Dil je Awaz دل جي آواز

Dil je Awaz  دل جي آواز status Pakistani drama scene

دانش تیمور❤️🔥اس بات میں کوئ شک نہیں کہ دانش تیمور اس وقت پاکستان کا کامیاب ترین اداکار بن چکا ہےلیکن جن لوگوں کو دانش تی...
08/07/2025

دانش تیمور❤️🔥

اس بات میں کوئ شک نہیں کہ دانش تیمور اس وقت پاکستان کا کامیاب ترین اداکار بن چکا ہے
لیکن جن لوگوں کو دانش تیمور پسند نہیں ان کو ایسا لگتا ہے کہ دانش تیمور نے فیروز خان کی جگہ لی ہے لیکن اس بات میں ذرا بھی حقیقت نہیں ہے اور نہ کوئ کسی کی جگہ لے سکتا ہے دانش تیمور نے اپنا یہ مقام اپنی سالوں کی محنت سے بنایا ہے لیکن خاص کر فیروز کے فینز کو ایسا لگتا ہے کہ دانش تیمور نے فیروز کی نقل کرکے یہ جگہ بنائ ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئ کسی کی نقل کرکے اس سے زیادہ کامیاب ہوسکتا ہے؟ بالکل بھی نہیں
کچھ لوگوں کا یہ سوال ہے کہ دانش تیمور نے 2005 سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا لیکن 2020 تک اس کا کوئ ڈرامہ بلاک بسٹر کیوں نہیں ہوا؟
تو ان کو میرا یہ جواب ہے کہ جب دانش تیمور کے ڈرامے چل رہے تھے تب تو سوشل میڈیا کا دور ہی نہیں تھا اور نہ ہی پاکستانی ڈرامے اتنے مقبول تھے جتنے اس وقت ہیں
اس وقت دانش تیمور کے کیریئر کی محنت چل رہی تھی لیکن راجُو راکٹ، ساری بھُول ہماری تھی، رہائ، گھائل، لڑکیاں محلے کی، جب وی ویڈز، چودہویں کا چاند وغیرہ اس وقت کے بہترین ڈرامے تھے
اور محنت کرکے مقام بنانا کیا ہوتا ہے یہ تو کوئ دانش، عائزہ، سجل، ماورا جیسے اداکاروں سے پوچھے جنہوں نے سائیڈ رول کیے، سوپ سیریلز کیے، کامیڈی سیریلز کیے، کامیڈی فلمز کی، ٹیلی فلمز کی سالوں محنت کی پھر کہیں جاکر انڈسٹری میں اپنا نام بنایا
رہی بات دانش تیمور کی فلمز کی تو وہ کوئ بلاک بسٹر تو نہیں تھی لیکن ان کو فلاپ بھی نہیں کہا جاسکتا اس وقت کے لحاظ سے ٹھیک ٹھاک تھی اور جس وقت فیروز کا خانی ڈرامہ چل رہا تھا تب دانش بڑی سکرین پر کام کر رہا تھا اور اگر وہ فلمز اس وقت آتی تو تباہی مچا دینی تھی ان فلمز نے
فیروز کو خانی ڈرامے سے شہرت ملی ٹھیک ہے اس کی محنت تھی لیکن دانش نے فیروز سے زیادہ محنت کرکے اپنا یہ نام بنایا ہے پھر فیروز کی نقل کا الزام کیوں؟
فلمز کے بعد جب دانش نے ڈراموں میں کم بیک کیا تو اس وقت دانش کے تین ڈرامے آۓ ہارا دل، روبرو عشق تھا، اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے
روبرو عشق تھا فلاپ ہوا لیکن ہارا دل اے پلس کا ایک بہترین اور سُپرہٹ ڈرامہ تھا اور اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے کی تو بات ہی الگ ہے وہ تو جنہوں نے دیکھا وہی جانتے ہیں کہ کیا ڈرامہ تھا وہ اور اس کی ٹی آر پی بھی 14.1 تک گئ تو پھر وہ کس اینگل سے فلاپ ہوا؟
اس کے ب

These 4 dramas of   grabbed huge views on YouTube, despite the continuous negative talk by critics. This defines that ST...
11/04/2025

These 4 dramas of grabbed huge views on YouTube, despite the continuous negative talk by critics. This defines that STARDOM is above all, and fans are the star makers.
His screen presence alone can give any makers a high number of views 💯

Everything is "FILHAAL" But Danish Bhai Ka Hospital Mein Hona Is Permanent😂  BBabir Ali
19/03/2025

Everything is "FILHAAL" But Danish Bhai Ka Hospital Mein Hona Is Permanent😂



BBabir Ali

09/03/2025

Manzoor Sakhirani

مدھو بالا "اُن کی جلد اتنی شفاف تھی کہ اگر وہ پان کھاتیں تو آپ دیکھ سکتے تھے کہ اُن کے گلے سے سرخ رنگ کیسے نیچے اُترتا ہ...
27/02/2025

مدھو بالا
"اُن کی جلد اتنی شفاف تھی کہ اگر وہ پان کھاتیں تو آپ دیکھ سکتے تھے کہ اُن کے گلے سے سرخ رنگ کیسے نیچے اُترتا ہے۔"
صوابی سے تعلق رکھنے والی بالی ووڈ اداکارہ مدھوبالا حسن کو فلمی دنیا میں "ملکہ" کا خطاب دیا جاتا تھا۔ اپنے زمانے کی معروف اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کی بے مثال خوبصورتی کا بھی لوہا منوایا گیا۔ دیوانند مدھوبالا کی کھنکتی ہنسی کے پیروکار تھے۔ فلم میگزین "سٹار اینڈ اسٹائل" کے سابق ایڈیٹر گلشن ایونگ کا کہنا تھا کہ "ان میں کوئی کجی نہیں تھی؛ وہ ایک بچے جیسا دل اور سادگی رکھتی تھیں۔"

مینو ممتاز بیان کرتی تھیں کہ "اُن کی جلد اتنی شفاف تھی کہ اگر وہ پان کھاتیں تو آپ دیکھ سکتے تھے کہ اُن کے گلے سے سرخ رنگ کیسے نیچے اُترتا ہے۔"

مدھوبالا کو بچپن سے ہی دل کی بیماری لاحق تھی؛ اُن کے دل میں سوراخ تھا اور اُس وقت اس بیماری کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں تھا۔ بیماری کے باوجود، انہوں نے فلم "مغل اعظم" کی شوٹنگ مکمل کی۔

فلم "انڈیا" کے ایڈیٹر بابو راؤ پٹیل نے کہا کہ "مدھوبالا انڈین فلم انڈسٹری کی سب سے باصلاحیت، ورسٹائل اور خوبصورت اداکارہ تھیں۔"

ان کو انڈین فلم انڈسٹری کی "وینس" یعنی حسن کی دیوی بھی کہا جاتا تھا۔ اپنے زمانے کی مشہور اداکارہ بیگم پارا کہتی تھیں کہ "کبھی کبھی میں مدھوبالا کی ایک جھلک اُس وقت دیکھ لیتی تھی جب وہ صبح چہل قدمی کے لیے جاتی تھیں؛ اُن کے چہرے پر پھیلتی مسکراہٹ آپ کا دن خوبصورت بنا دیتی تھی۔"

اداکارہ نروپا رائے کا خیال تھا کہ مدھوبالا کا جسم، سر سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک، مکمل طور پر پرفیکٹ تھا؛ ان میں کوئی کمی یا کسر موجود نہیں تھی۔ (بی بی سی اردو کے آرٹیکل سے ماخوذ) ,,,,,___________

مشہور ہندوستانی اداکار دلیپ کمار کا ، پشاور شہر میں آبائی گھر ہے۔ دلیپ کمار 11 دسمبر 1922 کو برطانوی ہندوستان(اب پاکستان...
24/02/2025

مشہور ہندوستانی اداکار دلیپ کمار کا ، پشاور شہر میں آبائی گھر ہے۔
دلیپ کمار 11 دسمبر 1922 کو برطانوی ہندوستان(اب پاکستان میں) پشاور میں محمد یوسف خان کی حیثیت سے پیدا ہوئے تھے۔ وہ ہندکو بولنے والے پشاوری خاندان میں پیدا ہوئے (ویکیپیڈیا)
💠

محمد یوسف خان پشاور میں پیدا ہوئے ،
دلیپ کمار ان کا فلمی نام بن گیا یہ مشہور ہندوستانی اداکار ، مصنف ، ڈائریکٹر ، اور فلم پروڈیوسر تھے۔ جنہوں نے 1950 کی دہائی سے 1960 کی دہائی تک ہندی سنیما پر غلبہ حاصل کرلیا تھا۔
"المیہ کنگ" اور "ابینی ثمرت"
(ایکٹنگ کا شہنشاہ) کے نام سے جانا جاتا ہے ، دلیپ کمار کے کیریئر نے پانچ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ طے کیا ، اس کا کریڈٹ 57 فلموں کے ساتھ ہے۔

دلیپ کمار اپنے بارہ بہن بھائیوں میں سب سے کم عمر تھا۔ انہوں نے اپنے اداکاری کے کیریئر کا آغاز 1944 میں بمبئی ٹاکیز کے ذریعہ تیار کردہ فلم "جوار بھاٹا" سے کیا۔ ان کی فلمی زندگی کا آغاز 1947 میں فلم "جگنو" کے ساتھ ہوا ، اس کے بعد دلیپ کمار نے 1949 میں سپر ہٹ فلم "آنداز" میں اپنے فن کے جوہر دکھائے ، جس نے انہیں ہندی سنیما میں ایک سرکردہ اداکار کے طور پر مان لیا گیا کہ انکا کوئی مدمقابل نہیں۔

1950 اور 1960 کی دہائی دلیپ کمار کی سب سے کامیاب دہائیاں تھیں ، جن میں ، داغ ، دیوداس ، نیا دور ، مغل اعظم ، اور گنگا جمنا جیسی مشہور فلمیں وغیرہ تھیں۔ ان کی بہترین پرفارمنس نے ان کو متعدد ایوارڈز سے نوازا ، جن میں بیسٹ اداکار کے لیئے
اٹھ فلم فیئر ایوارڈ بھی شامل ہیں ، یہ ایک ریکارڈ ہے۔

دلیپ کمار کی ذاتی زندگی کو اداکارہ مدھوبالا کے ساتھ ایک رومانس نے نشان زد کیا ، جو عدالتی مقدمے کی وجہ سے ختم ہوا۔ بعد میں انہوں نے 1966 میں اداکارہ سائرا بانو سے شادی کر لی۔
دلیپ کمار 2000 سے 2006 تک ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن بھی رھے ۔ ان کا انتقال 7 جولائی 2021 کو ہوا ، اور انہوں نے ہندوستان کے سب سے بڑے اداکار کی حیثیت سے میراث کو پیچھے چھوڑ دیا۔ .

ہندوستانی سنیما میں دلیپ کمار کی شراکت کو متعدد ایوارڈز کے ساتھ پہچانا گیا ہے ، جن میں پدما بھوشن ، پدما وبھوشن ، اور داداصاحب پھلکے ایوارڈ شامل ہیں۔ وہ ہندوستانی سنیما میں ایک مشہور شخصیت رہے ہیں ، جو اداکاروں اور فلم بینوں کی متاثر کن رہے ہیں۔

اپنے آبائی گھر کو دیکھنے کی بہت خواہش تھی تو یوسف خان/دلیپ ک

سینما کا دلکش آئیکون۔۔۔۔راج کمارراج کمار، جو 1926 میں راج بیدی کے نام سے پیدا ہوئے، بالی ووڈ کے سنہری دور کے سب سے دلکش ...
10/02/2025

سینما کا دلکش آئیکون۔۔۔۔راج کمار
راج کمار، جو 1926 میں راج بیدی کے نام سے پیدا ہوئے، بالی ووڈ کے سنہری دور کے سب سے دلکش اداکاروں میں سے ایک تھے۔ اپنی شاہانہ شخصیت، گہری آواز اور منفرد انداز کی بدولت وہ اپنے وقت کے سب سے مطلوبہ اداکاروں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان کی اداکاری کو شدت اور وقار کا حامل سمجھا جاتا تھا، اور انہوں نے کئی کلاسک فلموں میں یادگار کردار ادا کیے، جن میں شامل ہیں:

مدر انڈیا (1957)
وقت (1965)
راج کمار اسکرین پر کم گو تھے، لیکن ان کا ڈائیلاگ ڈلیوری اسٹائل ان کی پہچان بن گیا۔ ان کے مکالمے گہرا اثر چھوڑتے، اور ان کی اداکاری، چاہے وہ ڈرامہ ہو یا رومانس، ان کی ہمہ جہتی صلاحیت کو نمایاں کرتی تھی۔
اگرچہ راج کمار نے نسبتاً دیر سے فلمی دنیا میں قدم رکھا، لیکن ان کا اثر ہمیشہ قائم رہا۔ انہوں نے فلموں میں آنے سے پہلے مختلف چھوٹے موٹے کام کیے، جس کی وجہ سے ان کے کردار کے گرد پراسراریت قائم رہی۔ وہ اپنے ہم عصر اداکاروں کی طرح روایتی فلمی ہیرو کے دائرے میں نہیں آئے۔ ان کا منفرد طرز اداکاری اور شرمیلا مزاج انہیں دوسروں سے ممتاز بناتا تھا۔
اداکاری کے علاوہ، راج کمار اپنے بے عیب فیشن سینس کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ اکثر نفیس سوٹ زیب تن کرتے، جو ان کی شاہانہ شخصیت کو مزید نمایاں کرتا تھا۔
اگرچہ ان کی فلموں کی تعداد بعض دوسرے اداکاروں کے مقابلے میں کم تھی، لیکن ان کی اداکاری کا معیار ہمیشہ مثالی سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے متعدد ایوارڈز جیتے، جن میں فلم فیئر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ بھی شامل ہے، اور سینما میں ان کی خدمات آج بھی سراہی جاتی ہیں۔
1996 میں ان کی وفات کے باوجود، راج کمار کی وراثت آج بھی زندہ ہے۔ ان کی فلمیں آج بھی وقار، نفاست، اور جذباتی گہرائی کی مثال سمجھی جاتی ہیں، اور وہ ہمیشہ کے لیے بھارتی فلمی صنعت کے ایک آئیکون کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

  was busy in creating Buzz for  , Meanwhile   smartly release the first official teaser of   & took the benefit of buzz...
08/02/2025

was busy in creating Buzz for , Meanwhile smartly release the first official teaser of & took the benefit of buzz & steal the limelight 🤭
A very smart & fast move by 💥

Address

Larkana

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dil je Awaz دل جي آواز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share