Lala's Kitchen

Lala's Kitchen We share easy, delicious, and mouthwatering recipes for food lovers of all kinds – from quick snacks to full-course meals.

Follow us for daily cooking inspiration, tips, and the love of good food! ���

کیا پشتو کی یہ کہاوت درست ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ کس قسم کی سوچ ہے بھئ؟
21/08/2026

کیا پشتو کی یہ کہاوت درست ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ کس قسم کی سوچ ہے بھئ؟

20/08/2026

لاہور کے علاقے چوہنگ میں صبح سویرے گولیوں کی آواز نے ایک گھر کے کئی چراغ بجھا دیے۔ ایک نوجوان اپنی بیوی کو رخصت کرانے سسرال پہنچا، انکار اور مزاحمت کے بعد فائرنگ ہوئی اور چند لمحوں میں چار افراد جان سے گئے۔ فائرنگ کرنے والے شخص نے بھی خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

لاہور کے علاقے چوہنگ کی برکت کالونی میں پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک خاندانی تنازع نہیں بلکہ اس سوال کو بھی دوبارہ سامنے لے آیا ہے کہ جب رشتوں میں اختلاف شدت اختیار کر جائے تو غصہ کس طرح چند لمحوں میں ایک پورے خاندان کو اجاڑ سکتا ہے۔

واقعہ گزشتہ روز صبح تقریباً چھ بجے پیش آیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم عمران شوکت علی الصبح اپنی سسرال پہنچا۔ اس کی شادی سمعیہ بی بی سے تقریباً چھ ماہ قبل ہوئی تھی، تاہم شادی کے باوجود سمعیہ اپنے والدین کے گھر ہی رہ رہی تھی اور شوہر کے ساتھ جانے پر آمادہ نہیں تھی۔

صبح کے وقت گھر میں ہونے والی گفتگو کب تلخی میں بدلی، یہ معاملہ تحقیقات کا حصہ ہے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق سمعیہ کے انکار اور اس کے والد اور بھائی کی جانب سے مزاحمت کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی۔

الزام ہے کہ عمران شوکت نے رائفل سے فائرنگ کردی۔

چند ہی لمحوں میں گھر میں قیامت برپا ہوگئی۔

فائرنگ کی زد میں آکر سمعیہ بی بی، ان کے والد علی خان، بھائی ذیشان اور ایک خاتون شمائلہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

چار زندگیاں ختم ہوچکی تھیں۔

لیکن فائرنگ کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔

واقعے کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر خود کو بھی گولی مار لی اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

یوں ایک ایسے رشتے کا تنازع، جو چھ ماہ قبل شادی سے شروع ہوا تھا، چند لمحوں میں پانچ انسانی جانوں کے ضیاع پر ختم ہوگیا۔

سوال صرف یہ نہیں کہ فائرنگ کیوں ہوئی

اس واقعے کی اصل وجوہات اور فائرنگ سے پہلے ہونے والی گفتگو کی تفصیلات تفتیش کے ذریعے ہی واضح ہوسکیں گی۔

تاہم واقعہ ایک تلخ حقیقت ضرور سامنے لاتا ہے کہ ازدواجی تنازعات جب بات چیت، خاندانوں کی مداخلت یا قانونی راستوں کے بجائے طاقت اور تشدد کی طرف چلے جائیں تو نتیجہ ناقابلِ تلافی ہوسکتا ہے۔

ایک طرف ایک خاتون تھی جو شادی کے چھ ماہ بعد بھی اپنے والدین کے گھر موجود تھی، دوسری طرف شوہر تھا جو اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ دونوں کے درمیان اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی بھی اختلاف کو جان لینے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔

رشتوں میں اختلاف ہوسکتا ہے، علیحدگی ہوسکتی ہے، قانونی تنازع ہوسکتا ہے، مگر کسی انسان کی زندگی کی قیمت پر کسی مسئلے کا حل نہیں نکالا جاسکتا۔

ایک گھر سے کئی جنازے

چوہنگ کا یہ گھر اب ان سوالات کے درمیان خاموش ہے جن کے جواب شاید آنے والے دنوں میں تفتیش سے سامنے آئیں۔

پولیس کے لیے اب اصل چیلنج صرف واقعے کے ذمہ دار شخص کی نشاندہی کرنا نہیں، کیونکہ ملزم بھی موقع پر ہلاک ہوچکا ہے، بلکہ اس خونریز واقعے کے پسِ پردہ محرکات، خاندانی تنازع اور فائرنگ سے پہلے پیش آنے والے واقعات کی مکمل کڑیاں جوڑنا بھی ہے۔

یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ شادی کے باوجود سمعیہ بی بی اپنے والدین کے گھر کیوں مقیم تھیں، رخصتی کیوں نہیں ہوئی، دونوں خاندانوں کے درمیان کیا اختلافات تھے اور واقعے سے قبل کیا کوئی شکایت یا تنازع موجود تھا۔

ان سوالات کے حتمی جواب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکتے ہیں۔

لیکن ایک بات اس وقت بھی واضح ہے۔

ایک گھر سے صرف ایک شخص نہیں گیا۔ ایک ہی واقعے نے کئی خاندانوں سے ان کے اپنے چھین لیے۔

اور پیچھے رہ گئے وہ لوگ جو اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر ایک لمحے کے غصے کو روک لیا جاتا، اگر تنازع کسی اور راستے سے حل ہوجاتا، تو شاید آج یہ گھر پانچ جنازوں کی تیاری نہ کر رہا ہوتا۔
۔
۔
والسلام
سحر ایمان

19/08/2026

18 اگست 2008ء : جب پاکستان کا 'مرد آہن' ملک کو 'اللہ کے حوالے' کر کے گھر چلا گیا

|تحریر: نعیم احمد ناز|

18 اگست 2008ء کو پاکستان کے فوجی حکمران صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے 8 سال 10 ماہ اور 6 دن کے بعد اپنے منصب سے استعفی دے دیا، قوم سے اپنے الوداعی خطاب میں انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام 'پاکستان کا خدا ہی حافظ' کے الفاظ سے کیا۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ میاں محمد سومرو نے قائم مقام صدر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

جنرل پرویز مشرف کو 7 اکتوبر 1998 کو اس وقت پاکستان کا آرمی چیف مقرر کیا گیا جب جنرل جہانگیر کرامت نے وزیر اعظم نواز شریف سے اختلافات ہونے کی بناء پر استعٰفی دے دیا تھا۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے سری لنکا سے واپسی پر نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور آئین کو معطل کر کے چیف ایگزیکٹو کا خود ساختہ عہدہ سنبھال لیا۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے سات نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا اور احتساب کے لیے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ نیب کے روبرو سابق وزرا اعظم میاں محمد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو سمیت دیگر سیاست دانوں کے خلاف مقدمات کی سماعت ہوئی۔

27 جنوری 2000ء کو پرویز مشرف نے اعلٰی عدلیہ کے ججوں کے لیے پی سی او جاری کیا جس کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت ایک درجن کے قریب ججوں کو برطرف کر دیا گیا۔ 12 مئی 2000ء کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے 12 اکتوبر 1999ء کے فوجی اقدام کے خلاف درخواست پر جنرل پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کا حق دیتے ہوئے تین سال کے اندر انتخابات کرانے کا حکم دیا۔

اگست 2001ء میں جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں نیا ضلعی نظاِم حکومت متعارف کرایا جس کے تحت پہلے ملک بھر میں مرحلہ وار انتخابات ہوئے اور 14 اگست 2001 میں اس نظام کے تحت منتخب ہونے والوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔ 20 جون 2000ء کو جنرل پرویز مشرف نے بھارت یاترا سے قبل اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو برطرف کر کے ان کی جگہ خود صدر بن گئے جب کہ اسی روز پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو بھی تحلیل کر دیا۔

11 ستمبر 2001ء کو نائن الیون کے واقعہ کے بعد جنرل پرویز مشرف امریکا کے فرنٹ لائن اتحادی کی حیثیت سے سامنے آئے اور ان کو امریکا کی بھر پور حمایت حاصل رہی۔ 5 اپریل 2000ء کو صدر پرویز مشرف نے قوم سے اپنے خطاب میں صدارتی ریفریڈم کرانے کا اعلان کیا تھا۔ 30 اپریل 2000 کو متنازعہ ریفرنڈم ہوا جس کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف صدِر مملکت بن گئے۔

اگست 2002ء میں صدر جنرل پرویز مشرف نے معطل آئین میں ترمیم کے لیے ایل ایف او یعنی لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کے تحت صدر اسمبلی تحلیل کرنے، نیشنل سیکیورٹی کونسل کا قیام اور اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کر دی گئی۔

10 اکتوبر 2002ء کو پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی نے چھتیس دن بعد 16 نومبر کو حلف اٹھایا۔ جب کہ 19 نومبر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ہوئے جس میں چوہدری امیر حسین سپیکر اور سردار یعقوب ڈپٹی سپیکر کے طور پر منتخب ہوئے۔ 30 نومبر 2002ء کو صدر پرویز مشرف نے نئے وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔

31 دسمبر 2003ء کو صدر جنرل پرویز مشرف کی توثیق کے بعد 17ویں ترمیم پاکستان کے آئین کا باقاعدہ حصہ بن گئی۔ 17ویں ترمیم متحدہ مجلِس عمل کے ساتھ معاہدے کے بعد پیش کی گئی۔ اس بِل کے تحت صدر پرویز مشرف آئندہ سال 2004ء کے آخر تک فوجی وردی اتار دیں گے۔ یکم جنوری 2004 کو پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے 658 ارکان نے صدر پرویز مشرف کے حق میں ووٹ دیا۔

30 جون 2004ء کو چوہدری شجاعت حسین سے صدر پرویز مشرف نے وزارت اعظمی کے عہدے کا حلف لیا۔ 28 اگست 2004ء کو صدر پرویز مشرف نے شوکت عزیز سے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا۔

25 ستمبر 2006 کو صدر پرویز مشرف کی خود نوشت سوانح حیات ’ان لائن آف فائر‘ْ کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب فروخت کے لیے پیش کی گئی۔ اردو میں اس کا ترجمہ 'سب سے پہلے پاکستان' کے نام سے پیش کیا گیا۔

9 مارچ 2007ء کو صدر پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا اور اس طرح صدر مشرف کے خلاف ایک احتجاجی تحریک شروع ہو گئی۔ 12 مئی 2007ء کو کراچی میں افتخار محمد چوہدری کی آمد پہ ایم کیو ایم کی معاونت سے خون کی ہولی کھیلی گئی اور صدر پرویز مشرف نے مکا لہراتے ہوئے اس اقدام کو عوام کا ردعمل قرار دیا۔

10 جولائی 2007ء کو لال مسجد کا خونچکاں واقعہ پیش آیا۔ 27 جولائی 2007ء کو صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے درمیان ہونے والی ملاقات بغیر کسی اتفاق کے ختم ہو گئی۔ 5 اکتوبر 2007ء کو صدر مشرف کی منظوری کے بعد بدعنوانی مقدمات کی واپسی کا قومی مصالحتی آرڈیننس این آر او جاری کیا گیا۔

2 اکتوبر 2007ء کو جنرل پرویز مشرف نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی کو ترقی دے کر فوج کا نیا سربراہ جب کہ لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی نام زد کر دیا گیا۔

6 اکتوبر 2007ء کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں جنرل پرویز مشرف دوبارہ پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہو گئے جب کہ ان کی اہلیت کے حوالے سےصدارتی امیدوار جسٹس وجیہ الدین کی درخواست سپریم کورٹ کے فل بنچ کے روبرو زیر سماعت تھی۔

3 نومبر 2007ء کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگا دی۔ اُنہوں نے اعلی ججوں اور آئین کو معطل کر دیا اور پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔ 11 نومبر 2007ء کو صدر پرویز مشرف نے اسمبلیاں 15 نومبر کو ختم کرنے اور عام انتخابات جنوری کے اوائل میں کرانے کا اعلان کیا۔

15 نومبر 2007ء کو صدر مشرف نے قومی اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے پر اس کو تحلیل کر دیا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کو پاکستان کا نگران وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ 16 نومبر 2007 کو صدر جنرل مشرف نے نگران وزیراعظم اور کابینہ سے حلف لیا۔

19 نومبر 2007ء کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے ججوں نے صدر پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف دائر چھ میں سے پانچ آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ 22 نومبر 2007ء کو سپریم کورٹ نے صدر مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی۔ اس دن ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت بھی معطل کر دی۔

23 نومبر 2007ء کو سپریم کورٹ نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو درست قرار دیا۔ 27 نومبر 2007ء کو صدر مشرف نے فوجی دستوں اور اعلی فوجی افسران سے الوداعی ملاقات کی۔ 28 نومبر 2007 کو ایک فوجی تقریب کے دوران انہوں نے فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کر دی۔ 29 نومبر 2007ء کو صدر مشرف نے سویلین صدر کے طور پر دوسری مرتبہ ملک کے صدر کا حلف اُٹھا لیا اور ایک بار پھر قوم سے خطاب کیا۔ 9 دسمبر 2007ء کو صدر مشرف نے اعلان کیا کہ ملک سے ایمرجنسی 15 دسمبر کو اُٹھا لی جائے گی۔ 15 دسمبر 2007 کو صدر مشرف نے ملک سے ایمرجنسی ختم کرتے ہوئے آئین بحال کر دیا۔

18 فروری 2008ء کو ہونے والے انتخابات میں صدر پرویز مشرف کی حامی جماعت مسلم لیگ (ق) کو ناکامی ہوئی۔ 25 مارچ 2008ء کو صدر مشرف نے مخدوم سید یوسف رضا گیلانی سے وزارت اعظمی کے عہدے کا حلف لیا۔ 7 اگست 2008ء کو حکمران اتحاد میں شامل چار بڑی جماعتوں نے جنرل پرویز مشرف کا مواخذہ کرنے کا اعلان کیا جب کہ پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان اسمبلی نے الگ الگ قرارداد منظور کی جن میں صدر پرویز مشرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا گیا۔ 18 اگست 2008ء کو پرویز مشرف کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمید مرزا کو بھجوایا گیا استعفیٰ سوموار کی شام کو ہی قبول کر لیا گیا۔

#نوائےاوچ

ویتنام کی طویل جنگ میں بُری طرح مار کھانے اور عبرتناک شکست کے بعد امریکی واپس جانے لگے تو وہ ویتنامی جو اپنی قوم سے غدار...
19/08/2026

ویتنام کی طویل جنگ میں بُری طرح مار کھانے اور عبرتناک شکست کے بعد امریکی واپس جانے لگے تو وہ ویتنامی جو اپنی قوم سے غداری کے مرتکب ہو کر امریکی فوج کا ساتھ دیتے رہے تھے، اکٹھے ہو گئے کہ ہمیں بھی ساتھ لے جایا جائے،، ان کو امریکی فوج کی طرف سے کہا گیا کہ آخر میں ایک ہیلی کاپٹر آئے گا جو تم لوگوں کو لے جائے گا،،
جب امریکی فوج کی واپسی تکمیل کے قریب پہنچ گئی تو چند باقی رہنے والے امریکی فوجیوں کو لینے کے لیے ایک ہیلی کاپٹر آیا،،
ویتنامی غداروں کو احساس ہو چکا تھا کہ امریکی انہیں ٹشو پیپر کی مانند پھینک جائیں گے، سو انہوں نے جب ہیلی کاپٹر کی سیڑھی پر زبردستی چڑھنے کی کوشش کی تو امریکیوں نے سیڑھی کو نیچے گرا کر یہ بات رقم کردی کہ غدار کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہوتی،،
یہ ایک تصویر نہیں،، ایک الارم ہے.
یہی کچھ قوم پرستوں اور فرقہ پرستوں کے ساتھ امریکہ انڈیا اور اسرئل کرے گا ایک دن۔

🧐🤔
19/08/2026

🧐🤔

18/08/2026

جس گھر میں امن و امان، خیر اور سکون نہ ہو وہ گھر نہیں جہنم ہوا کرتا ہے اور بعض دفعہ بچے ایک جہنم سے چھٹکارا پانے کے چکر میں کسی دوسری جہنم میں جا پھنستے ہیں۔

خدارا اپنے بالغ لڑکوں کو جوان لیڈی  ٹیچرز  کے پاس پڑھنے کے لیے نا بھیجیں ۔🙏🙏🙏🙏لڑکیاں اور لڑکے کورٹ میرج کرتے وقت اپنے وا...
18/08/2026

خدارا اپنے بالغ لڑکوں کو جوان لیڈی ٹیچرز کے پاس پڑھنے کے لیے نا بھیجیں ۔🙏🙏🙏🙏

لڑکیاں اور لڑکے کورٹ میرج کرتے وقت اپنے والدین کے بارے میں سوچ لیا کریں ۔
میرے ایک ماموں زاد بھائی جن کی عمر 18 سال ہے ابھی فسٹ ائیر میں تھے تو جس ٹیچر کے پاس پڑھتے تھے اس کی شادی طے ہوگئ ٹیچر نے گھر سے بھاگنے کے لیے اپنے لائق اسٹوڈنٹ کا انتخاب کیا اور گھر سے بھاگ گے
شام کو نکاح نامہ اپنے ورثاء کو بیجھ دیا ۔8 دن بعد لڑکی والوں نے لڑکے کے پورے خاندان کے اوپر اغواہ کا جھوٹا پروپیگینڈا ایف آئی کی صورت میں ڈال دیا
اب یہاں پر بات یہ تھی ایک 32 سالہ لڑکی اپنے 18 سالہ اسٹوڈنٹ کو لے کر بھاگ گئ اور ہمارے پورے خاندان کو اس مسئلے میں الجھا گئی ۔ خیر لڑکی نے 164 کا بیان بھی دے دیا اب لڑکی والے لڑکے کے گھر پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں
آج کل ہر دوسری ٹیچر جوان لڑکے کو لے کر بھاگ جاتی ہے خدارا اپنے کم عقل جوان بچوں کو عورتوں کے پاس ٹویشن سینٹر نا بھیجیں ۔
پچھلے 15 دن سے جس صورتحال سے لڑکے کا خاندان گزارا ہے میں چشم دید گواہ ہوں آج کل لڑکی والے سچے ہو جاتے ہیں لیکن لڑکے والوں عزت کا جنازہ نکل جاتا ہے

پورے خاندان کو اذیت میں ڈال کر پانچ وقت کی نمازوں پر لگ گے ۔

18/08/2026

تاریخ پڑھیں، ایجادات کا جائزہ لیں،
جنگوں کی چالیں پڑھیں، غیرت میں کٹی گردنوں کو پڑھیں
ہنر مند، کامیاب، اور با وقار لوگوں کی فہرست پڑھ ڈالیں...

تاکہ آپ کو چاہت فتح علی جیسا
مسخرہ، نیشہ پومی جیسا جاہل، رجب ڈکی جیسے بے شرم
اور مجرہ کرتی بے حیا لڑکیاں ٹیلنٹڈ نہ لگیں
منقول



18/08/2026

ازدواجی تعلق اور پاکستانی عورتیں

رومانس اور فار پلے کے متعلق پچھلے آرٹیکل میں کافی
دوستوں نے سوال اٹھایا تھا کہ پاکستانی عورتیں ویسے ہی بستر پر جانے سے بہانے بناتی رہتی ہیں، فار پلے یا رومانس تو بہت دور کی بات ہے، اس سے مَیں نے نتیجہ نکالا کہ اکثر مرد اس بات پر پریشان نظر آتے ہیں کہ ان کی بیوی سیکس یا جسمانی تعلق کے لیے آسانی سے تیار کیوں نہیں ہوتی یا دور کیوں بھاگتی ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے عورت کی نفسیات، اس کی جسمانی کیفیت اور روزمرہ کے ماحول کو کھل کر سمجھنا ضروری ہے۔.

میرے پیشہ ورانہ تجربے کے مطابق اکثر عورتیں جو میرے پاس اس شکایت کے ساتھ آتی ہیں کہ وہ جسمانی تعلق کے لیے تیار نہیں ہو پاتیں یا دل نہیں کرتا، یا پھر بستر پر جسمانی تعلق کے دوران لاش کی طرح لیٹی رہتی ہیں اُن میں کچھ مخصوص قسم کی نفسیاتی گرہیں پائ جاتی ہیں

جذبات اور اظہار کی کمی

عورت کا جنس کی طرف رجحان مرد سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ مرد کے لیے سیکس اکثر ایک جسمانی ضرورت ہوتا ہے، جبکہ عورت کے لیے یہ جذبات اور محبت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر دن بھر شوہر کا رویہ سخت رہا ہو، بات چیت نہ ہوئی ہو یا صرف بستر پر جا کر ہی پیار یاد آئے، تو عورت محسوس کرتی ہے کہ اسے صرف ایک ضرورت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب تک جذباتی قربت نہ ہو، عورت جسمانی طور پر بھی خود کو تیار نہیں کر پاتی۔

تھکن اور گھریلو ماحول کا بوجھ

دن بھر گھر کے کام کاج، بچوں کی دیکھ بھال، کھانا پکانا اور دیگر ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد عورت جسمانی اور ذهنی طور پر شدید تھک جاتی ہے۔ رات کے وقت جب مرد کو آرام اور سکون ملتا ہے، عورت کا جسم مکمل طور پر تھکا ہوا ہوتا ہے۔ ایسے میں مزید جسمانی محنت کے بجائے وہ صرف سکون کی نیند چاہتی ہے۔

مَرد کی جلد بازی

اکثر مرد مباشرت کے دوران فور پلے (پیار، بوس و کنار، اور جسم کو تیار کرنے) کو اہمیت نہیں دیتے اور جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔ عورت کو جسمانی طور پر تیار ہونے میں مرد کی نسبت زیادہ وقت لگتا ہے۔ اگر شوہر فور پلے کے بغیر براہِ راست تعلق قائم کرنے کی کوشش کرے تو عورت کے لیے یہ عمل تکلیف دہ اور بے مزہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اگلی بار اس سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔

جسمانی تکلیف اور طبی مسائل

اگر عورت کو مباشرت کے دوران درد ہوتا ہو یا کسی قسم کی انفیکشن یا جینیاتی مسئلہ ہو، تو وہ قدرتی طور پر اس عمل سے دور بھاگے گی۔ شرم یا جھجھک کی وجہ سے اکثر خواتین اپنے شوہر کو اس تکلیف کا بتاتی بھی نہیں ہیں اور بہانے بنانے لگتی ہیں۔

جسمانی ساخت سے متعلق احساسِ کمتری

حمل، بچوں کی پیدائش اور عمر کے ساتھ عورت کے جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں جیسے وزن کا بڑھنا یا پیٹ کا باہر نکلنا. کئی خواتین اپنے جسم کے بارے میں احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتی ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ وہ اب اپنے شوہر کے لیے کشش نہیں رکھتیں۔ یہ خوف اور جھجھک بھی انہیں شوہر سے دور رکھتی ہے۔

غیر ضروری دباؤ اور سٹریس

ذہنی دباؤ اور تناؤ عورت کی جنسی خواہش ) کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔ اگر گھر میں ساس سسر کے مسائل ہوں، مالی مشکلات ہوں یا بچوں کا تناؤ ہو، تو عورت کا ذہن کبھی بھی بستر کی طرف مائل نہیں ہو سکتا۔

ماضی کے بُرے تجربات

اگر ماضی میں شوہر نے کبھی زبردستی کی ہو، اس کی مرضی کے بغیر تعلق قائم کیا ہو یا بستر پر اس کی خواہشات کا خیال نہ رکھا ہو، تو عورت کے ذہن میں ایک منفی تاثر قائم ہو جاتا ہے۔ اس خوف کے تحت وہ شوہر کے قریب آنے سے کتراتی ہے۔

ایسی صورتحال میں کوشش کیجئے کہ کھلے دل اور پیار سے اپنی بیوی سے بات کریں کہ وہ کس چیز سے پریشان ہے۔

بستر سے باہر بھی اس سے پیار کا اظہار کریں، اس کے کاموں میں ہاتھ بٹائیں اور اس کی تعریف کریں۔

بستر پر جلد بازی کے بجائے عورت کو جذباتی اور جسمانی طور پر تیار کرنے کے لیے وقت دیں۔

اگر تکلیف کا مسئلہ ہو تو کسی ماہرِ امراضِ جنسیات سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔

//خالدہ پروین.. ماہر جنسیات //

18/08/2026

۔ دو ہزار اٹھارہ میں تبدیلی کی ہوا چلی اور عمران خان بازی لے اڑا۔ دو ہزار بائیس میں عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وزارت عظمیٰ کا منصب شہبازشریف کے حصے میں چلا گیا۔ دو ہزار چوبیس کے الیکشن میں سندھ سے کلین سوئپ کرنے کے باوجود بلاول بھٹو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہو گئے ۔انہوں نے پی ٹی آئی کو ساتھ ملانے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب پی ٹی آئی نے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تو بلاول بھٹو اس وقت بھی شدید ناراض ہو گئے تھے ۔ کیونکہ اقتدار ان کی مٹھی میں آتے آتے ریت کی طرح پھسل گیا تھا۔
۔ یاد کریں جب صدر زرداری نے اپنے اکلوتے اور ہونہار بیٹے کو سیاست میں باضابطہ طور پر لانچ کیا۔ اس وقت وہ تازہ تازہ برطانیہ سے لوٹے تھے ۔ نہ لہجہ پاکستانی تھا اور نہ ہی سوچ مقامی ۔ ملکی مسائل تو دور انہیں سندھ اور کراچی کے مسائل کا بھی کوئی خاص ادراک نہ تھا۔ زرداری صاحب نے ان کیلئے بہترین سیاسی اتالیق مقرر کئے ۔ رضا ربانی ،شیری رحمٰن، نیربخاری،یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف جیسے جہان دیدہ سیاست دانوں کی قربت کی بدولت بلاول چند برسوں میں سیاست کے سارے دائوپیچ سیکھ گئے ۔آج وہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ملک کے وزیرخارجہ کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کا کردار نبھانا بھی سیکھ چکے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی کرسی اور ان کے درمیان صرف تین سال کا فاصلہ باقی تھا۔اب وہ اور ان کی پوری جماعت بڑی بے صبری کے ساتھ شہبازشریف کی حکومت کی مدت پوری ہونے کا انتظار کر رہی تھی ۔نئے الیکشن کی پلاننگ بھی ہو رہی تھی ۔ حال ہی میں انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مل بیٹھنے کی آفر بھی کی تھی ۔اشارے کنائے میں وزیراعظم شہبازشریف کو تحریک عدم اعتماد لانے کی دھمکی بھی دی تھی ۔ وہ موروثی سیاست کی ایک ایسی طاقتور علامت بن کر ابھر رہے تھے جسے شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا
لیکن۔۔۔!!!
اچانک سے ملک میں صوبوں کی تقسیم کا ایشو کھڑا ہو گیا۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے کے مجوزہ پلان نے بلاول بھٹو کے سارے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی وہ کرسی جو محض دو قدم کی دوری پر تھی ۔ ایک بار پھر قریب آتے آتے ۔ یکایک بہت دور چلی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ بلاول آج پھر ناراض ہیں۔اسی لئے انہوں نے آج کل دوبارہ چپ سادھ رکھی ہے ۔ نہ وہ مسلم لیگ ن پر گرج رہے ہیں ۔نہ وہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ پر برس رہے ہیں۔ ان کا گلہ اپنی جماعت سے ہے ۔ان کی ناراضی صدر پاکستان سے ہے ۔ اصل میں بلاول بھٹو کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر مجوزہ پلان کے تحت صوبہ سندھ پانچ انتظامی یونٹس میں تقسیم ہوگیا تو پیپلزپارٹی کے سر پر نہ توآسمان باقی رہے گا اور نہ ہی پیروں تلے زمین ۔ آپ یقیناً میری اس بات پر حیران ہونگے کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس پیپلزپارٹی کی سیاست یا بلاول بھٹو کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہونگے ؟؟؟
آپ ذرا بات کو سمجھیں۔ پیپلزپارٹی کی سیاسی طاقت کا اصل منبع صوبہ سندھ ہے ۔ سندھ میں صرف پیپلزپارٹی ہی واحد سیاسی قوت نہیں۔ پیرپگاڑا کی مسلم لیگ فنکشنل لگ بھگ چار اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی چار چھ نشستیں ہر الیکشن میں نکال سکتی ہے ۔ اسی طرح قوم پرست سیاسی جماعتوں کا ایک پریشر گروپ بھی اندرون سندھ موجود ہے ۔سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں مولانا فضل الرحمٰن کی جے یوآئی ف کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے ۔بدین میں فہمیدا مرزا اور ذوالفقار مرزا۔۔ جبکہ خیرپور میں نواب آف خیرپور پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ یہ تمام وہ دھڑے ہیں جنہیں صدر آصف علی زرداری نے اپنی مفاہمت کی سیاست کے ذریعے پچھاڑا۔کسی کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ اور کسی کے گرد ایسا حصار کھینچ دیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی آگے نہ بڑھ سکا۔اور تھک ہار کر خاموش ہو کر بیٹھ گیا۔ نواب آف خیرپور، ذوالفقار مرزا اور پیرپگاڑا اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ یہ لوگ عرصہ دراز سے خاموش ہیں۔ ان میں سے بعض تو وقتی طورپر سیاست سے لاتعلق بھی ہوگئے ۔یا لاتعلق کر دیئے گئے ۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ سندھ کی سیاست میں اجنبی ہیں۔ ان سب کا اپنے اپنے حلقوں میں مناسب ووٹ بینک موجود ہے ۔ وہ پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔ اگر انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ دستیاب ہو تو وہ اندرون سندھ کے ہر ضلعے میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔
اب اگر آپ صوبوں کی تقسیم کا مجوزہ منصوبہ دیکھیں تو سندھ کو پانچ انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے ۔ نمبر ون کراچی ،نمبر ٹو حیدرآباد،نمبر تھری میر پور خاص، نمبر فور سکھر اور نمبر فائیو لاڑکانہ ۔۔مجوزہ پلان کے تحت اگر کراچی اور حیدرآباد دونوں الگ الگ انتظامی یونٹس بن جائیں تو پیپلزپارٹی وہاں ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کا مقابلہ کیسے کرے گی ۔؟؟؟اسی طرح میرپورخاص میں مسلم لیگ فنکشنل کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔وہ مسلم لیگ ن ،ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر وہاں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے ۔ رہ گئے لاڑکانہ اور سکھر۔۔ تو ان دونوں انتظامی یونٹس میں پی ٹی آئی ، جے یوآئی ف،ایم کیوایم پاکستان، قوم پرست جماعتوں کا ایک وسیع ووٹ بینک موجود ہے ۔ اگر یہ ساری جماعتیں سکھر اور لاڑکانہ کے انتظامی یونٹس میں اپنی حکومت نہ بنا سکیں تو بھی وہاں ایک مضبوط اپوزیشن بن کر ابھر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پیپلزپارٹی کا یہ بیانیہ ختم جائے گا کہ وہ سندھ دھرتی کی اصل وارث ہے ۔ یہ تاثربھی مٹ جائے گا کہ سندھ میں سیاہ وسفید کی مالک پیپلزپارٹی ہے ۔ نئے انتظامی یونٹس کی بدولت پیپلزپارٹی کا یہ راج سنگھاسن گرنے والا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کو جس ووٹ بینک کا زعم تھا۔ وہ ووٹ بینک اب تقسیم ہونے والا ہے ۔ اور یہ تقسیم کسی سیاسی انجیئرنگ کی بدولت نہیں ہوگی بلکہ پیور آرگینک ہوگی ۔آپ سندھ کے ووٹر کو دوش نہیں دے سکتے ۔ اصل میں پچھلے کئی برسوں سے انکے پاس پیپلزپارٹی کے سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا۔ وہ مجبوری میں تیر پر ٹھپے لگاتے رہے ۔ کل کلاں جب ہر یونین کونسل میں پیپلزپارٹی کے مخالف ٹکر کا امیداوار کھڑا ہوگا۔ ووٹرز کوایک دوسری چوائس دستیاب ہو گی ۔ وہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگا۔ میں آپ کو گارنٹی دینے کو تیار ہوں۔ آپ سندھ میں سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کریں۔پولنگ سٹیشنز کو خوف اور دبائو سے آزاد کر دیں۔ پوری دنیا کو پتا چل جائے گا کہ پیپلزپارٹی سندھ کے عوام میں کتنی مقبول ہے ۔ بلاول بھٹو کی ناراضی اور خاموشی کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ ان کی مقبولیت کا راز کھلنے والا ہے ۔ پندرہ بیس سال کی محنت سے انہوں نے جو بیانیہ بنایا تھا۔ اس بیانیئے کی قلعی اب کھلنے والی ہے ۔ سندھ اب صرف پیپلزپارٹی کی ملکیت نہیں رہے گا۔ بلکہ اس کے مالک سندھی ہونگے ،مہاجر ہونگے ،مسلم لیگ فنکشنل،مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی اور جے یوآئی ف سب اقتدار میں اپنا اپنا شیئر وصول کریں گے۔

Address

Sargodha

Telephone

+923000633098

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lala's Kitchen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share