Farhana Ambar Poetry

Farhana Ambar Poetry welcome to "Farhana Ambar Poetry" , where words weave emotions and stories come alive.

غزلتھوڑا تھوڑا قرار واجب ہےپیار میں انتظار واجب ہےحسن کی بے مثال گلیوں میںعشق کا کاروبار واجب ہےلوٹ آیا ہے تیرا پردیسیتج...
15/01/2026

غزل
تھوڑا تھوڑا قرار واجب ہے
پیار میں انتظار واجب ہے

حسن کی بے مثال گلیوں میں
عشق کا کاروبار واجب ہے

لوٹ آیا ہے تیرا پردیسی
تجھ پہ سولہ سنگھار واجب ہے

پیڑ ہے یہ مری محبت کا
اس پہ آنا بہار واجب ہے

آپ دل میں سمائے ہیں میرے
آپ کا اعتبار واجب ہے

ہم چنے جا چکے محبت میں
ہم اٹھائیں یہ بار واجب ہے

جو تری آنکھ دیکھ لے عنبر
اس پہ چھانا خمار واجب ہے
فرحانہ عنبر

07/01/2026

غزل
اتنے دن بعد اک نیا مصرع
تو نے دیکھا تو پھر ہوا مصرع

لفظ ناراض جب ہوئے مجھ سے
تیری آنکھوں سے پھر بنا مصرع

خود ہی کہتے ہیں پر اٹھاتے نہیں
ہم کسی کا کہا ہوا مصرع

تیری آنکھیں سخن کے دروازے
تیرا چہرہ کھلا ہوا مصرع

کتنی مشکل سے ہاتھ آیا ہے
ایک باغی سا سر پھرا مصرع

ایک دوجے بنا ادھورے ہیں
میں ہوں پہلا وہ دوسرا مصرع

اس کے الفاظ ہیں امر عنبر
تو نے ہونٹوں سے جو چھوا مصرع
فرحانہ عنبر

غزلکون جاتا ہے سرِ دار کوئی تو ہو گااے وفا تیرا طلبگار کوئی تو ہو گابس یہی سوچ کے بازار نکل آئے ہیںغم کے ماروں کا خریدار...
06/01/2026

غزل
کون جاتا ہے سرِ دار کوئی تو ہو گا
اے وفا تیرا طلبگار کوئی تو ہو گا

بس یہی سوچ کے بازار نکل آئے ہیں
غم کے ماروں کا خریدار کوئی تو ہو گا

سوچ لینا مجھے بے کار سمجھنے والے
داستاں میں مرا کردار کوئی تو ہو گا

دل سے تعظیم کریں جس کی بلا خوف و خطر
ایسا اک صاحبِ دستار کوئی تو ہو گا

صبر سے کام لے اے قلبِ حزیں فکر نہ کر
اس جہاں میں ترا غمخوار کوئی تو ہو گا

جو بھی آتا ہے گرانے کی اسے سوچتا ہے
ہائے اس قوم کا معمار کوئی تو ہو گا

تیر لگتے ہی یہ اندازہ ہوا تھا عنبر
میرا اپنا پسِ دیوار کوئی تو ہو گا
فرحانہ عنبر

غزلدل میں پلتے ہوں جب شکوک سنوہو ہی جاتی ہے بھول چوک سنودل کے وحشت زدہ علاقے میںاٹھتی رہتی ہے ایک ہوک سنوعزتِ نفس مار دی...
21/11/2025

غزل
دل میں پلتے ہوں جب شکوک سنو
ہو ہی جاتی ہے بھول چوک سنو

دل کے وحشت زدہ علاقے میں
اٹھتی رہتی ہے ایک ہوک سنو

عزتِ نفس مار دیتی ہے
کتنی سفاک ہے یہ بھوک سنو

آ گرے گا خود اپنے دامن پر
چاند پر پھینکنا نہ تھوک سنو

کون اپنوں کے ساتھ کرتا ہے
جو کیا تم نے ہے سلوک سنو

پیار میں دھڑکنیں یوں لگتی ہیں
جیسے کوئل کی میٹھی کوک سنو

تم فرائض نہ چھوڑنا عنبر
اور لینا سبھی حقوق سنو
فرحانہ عنبر

13/11/2025

غزل
ایک ٹوٹے خواب کی تعبیر سے
لڑ رہے ہیں سب یہاں تقدیر سے

کتنا روشن کتنا پیارا ہو گیا
میرا کمرہ آپ کی تصویر سے

کیسے چھوڑے گا وہ اب زندان کو
پیار جس کو ہو گیا زنجیر سے

صبر میرے دل کو اب تو آ گیا
آپ آئے ہیں بڑی تاخیر سے

پھر پلٹ کر کس نے دیکھا باپ کو
جن کو حصہ مل گیا جاگیر سے

لفظ میرے چاند تارے بن گئے
روشنی پھوٹی مری تحریر سے

آؤ مل کر بات کر لیتے ہیں ہم
فیصلہ کیونکر کریں شمشیر سے

آ ہی جاتی ہے مرے اشعار میں
ایک نسبت ہے جو عنبر میر سے

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Zafar Iqbal Anwar, Abdul Rahim Abd Kumbhar, Ali Jafar, Ka...
12/11/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Zafar Iqbal Anwar, Abdul Rahim Abd Kumbhar, Ali Jafar, Karam Mohammad, Shakir Hussain, Babo Bhai Chhipa, Viqar Hussain, Jam Raiz, Tariq Mir, Sala Huddin, Wasif Khan

Address

Gujranwala
Gujranwala
52200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Farhana Ambar Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share