15/01/2026
غزل
تھوڑا تھوڑا قرار واجب ہے
پیار میں انتظار واجب ہے
حسن کی بے مثال گلیوں میں
عشق کا کاروبار واجب ہے
لوٹ آیا ہے تیرا پردیسی
تجھ پہ سولہ سنگھار واجب ہے
پیڑ ہے یہ مری محبت کا
اس پہ آنا بہار واجب ہے
آپ دل میں سمائے ہیں میرے
آپ کا اعتبار واجب ہے
ہم چنے جا چکے محبت میں
ہم اٹھائیں یہ بار واجب ہے
جو تری آنکھ دیکھ لے عنبر
اس پہ چھانا خمار واجب ہے
فرحانہ عنبر