CM Supar Store

CM Supar Store Get your all household items on wholesale price at the comfort of your home

❤️💯🌹
07/06/2026

❤️💯🌹

07/06/2026

We are a marketing agency..
Looking for professionals marketing perosnals
Send your resume in my inbox

‏طنزو مزاح اور غزلوں کے معیاری شاعر ساغر خیامی صاحب کا یوم ولادت 7 جون...ساغر خیامی کا شمار طنزومزاح کے ممتاز ترین شاعرو...
07/06/2026

‏طنزو مزاح اور غزلوں کے معیاری شاعر ساغر خیامی صاحب کا یوم ولادت 7 جون...

ساغر خیامی کا شمار طنزومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کی پیدائش ۷ جون ۱۹۴۶ کو لکھنؤ کے ایک علمی اور تہذیبی گھرانے میں ہوئی ۔ پرانے لکھنؤ کا یہ گھرانہ اپنی تہذیبی پاسداریوں اور اپنی ادبی اور عملی سرگرمیوں کے لئے معروف تھا ۔ ساغر خیامی کے دادا ان کے والد اور ان کے بھائی سب شاعری کرتے تھے ۔ ساغر نے ابتدا میں غزل کی روایتی قسم کی شاعری کی لیکن اپنے بھائی ناظر خیامی (جو طنز ومزاح کے ایک اچھے شاعر تھے) کے اثر سے طنز ومزاح کی شاعری کی طرف آگئے ۔
ساغر کی ابتدائی تعلیم عربی و فارسی سے ہوئی اس کے بعد انہوں نے انگریزی کی تعلیم حاصل کی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے سے وابستہ ہوگئے ۔
ساغر کے شعری مجموعے ’انڈر کریز‘ اور ’پس روشنی‘ ’ قہقہوں کی بارات ‘ ’ کچھ وہاں کیلئے‘ بہت مقبول ہوئے ۔ ساغر کی نظموں میں طنز ومزاح دنوں ایک ساتھ گھل مل گئے ہیں ان کی نظموں میں ایسی صورتحال بنتی ہے کہ پڑھنے اور سننے والا ہنستے ہنستے اداس ہونے لگتا ہے اور اپنے آس کی بظاہر سہی سالم نظر آنے والی دنیا کو ایک بہت بدلی ہوئی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے ۔ ساغر ہمارے اس مہذب معاشرے کی منافقتوں کو بہت چالاکی سے طنز کا نشانہ بناتے ہیں ۔ غالب کو مرکز میں رکھ کر کہی گئیں ساغر کی نظمیں بہت مقبول ہوئیں ۔’ غالب اپارٹمینٹ ‘ ’ غالب دلی میں ‘ آج بھی بہت دلچسپی سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں ۔ ساغر مشاعروں میں بھی اپنی ہی ایک لے میں کلام پڑھتے تھے ۔ ۱۹ جون ۲۰۰۸ کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا ۔

*آم تیری یہ خوش نصیبی ہے*
*ورنہ لنگڑوں پہ کون مرتا ہے*

*جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہے*
*کتنا رنگین محبت ترا افسانہ ہے*

کتنے چہرے لگے ہیں چہروں پر
کیا حقیقت ہے اور سیاست کیا

*مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سے*
*دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے*

اس وقت مجھ کو دعوت جام و سبو ملی
جس وقت میں گناہ کے قابل نہیں رہا

*کون کہتا ہے بلندی پہ نہیں ہوں ساگرؔ*
*میری معراج محبت مری رسوائی ہے*

میں کہیں اور دل لگا لوں گا
مت کرو عشق اس میں حجت کی

*دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاں*
*کتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے*

ایک محشر سے نہیں کم ترا آنا لیکن
اک قیامت ترا پہلو سے چلا جانا ہے

*اس وقت مجھ کو دعوت جام و سبو ملی*
*جس وقت میں گناہ کے قابل نہیں رہا*

میری تقدیر ہے پوشیدہ جبیں میں جیسے
خواب بھی رہتا ہے در پردۂ تعبیر مرا

*ہزار خار ہیں دامن کو تھامنے والے*
*ہمارے ہاتھ سے آنچل جو تم چھڑا کے چلے*

‏میں نے اکثر سیر و تفریح کی جگہوں پر ایسے دوست دیکھے ہیں، جو واسطے، دوستی، مذاق یا ضد میں خطرناک جھولوں پر زبردستی بٹھا ...
07/06/2026

‏میں نے اکثر سیر و تفریح کی جگہوں پر ایسے دوست دیکھے ہیں، جو واسطے، دوستی، مذاق یا ضد میں خطرناک جھولوں پر زبردستی بٹھا دیتے ہیں۔
حالانکہ ہر انسان کا خوف (فوبیا) ایک جیسا نہیں ہوتا۔

کوئی اونچائی سے ڈرتا ہے، کوئی تیز رفتاری سے، کوئی پانی سے، کوئی بند جگہ سے، کوئی زور دار آواز سے گھبرا جاتا ہے۔ خوف ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتا، بعض اوقات یہ جسم اور ذہن کا فطری ردِعمل ہوتا ہے۔

ہر شخص کو اپنے جیسا بہادر سمجھ لینا عقلمندی نہیں۔
کسی کو زبردستی ایسے جھولے یا خطرناک سرگرمی میں شامل کرنا، جو اس کے دل و دماغ پر بوجھ بن جائے، کبھی کبھی ہنسی مذاق سے نکل کر سانحہ بھی بن سکتا ہے۔

آج ایک ویڈیو دیکھ کر دل افسردہ ہوا، جہاں ایک نوجوان خطرناک جھولے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
خدارا! کسی کے خوف کا مذاق نہ بنائیں، اور نہ ہی دوستی کے نام پر کسی کو ایسی چیز پر مجبور کریں جو اُس کی برداشت سے باہر ہو۔

تفریح خوبصورت چیز ہے، مگر احتیاط اور رضامندی اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
میں نے اکثر سیر و تفریح کی جگہوں پر ایسے دوست دیکھے ہیں، جو واسطے، دوستی، مذاق یا ضد میں خطرناک جھولوں پر زبردستی بٹھا دیتے ہیں۔

07/06/2026

Address

Okara Punjab
Okara
56300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CM Supar Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share