21/10/2022
السلام علیکم!
فری کچن ویسٹ کمپوسٹ بنانے کا طریقہ:
آج ہم کمپوسٹ بنانے کے سادہ اور آسان طریقے سیکھیں گے. جن کی مدد سے کمپوسٹ بنانے میں بد بو بھی نہ آئے اور زیادہ مشکل بھی نہ ہو
تعارف:
جیسے ہم انسانوں کو بہتر نشوونما کے لئے مختلف قسم کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے ایسے ہی پودوں کو بھی اپنی نشوونما کے لئے مختلف نیوٹریشنز کی ضرورت ہوتی ہے قدرت کا نظام ہے کہ ہر چیز وقت کے ساتھ ساتھ اورگینک کھاد میں بدلنے لگتی ہے
پودوں کی ضرورت کے لئے انہیں سب سے زیادہ جو نیوٹریشنز چاہیے ہوتے ہیں ان کی تفصیل کچھ یوں ہے
نائٹروجن:
نائٹروجن پودوں کے پتوں کی خوبصورتی, سبزہ زار اور اس میں اونچائی کو بڑھانے میں کام آتی ہے. تازہ سبزیوں کے چھلکے تازہ پتے اور تازہ گھاس سے نائٹروجن کھاد بنائی جا سکتی ہے
فاسفورس:
فاسفورس پودوں کی جڑوں کو بڑھانے میں کام آتی ہے جس پودے کی جڑ صحتمند اور بڑی ہوگی اس کا تنا اور ساری گروتھ ہی اچھی ہوگی ہڈیوں وغیرہ کے چورے سے بنی ہوئی کھاد میں فاسفورس کی اچھی مقدار ہوتی ہے ہے لیکن آج ہم جس طریقے سے کھاد بنانا سیکھیں گے اس میں فاسفورس کی مقدار بھی بہت اچھی ہوگی
پوٹاشیم:
پوٹاشیم یا پوٹاش پو دے کی مکمل گروتھ میں فائدہ مند ہوتی ہے خاص کر پھلوں سبزیوں کے سائز کو بڑا کرنے میں مددگار ہوتی ہے لکڑی یا سوکھے گوبر کی راکھ سے پوٹاشیم سے بھرپور کھاد بنائی جا سکتی ہے
کیلشیم:
کیلشیم پودے کے تنے کو مضبوط کرتی ہے اور پتوں پر داغ نہیں لگنے دیتی کیلشیم کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے انڈے اور کیلے کے چھلکے والی کھاد اچھی رہتی ہے
میگنیشیم:
میگنیشیم کا کام پتوں کے ذریعے سورج سے غذا لینا اور اسے پودے کو پہنچانا ہوتا ہے میگنیشیم کو حاصل کرنے کے لئے بہترین ذریعہ کیلے کے چھلکے ہیں
ان سب کے علاوہ بھی پودوں کو کاربن, آئرن, زنک جیسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ان طریقوں سے کمپوسٹ بنانے میں خود ہی بن جاتی ہیں
طریقہ نمبر 1:
یہ طریقہ ان کے لئے ہے جن کے پاس گارڈن میں کچی زمین موجود ہے
اپنی ضرورت کے حساب سے زمین میں دو فٹ گہرا گڑھا کھود لیجئے اب سبزیوں کے چھلکے, ہرا چارہ, ہری گھاس ایک حصہ + خشک پتے, کاغذ یا گتے کے ٹکڑے, یا سبزیوں کے خشک چھلکے کا ایک حصہ + 6 مہینے پرانا گوبر بھی ایک حصہ لے لیں اگر نہ ہو تو تو تیار یا کچا کمپوسٹ استعمال کریں اگر یہ سب بھی نہ ہو تو ایک فٹ جگہ کے حساب سے ایک کپ یا آدھا گلاس دہی لے لیں ان سب چیزوں کو اچھی طرح مکس کر کے گڑھے کو چار انچ نیچے تک بھر دیں اور اوپر مٹی ڈال کر کوئی چھڑی وغیرہ اس پر لگا دیں اور نشان سا بنا لیں تاکہ آپ کو یہ جگہ بھول نہ جائے بس اب چار سے چھ مہینے انتظار کرنا ہے
طریقہ نمبر 2:
یہ طریقہ ان کے لئے ہے جن کے پاس زمین تو ہے پرکچی یا اضافی نہیں ہے کہ گڑھا خود سکیں
اپنی ضرورت کے مطابق جگہ کا انتخاب کریں اس پر سوکھے پتوں کی ایک تہہ لگا دیں جتنی موٹی تہہ ہو گئی اتنی موٹی اس کے اوپر کھیت یا گارڈن کی مٹی کی تہہ لگا دیں اس کے اوپر کچی سبزیوں کے چھلکے سبز گھاس یا چارے کی ایک تہہ لگا دیں پھر اس پر خشک پتوں کی تہہ لگا دیں پھر 6 ماہ پرانا گوبریا کچے یا پکے کمپوسٹ کی تہہ لگائیں اسی طرح جتنی اونچائی رکھنی ہو اس حساب سے ایسے ہی ڈھیر لگاتے جائیں بس آخر میں خشک پتوں کی تہہ لگا کر رکھ دیں تاکہ سایہ بنا رہے اب اسے ایک ہفتے یا دس دن کے لئے پانی لگا کر چھوڑ دیں ایک ہفتے بعد اسے کسی گارڈن ٹول کی مدد سے پلٹا لگوائیں اور دوبارہ پانی دے کر نم کر دیں ہر ہفتے دس دن بعد یہی کام کرتے رہیں تین سے چار مہینوں بعد کمپوسٹ بن جائے گی
طریقہ نمبر 3:
یہ طریقہ ان کے لئے ہے جو گھر کی چھت, بالکنی یا انڈور کم جگہ پر گارڈننگ کرتے ہیں
اس میں آپ کمپوسٹ بنانے کے لیے بڑا پلاسٹک ڈرم, ٹینکی, پینٹ کی بالٹی یا گملہ استعمال کر سکتے ہیں مثال کے طور پر ہم پینٹ کی بالٹی میں کمپوسٹ بنانا چاہتے ہیں تو اچھی طرح دھوکر بالٹی کے نیچے اور سائیڈوں پر ہر طرف ایکسٹرا پانی نکالنے اور ہوا کی کراسنگ کے لیے کافی سارے سوراخ بنالیں نیچے تقریبا دس سے بیس اور سائیڈوں پر بھی اتنے ہی بنائیں بالٹی کے نیچے ٹپ یا برتن بھی رکھیں تاکہ ایکسٹرا پانی ضائع نہ ہو اور جمع کیا جا سکے اب سب سے پہلے پتوں کی تہہ لگائیں اس کے بعد مٹی کی تہہ لگائیں پھر کچی سبزیوں کے چھلکے پھر خشک پتوں کے چھلکے اور پھر چھ مہینے پرانا گوبر (کچا یا پکا ہوا کمپوسٹ) یا ایک کپ دہی کو بکھیر کر دوبارہ ایسے ہی تہہ لگاتے جائیں آخر میں آپ نے ہلکی سی مٹی کی تہہ لگا کر اسے پانی دے دینا ہے اور اوپر پھر خشک پتوں کی تہہ لگا دینی ہے اب اسے ڈھکن سے بند کر دیں اور سائے میں رکھ دیں ایک ہفتے بعد ان ساری چیزوں کو کسی رمبے کی مدد سے اچھی طرح مکس کر لیں ہر ہفتے دس دن بعد اسے مکس ضرور کریں تاکہ بدبو بھی نہ پیدا ہو اور ہوا بھی اچھے سے لگتی رہے تقریبا ایک مہینے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کا کمپوسٹ بننا شروع ہو گیا ہے اور بلٹی میں خالی جگہ بننے لگی ہے تو اور سبزیوں کے چھلکے اس میں ڈال دیں اور اوپر خشک پتوں کی تہہ لگا دیں ایکسٹرا پانی جب نکل نکلے تو اسے دو تین دن بعد اسی کمپوسٹ والی بالٹی میں ڈال دیں تاکہ کمپوسٹ میں طاقت بنی رہے آپ چاہیں تو ایکسٹرا پانی کو کسی گملے کی مٹی میں بھی ڈال سکتے ہیں ایک کپ ایکسٹرا پانی ایک لیٹر سادہ پانی میں ملا کر گملے کی مٹی میں ڈال سکتے ہیں. تین سے چار مہینوں میں یہ کمپوسٹ بن جائے گا
احتیاط:
کمپوسٹ بناتے وقت بدبو اس لیے آتی ہے کہ ہم تہہ لگانے کے ٹائم کوئی تہہ کم یا زیادہ لگا دیتے ہیں
پانی زیادہ دینے سے بھی بد بو پیدا ہوتی ہے
اگر بدبو آنے لگے تو تھوڑے کاغذ یا گتے کے ٹکڑے یا خشک پتوں کی تہہ لگا دیں تاکہ بیلنس بن جائے
ٹائم ٹو ٹائم کمپوسٹ کو پلٹتے رہیں تو بھی بدبو نہیں بنتی
نوٹ:
کمپوسٹ بین میں یہ نہ ڈالیں
پکاہوا کھانا, تیل یا گھی, ڈیری کی چیزیں, کچا یا پکا ہوا گوشت, بیمار پودے
جب کمپوسٹ تیار ہو جائے تو اس کو چیک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ لگانے سے جو بھربھرا لگے اور باریک ہوجائے تو وہ کمپوسٹ تیار ہے آپ اسے ہلکا سا خشک کرکے بڑے سوراخ والی سبزی کی ٹوکری سے چھان بھی سکتے ہیں
ان طریقوں سے جو کمپوسٹ بنے گا اس میں نائٹروجن, فاسفورس, پوٹاشیم اور دیگر چھوٹی غذاؤں کی بھرپور مقدار شامل ہوگی اب ہم کیلشیم اور میگنیشیم کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تھوڑے ٹائم میں الگ سے کمپوسٹ بنانے کا طریقہ سیکھیں گے اس کو الگ رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں علم ہو کہ ہماری مٹی میں کھاد کی کیا مقدار شامل کرنی ہے
طریقہ نمبر 4 انڈے اور کیلے کے چھلکوں کی کھاد:
انڈے اور کیلے کے چھلکے دھوپ میں اچھی طرح سکھا لیں اب انہیں الگ الگ بریک پیس لیں تین چمچ انڈے کے پیسے ہوئے چھلکے اور تین چمچ کیلے کے پیسے ہوئے چھلکے کسی بھی پودے کی مٹی بناتے وقت اس میں اس میں ڈال دیں اسے مختلف پودوں پر استعمال کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے اس لئے یہ کھاد الگ بنا کر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے
طریقہ نمبر 5 لیکوئیڈ اورگینک کمپوسٹ:
اگر آپ کے پلانٹس پہلے سے ہی لگے ہوئے ہیں ہیں تو لیکوڈ کھاد جلدی اثر کرے گی آپ ان میں سے کسی قسم کی کھاد کو بھی لیکوڈ کھاد بنا سکتے ہیں کسی بھی قسم کے چھلکوں یا آرگینک کھاد کو ایک گلاس پانی میں تین سے پانچ دن کے لئے رکھ دیں اور پھر یہ پانی چھان کر اسی پانی میں ایک گلاس اور سادہ پانی ملائیں اور ہر پودے کو یہ مکس کیا ہوا ایک گلاس پانی ڈال دیں
اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ کچن گارڈننگ سیکھ پائیں چاہے آپ میرا نام مٹا کر ہی شیئر کر دیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے
فاروق منیر