس نہ آئی۔ مجھے پتہ چل گیا کہ پنڈتوں نے اسے قربانی کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ قربانی دینے میں ابھی بہت دن ہیں۔ مجھے مجرم ، غدار کہہ لو جو جی میں آئے کہہ لو، لیکن میں ڈرتا ہوں کہ محبت فرض پر غالب آجائے گی۔ تم راجہ کو اعتماد میں لو اور یہاں سے نکلو میں تمہیں کچھ دن چھپائے رکھوں گا ، پھر لاہور سے نکال بھی دوں گا ۔“
تم ہم سے جلدی فارغ ہونا چاہتے ہو قاسم بنی نے کہا۔
ہاں بلاذری نے جواب دیا " بہت جلدی مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی ۔
اس سے ایک دو روز بعد انہیں راجہ جے پال نے بلا لیا۔
"کیا تم میرے سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہو ؟ راجہ نے کہا " مجھے امید ہے کہ تم اپنے آپ پر رحم کرو گے۔"
ہاں مہاراج نظام اوریزی نے کہا ۔ آپ نے ہمارے ساتھ جو اچھا سلوک کیا ہے، اس کے عوض ہم آپ کو ہر سوال کا جواب دیں گے۔“
تمہارا سلطان سبکتگین مر گیا ہے۔ راجہ جے پال نے انہیں خبر سنائی۔
دونوں چونک اٹھے لیکن سنبھل گئے ۔
اب غزنی کی سلطنت کو بچانے والا کوئی نہیں رہا۔ راجہ نے کہا ” تم اب میرا ساتھ دو، میں تمہیں اپنی فوج میں عہدہ بھی دے سکتا ہوں ... مجھے یہ بتاؤ کہ اُس کا بیٹا محمود اپنے باپ کی جگہ فوج کی کمان کر سکتا ہے؟ اس میں جنگی قابلیت کتنی کچھ ہے؟“
اتنی نہیں جتنی سلطان سبکتگین میں تھی اوریزی نے جواب دیا ” میدانِ جنگ میں وہ اپنی مخصوص چالیں چلتا ہے، اگر آپ کو یہ چالیں بتا دی جائیں تو آپ اسے آسانی سے شکست دے سکتے ہیں، آپ کو دوسری شکست محمود کی چالوں نے ہی دی ہے۔“
ان دونوں نے راجہ جے پال کو محمود کی چالیس بتانی شروح کر دیں۔ ان کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ راجہ نے اپنے جرنیلوں کو بلالیا، اوریزی اور بھی انہیں چالیں سمجھانے لگے۔
ہم آپ کو عملی طور پر بھی یہ چالیں سمجھائیں گے قاسم بلخی نے کہا لیکن ہم قیدی بن کر آپ کو ان چالوں کی عملی شکل نہیں بتائیں گے ۔“
راجہ جے پال نے اُسی وقت حکم دے دیا کہ ان کے کمرے پر سے پہرہ ہٹا دیا جائے۔ پہرہ ہٹا دیا گیا، رات آئی اور گزرگئی۔ اگلے روز عمران بلاذری ان کے لیے کھانا لے کر کمرے میں بیٹھ گیا، بہت دیر گزرگئی۔ راج محل سے اور یزی کا بلاوا آیا۔ بلاذری نے قاصد کو بتایا کہ وہ صبح سے کھانا لے کر بیٹھا ہے، وہ دونوں کمرے میں نہیں تھے۔ وہ کمرے میں ہوتے بھی کیسے وہ تو رات کو ہی نکل گئے تھے، اور بلاذری ہی انہیں اپنے گھر میں چھپا آیا تھا
باب چہارم
مذہب، محرم اور مجاہد
حصہ اول
عمران بلاذری پر کسی نے شک نہ کیا کہ غزنی کے دونوں قیدیوں نظام اوریزی اور قاسم بھٹی کو اس نے راج محل سے فرار کرایا ہے۔ اُس نے یہ فرض تو ادا کر دیا تھا مگر اُسے ابھی ایک اور فرض ادا کرنا تھا۔ یہ وہ ہندو لڑکی تھی جو اُس کی محبت کی خاطر اپنا مذہب اپنا گھر اور اپنا ملک چھوڑنے کو تیار تھی مگر اسے پنڈت انسانی قربانی کے لیے لے گئے تھے۔
بلاذری خوش وضع ، خوش لباس اور خوش گفتار جوان تھا۔ ہر ڈھنگ کھیلنا اور ہر بھیس بدلنا جانتا تھا۔ اُس کی زبان میں جادو کا اثر تھا۔ وہ ان مردوں میں سے تھا جن کے خدو خال میں، آنکھوں میں، ڈیل ڈول اور سراپا میں ایسی کشش ہوتی ہے جو جنس مخالف کو کچھ دیر رک کر دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ عمران بلاذری شہزادہ نہیں تھا۔ راج محل کا ملازم تھا، ملازموں جیسے کپڑے پہنتا تھا۔ ملازموں کی طرح بولتا تھا۔ مگر غزنی کا جاسوس تھا۔ اُس وقت کی زبان روانی سے بولتا تھا اور کسی کو کبھی شک نہیں ہوا تھا کہ یہ شخص خوش طبع آدمی راجہ جے پال کی ریاست کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔
وہ کچھ عرصے سے لاہور میں تھا۔ شہر میں ایک مکان میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کے اڑوس پڑوس میں رہنے والے اس کے متعلق اتنا ہی جانتے تھے کہ راج محل کا ملازم ہے، ملتان کا رہنے والا ہے۔ اچھا آدمی ہے صبح جلدی نکل جاتا ھے اور رات دیر سے گھر آتا ہے۔ اس کی دوستی ایک ہندو جگ موہن کے ساتھ تھی جو اُس کا ہم عمر تھا۔ اُس کا باپ تاجر تھا جگ موہن اکثر رات کو عمران بلاذری کے گھر آیا کرتا تھا۔ اُن دنوں ہندو اور مسلمانوں کی دوستی کم ہی دیکھنے میں آیا کرتی تھی۔ مسلمان اقلیت میں تھے اور ہندو ان سے نفرت کرتے تھے۔ راجوں مہاراجوں اور پنڈتوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کر رکھی تھی، مگر جگ موہون جو ذات کا برہمن تھا، عمران بلاذری سے
پہلی ہی ملاقات میں اتنا متاثر ہوا تھا کہ اسے ملتا رہا اور ان کی دوستی ہوگئی۔ دوستی کے ابتدائی دنوں کا ایک واقعہ ہے کہ ایک رات جگ موہن روتے ہوئے بلاذری سے ملنے اُس کے گھر آیا۔
پوچھنے پہ اس نے بتایا کہ
آج میری بہن زندہ جلا دی گئی ہے"
کس نے جلائی ہے؟ عمران بلاذری نے حیران ہو کر پوچھا۔
میرے دھرم نے" جگ موہن نے بتایا اُس کی شادی ہوئے ابھی ایک سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ اُس کا خاوند گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گیا، آج صبح وہ مر گیا ہے۔ اُس کی بیوی کو بھی اُس کے ساتھ ہی مرنا تھا۔ آج میرے بہنوئی کی لاش چتا پر رکھی گئی تو اُس کے بھائیوں نے میری بہن کو بھی چتا پر کھڑا کر دیا اور چتا کو آگ لگا دی تم نے چتا نہیں دیکھی ہوگی ۔ لکڑیوں کا بہت بڑا ڈھیر لگایا جاتا ہے جو چوکور اوپر سے ہموار ہوتا ھے۔ اس کی لمبائی انسان کے قد سے کچھ زیادہ ہوتی ہے اور اونچائی کم و بیش ایک گز ۔ اس پر لاش رکھ دیتے ہیں۔ لکڑیوں پر تیل یا گھی ڈالتے ہیں اور آگ لگا دیتے ہیں۔ میں تو لاش کو بھی جلتے نہیں دیکھ سکتا مگر میں نے اپنی بہن کو اپنے خاوند کی لاش کے ساتھ زندہ جلتے دیکھا ہے ....
" کہتے ہیں کہ ہندو عورت اتنی غیرت والی ہوتی ہے کہ اُس کا خاوند مر جائے تو اُس کے ساتھ زندہ جل جاتی ہے۔ اسے ستی ہونا کہتے ہیں۔ جو عورت ستی نہیں ہوتی وہ ساری عمر شادی نہیں کر سکتی، وہ خطرہ محسوس کرتی ہے کہ انسانی کمزوری اسے گناہگار بنادے گی۔ اس لیے خاوند کے ساتھ ہی مر جانا بہتر سمجھتی ہے ... میں اس کو اچھا سمجھتا تھا مگر جب اپنے گھر کی عورت کو زندہ جلتا دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہمارا دھرم کس قدر بے رحم ہے۔
وہ میری بہن کو زبردستی کھینچ کر چتا تک لے گئے اور اُسے اٹھا کر چتا پر کھڑا کر دیا گیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ دیے گئے۔
وہ میری طرف مدد طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتی تھی۔ مگر میں اسے بچانہ سکا، وہاں کم و بیش ڈیڑھ سو آدمی تھے۔ کوئی بھی اسے بچانے کے لیے آگے نہ بڑھا۔ سب کھوکھلے دھرم کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے میں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ مجھے لکڑیوں کے جلنے کی آواز آئی اور اس کے ساتھ ہی مجھے اپنی بہن کی چیخیں سنائی دیں .....
میں نے گھوم کر دیکھا، شعلے بہت اونچے تھے۔ ان میں مجھے اپنی بہن نظر آئی، وہ چیخ رہی تھی، پھر نے جلتی لکڑیوں کی تراخ تراخ نے اس کی چیخیں ختم کر ڈالیں، مجھے غشی آنے لگی، میں وہاں سے چلا آیا، میں ابھی تک بہن کی چیخیں سن رہا ہوں، مجھے اپنے دھرم سے نفرت ہوگئی ہے۔“
وہ مذہب ہی کیا جس سے انسانوں کو نفرت ہو جائے " عمران بلاذری نے کہا۔
"وہ مذہب ہی کیا جو انسان کو جینے کے حق سے محروم کر دے، کوئی مذہب بربریت کی اجازت نہیں دیتا، میں تمہیں اپنے مذہب میں اپنے میں لانے کی کوشش نہیں کر رہا، صرف بتا رہا ہوں کہ میرا مذہب عورت کے لیے بہت نرم ہے، اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو اُسے ایک مخصوص مدت جو کہ عمومآ چاہ سوا چار ماہ تک ہوتی ھے ، کے بعد شادی کرلے، اگر وہ جوان ہو تو کوشش کی جاتی ہے کہ اس کی دوسری شادی ہو جائے ۔ میرا مذہب عورت کو ذراسی بھی جسمانی ایزا دینے کی اجازت نہیں دیتا۔“
ہمارے پنڈت دودھ پیتے بچوں کی قربانی بھی دیا کرتے ہیں جگ موہن نے کہا ایسا اکثر ہوتا ہے کہ خشک سالی ہو، قحط کا خطرہ ہو، سیلاب کا ڈر ہو تو کسی کا معصوم بچہ پکڑ کر اسے ذبح کر دیا جاتا ہے۔ پھر اس کی لاش جلادی جاتی ہے۔ اب ہمارا راجہ غزنی سے شکست کھا کر آیا ہے تو پنڈتوں نے اسے کہا ہے کہ وہ ایک کنواری لڑکی کی قربانی دے تو اس کی شکست فاتح میں بدل جائے گی ۔"
یہ قربانی کب دی جارہی ہے؟“
" پذت خاص قسم کی لڑکی کی تلاش میں ہیں۔ جگ موہن نے جواب دیا۔ انہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ لوگ مندروں میں اپنی کنواری بیٹیوں کو بھیجا کریں۔ لڑکیاں مندروں میں جاتی ہیں،
تمہاری کوئی بہن کنواری تو نہیں ؟“بلازدی نے یک لخت پوچھا
میری چھوٹی بہن کنواری ہے" جگ موہن نے کہا لیکن میں اسے مندر میں نہیں جانے دیتا، میرے باپ نے بھی اسے کہا ہے کہ وہ مندر نہ جایا کرے ... میری بہن بہت خوبصورت ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ پنڈتوں کے سامنے گئی تو وہ اسے قربانی کے لیے منتخب کرلیں گے۔"
عمران بلاذری کو موقعہ مل گیا۔ اس نے جگ موہن کو اسلام کے بنیادی اصول بتائے اور کہا " ہمارا مذہب بنی نوع انسان کی بہبود اور حقوق دینے کے لیے آیا تھا۔"
جگ موہن کا دل زخمی تھا، عمران بلاذری کی باتوں سے اُسے تسکین ہونے لگی۔
" تم نے اچھا کیا ہے کہ اپنی چھوٹی بہن کو پنڈتوں سے چھپا رکھا ہے بلاذری نے کہا " راجہ بے پال نے شکست کھائی ہے تو اس کی غلطی ہے۔ وہ اپنے آپ کو فریب دے رہا ہے اور اپنی قوم کو بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے پنڈت فریب دے رہتے ہیں۔ ہر کوئی بادشاہ یا مہاراجہ کی خوشنودی چاہتا ہے ، ہر ایک کا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ یہ مسلمانوں میں بھی ہوتا ہے، عیسائیوں میں بھی، پنڈت ہو یا مولوی، اس کے پاس مذہب کی پیشوائی ہوتی ہے، اس لیے وہ مذہب کو موڑ توڑ کر اپنے بادشاہ کو خوش کر لیتا ہے۔ تمہارے پنڈتوں نے بھی یہی کیا ہے، راجہ جے پال کو یہ کہنے کی بجائے کہ اپنی غلطیوں اور سلطان سبکتگین کامیابیوں کو پرکھے اور اپنی فوج میں رد و بدل کرے، پنڈتوں نے اسے یہ کہہ کر اس کا دل پرچا دیا کہ دیوتا ناراض ہیں اور وہ ایک کنواری کی قربانی مانگتے ہیں ....
تم جسے اپنے مذہب کی خرابی کہتے ہو، یہ دراصل تمہارے مذہبی پیشواؤں کی خرابی ہے، ہمارے مولوی اور امام بھی بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور امام بھی بادشاہ کی خوشامد کرنے کے چکر میں ایسے فیصلے لیتے ہیں جن کو انسانی ذہن قبول نہیں کرتا لیکن اس پر وہ مذہب کی چھاپ لگا کر اپنا مطلب نکالتے ہیں
لوگوں کو تخت و تاج کی مضبوطی کے لیے مذہب کو استعمال کرنے اور مذہب کی آڑ میں اصولوں اور فلسفوں کو توڑ موڑ کر اسے آڑ مہیا کر دیتے ہیں۔ اگر یہی بادشاہ مذہب سے نگاہ ار رعایا پر ظلم و تشدد شروع کر دے تو یہی مذہبی پیشوا اس کی دھاندلیوں اور جھوٹ کو مذہبی جواز مہیا کر دیں گے۔ مذہب ہر کسی کے لیے قابل قبول ہوتا ہے، مذہب کو اس کے پیشوا قابل نفرت بنایا کرتے ہیں۔“
کیا تمہارے مذہب میں انسانوں کی قربانی دی جاتی ہے؟ جگ موہن نے پوچھا۔
نہیں "
عمران بلاذری نے جواب دیا " ہمارا مذہب اسے قتال کہتا ہے۔ اگر ہمارا کوئی مذہبی پیشوا کسی کو انسانی قربانی کے لیے تیار کرے گا تو وہ قاتل کہلائے گا اور سزائے موت پائے گا۔ مسلمان میدان جنگ میں اپنی جانیں دیا کرتے ہیں اور یہی سلطان سبکتگین کی کامیابی کا راز ہے ... میں تمہارے مذہب کی توہین نہیں کرنا چاہتا، حقیقت بیان کرتا ہوں ۔ ہم صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ ہمارے کئی خدا نہیں، اور ہمارے خدا پتھر اور مٹی کے بھی نہیں۔ اپنی عقل استعمال کرو۔ یہ بت ایک جگہ دھرے رہتے ہیں، تم انہیں صرف مندروں میں دیکھ سکتے ہو۔ یہ اپنے اوپر بیٹھی مکھی کو بھی نہیں اُڑا سکتے۔ ان میں جان نہیں، روح نہیں، ہمت کرو اور ایک بہت کو توڑ دو، پھر دیکھنا خدا اپنے ٹکڑے جوڑ سکتا ہے یا نہیں اور یہ تمہارا کیا بگاڑ لے گا، ہمارا خدا صرف مسجد میں نہیں رہتا، ہر جگہ موجود ہوتا ہے اور ہمارے دلوں میں بھی رہتا ہے، وہ کسی انسان کا خون نہیں مانگتا، نہ کسی کنواری کو اپنے سامنے ذبح کرا کر خوش ہوتا ہے۔"
عمران بلاذری کی زبان کا جادو اس جواں سال ہندو کو مسحور کر رہا تھا۔ اس تاثر کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ بلاذری کی زبان میں سحر تھا اور دوسری وجہ یہ کہ جگ موہن نے اپنی بہن کو زندہ جلتے دیکھا تھا، یہ انسانی جذبات تھے جو پنڈتوں اور پتھر کے خداؤں پر غالب آگئے تھے ۔ عمران بلاذری نے اُسے اُس کے مذہب سے منحرف کر دیا تھا، یا انحراف اور نفرت کا بیج بو دیا تھا۔ جگ موہن کے آنسو بہے جارہے تھے، اور اس کے چہرے پر دہشت کا تاثر بھی تھا۔ اسے ابھی تک اپنی بہن جلتی نظر آرہی تھی۔
تمہارا غم ایسا ہے جو بانٹا نہیں جاسکتا؟ عمران بلاذری نے کہا میں ہمدردی کے دو چار الفاظ کہہ سکتا ہوں، اگر میں تمہارے کسی کام آسکتا ہوں تو مجھے بتانا
غمزدہ حالت میں ہمدردی کے دو چار الفاظ بھی بہت بڑی مدد ہوتی ہے۔ جگ موہن عمران بلاذری کا مرید ہو گیا اور اس کی باتوں کو دل میں بٹھانے لگا، ایک روز بلاذری کو کام سے چھٹی تھی ، وہ جگ موہن کو شکار پر لے گیا اس کے پاس تیر کمان تھی یہ بھی جگ موہن کے دل بہلاوے کا اہتمام تھا وہ شہر سے دور جنگل میں نکل گئے، دونوں نے بہت سے پرندے شکار کیے۔
عمران جگ موہن نے ہنس کر کہا " تم نے مجھ سے ان پرندوں کا ناحق خون کرایا ہے تم جانتے ہو کہ میں برہمن ہوں ، ہمیں گوشت کھانے کی اجازت نہیں۔“
اگر تم گوشت کھاؤ تو تمہارے خیالات بدل جائیں گے بلاذری نے کہا میں تمہیں آج گوشت کھلاؤں گا، اگر پتھر کے کسی بت نے تمہیں سزا دی تو وہ میں بھگتوں گا۔
اُس نے پرندوں کے پر اتارے، پرندے صاف کیے اور لکڑیاں وغیرہ اکٹھی کر کے آگ پر پرندے بھون لیے، وہ نمک ساتھ لے گیا تھا جگ موہن گوشت کو ہاتھ لگاتے ڈر رہا تھا، عمران بلاذری نے زبان کا جادو چلایا تو جگ موہن نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ایک پرندہ اٹھایا اور دانتوں سے ایک توڑ کر بوٹی منہ میں ڈالی، اُس نے گوشت کا ذائقہ پہلی بار چکھا تھا، اُس نے جلدی جلدی پورا پرندہ کھالیا۔
اور کھاؤں گا ... جگ موہن نے کہا۔
وہ ایک اور پرندہ کھا گیا۔
میں ایک اور کھاؤں گا
جنگ موہن نے ایک اور پرندہ کھالیا، پرندوں کی کمی نہیں تھی، بلاذری آگ پر پھینکتا، بھونتا اور نمک لگاتا جا رہا تھا، جگموہن نے ایک اور پرندہ اٹھایا تو بلاذری نے روک دیا۔
تمہارا پیٹ گوشت کا عادی نہیں ھے، شاید ہضم نہ کر سکے، میرے گھر آتے ہی رہتے ہو، میں تمہیں گوشت کا عادی بنادوں گا۔
جگ موہن نے بلاذری کے منع کرنے کے باوجود ایک اور پرندہ کھالیا اور بولا بھائی دوڑیں گے تو سب کچھ ہضم ہو جائے گا۔" اس روز کے بعد جنگ موہن عمران بلاذری کے گھر جاتا تو گوشت کی فرمائش کرتا، بلاذری اس کے لیے گوشت تیار رکھتا تھا، یہ گوشت کا اثر تھا، یا بلاذری کی باتوں کا کہ جگ موہن اپنے مذہب سے دور ہو گیا۔ تم مندر میں جایا کرتے ہو؟ ایک روز عمران بلاذری نے اس سے پوچھا۔ "کبھی کبھی
جگ موہن نے جواب دیا اب تو ایک رسم پوری کرنے جاتا ہوں ۔
تم جس بت یا مورتی کے سامنے بیٹھ کر عبادت کیا کرتے ہو، اسے ایک روز کہنا کہ تم گوشت خور ہو گئے ہو عمران بلاذری نے کہا۔ " پھر دیکھنا تمہارا یہ مصنوعی خدا تمہیں کیا کہتا ہے ... وہ کچھ بھی نہیں کہے گا، تم اتنے دنوں سے گوشت کھا رہے ہو تمہیں ان بتوں نے کیا سزا دی ہے؟ البتہ تمہارے کسی پنڈت کو پتہ چل گیا تو وہ تمہارے خلاف طوفان بپا کر دے گا۔
جگ موہن اپنے مذہب کے خلاف دلیر ہو گیا۔
شام کے بعد کا واقعہ ہے عمران بلاذری اپنے گھر میں تھا، ایک بڑی ہی خوبصورت لڑکی اُس کے گھر میں آئی ، لڑکی کا رنگ گورا، آنکھیں شربتی اور بال بھی شربتی رنگ کے تھے، وہ خوبصورت تو تھی ہی لیکن اس میں جو کشش تھی، وہ اس کے جسم کی ساخت کی بدولت تھی۔ اس کی چال ڈھال میں انوکھی کشش تھی، اس کی عمر بمشکل سولہ سترہ سال تھی، عمران بلاذری اس لڑکی کو ایسے وقت جب شام گہری ہوگئی تھی ، اپنے گھر میں دیکھ کر حیران ہوا۔
عمران بلاذری تم ہو ؟ لڑکی نے پوچھا۔
ہاں .... میں ہی ہوں ۔
میں جگ موہن کی بہن ہوں لڑکی نے کہا "میرا نام رشی ہے، جگموہن کو دیکھنے آئی ہوں، میرے باپ کی طبیعت خراب ہوگئی ہے۔ گھر میں کوئی مرد نہیں جو کسی سیانے یا وید کو بلا لائے ، مجھے معلوم تھا کہ میرا بھائی تمہارے پاس آیا کرتا ہے۔“
ہاں ... آیا کرتا ہے لیکن دیر بعد عمران بلاذری نے کہا۔ رات گہری ہو چکی ہوتی ہے تو آتا ھے میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں، کسی وید یا سیانے کو بلا لاؤں گا ۔“
تم یہاں اکیلے رہتے ہو ؟ رشی نے پوچھا۔
بالکل اکیلا "
بیوی نہیں ؟ رشی نے مسکرا کر پوچھا۔
اس ہندو لڑکی کے چہرے کے تاثرات اور مسکراہٹ سے پتہ چلتا تھا کہ وہ اس گھر سے جلدی نہیں نکلنا چاہتی ، عمران بلاذری ایک تاثر بن کر اس پر چھا گیا تھا۔
تم نے شادی کیوں نہیں کی ؟ رشی نے پوچھا۔
تمہارا باپ بیمار ہے رشی؟ عمران بلاذری نے کہا تمہیں جلدی گھر جانا چاہیے ۔۔۔۔
جاری ھے