09/05/2026
فیض سواتی صاحب،
آپ کی فیس بک پوسٹ نظر سے گزری جس میں آپ نے کرین پارٹی کو حقائق سے ہٹ کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ممکن ہے کہ آپ حالاتِ حاضرہ سے مکمل طور پر آگاہ نہ ہوں، اسی لیے چند گزارشات بطورِ تصحیح پیشِ خدمت ہیں تاکہ آپ جیسا صحافی اپنا تجزیہ محض قیاس آرائی کے بجائے حقائق کی بنیاد پر کرے۔
آپ نے لکھا کہ ابھی تک پارٹی میں سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ سربراہِ کرین پارٹی کہاں ہیں۔ اس حوالے سے رہنمائی کے لیے درج ذیل لنکس ملاحظہ فرمائیں:
https://x.com/i/status/2011153319805534404
https://x.com/i/status/2010298979872133176
جہاں تک احتجاج کی بات ہے تو حقیقت یہ ہے کہ کارکنان اور ذمہ داران کی ایک بڑی تعداد گرفتار ہے، کئی زخمی ہیں، متعدد لاپتہ ہیں اور نہ جانے کتنے شہید کیے جا چکے ہیں۔
آپ نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی گرفتاری پر کرین پارٹی نے اسے مکافاتِ عمل قرار دے کر طنز کیا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سربراہِ کرین پارٹی نے ہمیشہ ہر غیر قانونی، غیر آئینی گرفتاری اور ہر قسم کے ظلم کی سخت مذمت کی ہے۔
جب عمران خان کی جماعت کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا تو سب سے پہلے مذمت کرنے والے SHR تھے۔ ان کا وہ جملہ آج بھی یاد رکھا جاتا ہے:
“تیری میری کی ہوندی اے جھلیا، تہی تہ تہی ہوندی اے”
حالانکہ اپنے دورِ حکومت میں خان صاحب کی جانب سے کئی مرتبہ SHR کے گھر کے تقدس کو پامال کیا گیا۔
جب تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کی بات ہوئی تو SHR نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان میں ہر شخص کو اپنی سیاسی جماعت بنانے اور اس کے لیے ووٹ مانگنے کا حق حاصل ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اپنے دور میں خان صاحب نے SHR کی جماعت پر پابندی عائد کی تھی۔
اسی طرح جب عمران خان کی قید کے دوران اسلام آباد میں علی امین کے احتجاج پر تحریکِ انصاف کے کارکنان پر گولیاں چلائی گئیں تو سب سے پہلے سخت مذمت کرنے والے بھی SHR تھے۔
ان تمام باتوں کے شواہد درج ذیل ہیں:
https://youtube.com/shorts/tckqw_HsbX0?si=SZDNjdkypPm-DlVK
https://youtu.be/S0DyGD1j9Hw?si=x4WEaQ24N6CdqYjs
https://youtu.be/py7STlztfj4?si=rHUgIHIv-_MDUZY0
https://x.com/i/status/1862836159833113001
آپ نے intellectual dishonesty کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تحریکِ انصاف کا کارکن قربانی دے رہا ہے جبکہ کرین پارٹی کا کارکن بھاگ رہا ہے۔ یہ موازنہ ہی بنیادی طور پر غلط ہے۔
ایک طرف وہ جماعت ہے جسے گزشتہ دس برس سے زائد عرصے سے ایک صوبے میں حکومت حاصل رہی، جس کے نمائندے آج بھی ایوانِ بالا و زیریں میں موجود ہیں، جسے مکمل میڈیا کوریج، اوورسیز فنڈنگ، امریکہ میں لابنگ اور غیر ملکی میڈیا و حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری طرف وہ جماعت ہے جو خالصتاً پاکستانی عوام کی نمائندہ ہے، جس کے کارکنان اور عہدیداران اپنے ہاتھ کی کمائی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود سانحۂ مریدکے کے بعد کئی کارکنان جیلوں میں شہید کیے گئے، کئی زخمی ہوئے، متعدد آج بھی گرفتار اور لاپتہ ہیں، اور کچھ کی سات ماہ بعد ضمانتیں منظور ہو رہی ہیں۔
مرکز رحمت اللعالمین سیل ہے، وہاں پھول نچھاور کرنے پر بھی پرچے درج ہو جاتے ہیں۔ کئی ذمہ داران کے گھروں کو مسمار کیا گیا، کئی کے کاروبار تباہ کیے گئے، مگر اس سب کے باوجود وہ آج بھی لبیک کی صدا بلند کیے ہوئے ہیں۔
اگر یقین نہ آئے تو ذرا جیلوں اور کچہریوں کا رخ کیجیے، حقیقت خود آشکار ہو جائے گی۔
آپ نے مزید کہا کہ کرین پارٹی کا کارکن سوشل میڈیا پر تلاش کرنے سے بھی نہیں مل رہا۔ یہ بھی سراسر خلافِ حقیقت ہے۔ سانحۂ مریدکے سے لے کر آج تک متعدد ٹاپ ٹرینڈز کارکنان نے چلائے۔ ابھی دو روز قبل جب “مائنس SHR” کی خبر گردش میں آئی تو کارکنان نے بھرپور آواز بلند کی اور ٹرینڈ ٹاپ پر رہا، جسے دنیا نیوز نے اپنی ڈاکومنٹری میں بھی شامل کیا۔
حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
https://youtu.be/K6vs_weuCv4?si=YskI7TcfFxDkKbIC
https://vt.tiktok.com/ZS9qtxcvH/
ہم حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہی سمجھتے ہیں کہ آپ کی یہ تحریر حقائق سے لاعلمی کی بنیاد پر لکھی گئی، نہ کہ حالیہ ٹرینڈز کے بعد متحرک ہونے والے حکومتی بیانیے کے زیرِ اثر۔
امید ہے کہ آپ اپنی صحافتی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حقائق کا ازسرِنو جائزہ لیں گے اور رجوع فرمائیں گے۔
جزاک اللہ خیرا