24/04/2026
روضۂ رسول ﷺ کے حضور سلام کے بعد
جب اپنی اس ادنیٰ خدمت پر نظر پڑتی ہے تو دل ایسی کیفیت سے بھر جاتا ہے جسے لفظوں میں سمیٹنا ممکن نہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے گویا دنیا کی ہر نعمت اور ہر آرزو اس ایک نسبت کے سامنے ماند پڑ گئی ہو۔
اس سعادت کے تذکرے میں دل اپنے استاد محترم اُستاذ شفیق الزمان کو عقیدت سے یاد کرتا ہے،
جن کی سرپرستی، اعتماد اور رہنمائی نے اس ادنیٰ خدمت کو اس مقدس نسبت تک پہنچایا؛
اور استاد حافظ انجم محمود صاحب کو، جن کی بدولت اس فن میں قدم رکھنے کا آغاز نصیب ہوا۔
اپنے والدین کو، جن کی دعائیں اور تربیت اس سعادت کے سفر میں میرے لیے دائمی سہارا بنیں۔
اس سعادت کو تقریباً نو برس گزر چکے ہیں، اور دل میں یہی دعا رہتی ہے کہ یہ خدمت ہمیشہ قائم رہے،
نسل در نسل خیر و برکت کا وسیلہ بنتی رہے، اور اس نسبت کی خوشبو زمانوں تک باقی رہے۔
مر کے اپنی ہی اداؤں پہ اَمر ہو جاؤں
اُن کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں
اُن کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یارب
کہ سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں