26/04/2026
ریاست میں پڑھے لکھے نوجوانوں کا استحصال۔ بیروزگاری کم کرنے لئے حکومت کو چند گزارشات۔
ریاست میں بیروزگاری کم کرنے کے لیے حکومت وقت کو چند دلیرانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست میں پرائیویٹ سیکٹر میں چند بزنس مافیاز پڑھے لکھے نوجوانوں کا استحصال کرتے ہیں جن میں سر فہرست پرائیویٹ سکول، کالجز اور ہسپتال ہیں۔ ان اداروں نے یونین /ایسوسی ایشن کے ذریعے حکومت کو تقریباً یرغمال بنا رکھا ہے۔ جس کی ایک چھوٹی سی مثال ماضی قریب میں پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن نے حکومت سے بجلی بلات میں چھوٹ حاصل کی اور اس چھوٹ کو حکومت نے بچوں کی فیس میں کمی سے مشروط کیا تھا لیکن بجلی کی قیمت میں تو کمی ہو گئی لیکن مجال ہے کہ کسی سکول/ کالج نے فیسوں میں کوئی کمی کی ہو۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس خلاف ورزی پر ریاستی اداروں نے پوری ریاست میں کہیں بھی کوئی کاروائی نہیں کی۔اگر یہ چھوٹ مشروط تھی تو کیا ریاستی اداروں کی یہ زمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اس پر کاروائی کریں۔ وہ کونسے عوامل ہیں جو اداروں کو کاروائی سے روکتے ہیں۔
ان دو پرائیویٹ سیکٹرز میں پڑھے لکھے لوگ ہی کام کرتے ہیں لیکن انکا کوئی سروس سٹرکچر ہی نہیں ہے حتیٰ کہ حکومت کی طرف سے کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہ ان پڑھے لکھے مرد و خواتین کو دی جاتی ہے۔ اس ضمن میں حکومت وقت کو چند گذارشات پیش کی جاتی ہیں جن پر عملدرآمد کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے بلکہ خالصتاً نیک نیتی ضروری ہے:-
1. محکمہ تعلیم کی طرز پر سروس سٹرکچر تیار کرنا اور سرکاری ٹیچر کی طرح پرائیویٹ سکول میں بھی اساتذہ کی تقرری کے لیے یکساں تعلیمی معیار کی حامل اساتذہ کی بھرتی۔
2. ہر پرائیویٹ ادارہ اپنے سکول میں پڑھائی جانے والی کلاسز کے مطابق سینئر ، جونیئر و ماہر مضامین کی آسامیوں کی تعداد کے متعلق متعلقہ محکمہ کو تحریری طور پر دینے کا پابند ہو اور اس کے مطابق ہی ملازمین بھرتی کرے۔
3. پرائیویٹ سکول/کالجز کے مالکان کو اس بات کا پابند بنانا کہ وہ مختلف کلاسز کے لیے سرکاری سکول کی طرز پر سینئر، جونیئر و ماہر مضمون کی تقرری کریں اور اس بارہ میں متعلقہ محکمہ کو بھی مطلع کریں بلکہ متعلقہ محکمہ و عملدرآمد کروانے والے محکمہ کا ایک ایک نمائندہ اس سارے عمل میں بطور رکن شامل ہو۔
4. ان اساتذہ کی تنخواہ و الاونسز سرکاری ملازمین کے برابر ہونی چاہیے، (پنشن و گریجویٹی کے علاؤہ)۔
5. ان ملازمین کو باقاعدہ سرکاری طرز پر سکیل جاری کیا جائے تاکہ نگرانی والے محکمے کو جانچ پڑتال میں آسانی ہو۔
6. تمام ملازمین کی تنخواہ بنک اکاؤنٹ کے ذریعہ کی جائے تاکہ مانیٹرنگ ہو سکے۔
7. انشورنس کمپنیوں و Employees' Old-Age Benefits Institution (EOBI) مین ملازمین کی رجسٹریشن لازماً کروائی جائے تاکہ پرائیویٹ ملازمین کو تحفظ کا احساس ہو۔ اس سلسلہ گورنمنٹ طرز پر سکیل وائز کٹوتی کرکے انشورنس کمپنی و Employees' Old-Age Benefits Institution (EOBI) کو ادائیگی کی جائے۔
پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی محکمہ صحت کی طرز پر سکیل وائز اسامیاں کی نشان دہی کرتے ہوئے محکمہ صحت کے نمائندہ کی موجودگی میں با ضابطہ طور پر قابلیت کے مطابق تقرریاں کی جائیں اور ان کا سروس سٹرکچر محکمہ صحت کے ملازمین کی طرز پر بنایا جائے اور تنخواہ و الاونسز سرکاری ملازمین کے برابر ہونی چاہیے، (پنشن و گریجویٹی کے علاؤہ)۔
ہر پرائیویٹ سکول/کالج/ہسپتال کو اپنی ضرورت کے مطابق سکیل وائز آسامیوں کی فہرست متعلقہ حکومتی محکمے میں جمع کروانی لازمی قرار دیا جائے جسکے مطابق ہی تقرری تحت قواعد کی جائے۔ مندرجہ بالا گذارشات پر مکمل عملدرآمد کی صورت میں ریاست کے پڑھے نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی میں کافی حد تک کمی ہو سکتی ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی طرح آجر اور اجیر میں منافع کی شرح میں فرق کم ہو گااور جس سے طبقاتی تقسیم بھی کم ہو گی۔