07/06/2026
طنزو مزاح اور غزلوں کے معیاری شاعر ساغر خیامی صاحب کا یوم ولادت 7 جون...
ساغر خیامی کا شمار طنزومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کی پیدائش ۷ جون ۱۹۴۶ کو لکھنؤ کے ایک علمی اور تہذیبی گھرانے میں ہوئی ۔ پرانے لکھنؤ کا یہ گھرانہ اپنی تہذیبی پاسداریوں اور اپنی ادبی اور عملی سرگرمیوں کے لئے معروف تھا ۔ ساغر خیامی کے دادا ان کے والد اور ان کے بھائی سب شاعری کرتے تھے ۔ ساغر نے ابتدا میں غزل کی روایتی قسم کی شاعری کی لیکن اپنے بھائی ناظر خیامی (جو طنز ومزاح کے ایک اچھے شاعر تھے) کے اثر سے طنز ومزاح کی شاعری کی طرف آگئے ۔
ساغر کی ابتدائی تعلیم عربی و فارسی سے ہوئی اس کے بعد انہوں نے انگریزی کی تعلیم حاصل کی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے سے وابستہ ہوگئے ۔
ساغر کے شعری مجموعے ’انڈر کریز‘ اور ’پس روشنی‘ ’ قہقہوں کی بارات ‘ ’ کچھ وہاں کیلئے‘ بہت مقبول ہوئے ۔ ساغر کی نظموں میں طنز ومزاح دنوں ایک ساتھ گھل مل گئے ہیں ان کی نظموں میں ایسی صورتحال بنتی ہے کہ پڑھنے اور سننے والا ہنستے ہنستے اداس ہونے لگتا ہے اور اپنے آس کی بظاہر سہی سالم نظر آنے والی دنیا کو ایک بہت بدلی ہوئی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے ۔ ساغر ہمارے اس مہذب معاشرے کی منافقتوں کو بہت چالاکی سے طنز کا نشانہ بناتے ہیں ۔ غالب کو مرکز میں رکھ کر کہی گئیں ساغر کی نظمیں بہت مقبول ہوئیں ۔’ غالب اپارٹمینٹ ‘ ’ غالب دلی میں ‘ آج بھی بہت دلچسپی سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں ۔ ساغر مشاعروں میں بھی اپنی ہی ایک لے میں کلام پڑھتے تھے ۔ ۱۹ جون ۲۰۰۸ کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا ۔
*آم تیری یہ خوش نصیبی ہے*
*ورنہ لنگڑوں پہ کون مرتا ہے*
*جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہے*
*کتنا رنگین محبت ترا افسانہ ہے*
کتنے چہرے لگے ہیں چہروں پر
کیا حقیقت ہے اور سیاست کیا
*مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سے*
*دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے*
اس وقت مجھ کو دعوت جام و سبو ملی
جس وقت میں گناہ کے قابل نہیں رہا
*کون کہتا ہے بلندی پہ نہیں ہوں ساگرؔ*
*میری معراج محبت مری رسوائی ہے*
میں کہیں اور دل لگا لوں گا
مت کرو عشق اس میں حجت کی
*دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاں*
*کتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے*
ایک محشر سے نہیں کم ترا آنا لیکن
اک قیامت ترا پہلو سے چلا جانا ہے
*اس وقت مجھ کو دعوت جام و سبو ملی*
*جس وقت میں گناہ کے قابل نہیں رہا*
میری تقدیر ہے پوشیدہ جبیں میں جیسے
خواب بھی رہتا ہے در پردۂ تعبیر مرا
*ہزار خار ہیں دامن کو تھامنے والے*
*ہمارے ہاتھ سے آنچل جو تم چھڑا کے چلے*